۔،۔ وزیر اعظم عمران خان کاکامیاب دورہ چین۔ ( پہلو۔صابر مغل ) ۔،۔


وزیر اعظم پاکستان اپنے تیسرے اور تین روزہ کامیاب سرکاری دورہ چین کے بعد واپس پہنچ چکے ہیں،بیجنگ کے ہوائی اڈہ پہنچنے پر چین کے وزیر ثقافت لیو شو گینگ،پاکستان میں تعینات چینی سفیر پاؤ جنگ اور چین میں پاکستانی سفیر نغمانہ ہاشمی نے ان کا استقبال کیاتھا،وزیر اعظم اس اہم دورہ کے موقع پر چینی قیادت جن میں صدر شی جن پنگ،وزیر اعظم لی چیانک سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداران و سرمایہ کاران سے ملاقاتوں کے دوران متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط،سی پیک منصوبے میں توسیع،ایم ایل ون،دنیا کے سب سے اہم اور سلگتا مسئلہ کشمیر کے علاوہ پاک چین جوائنٹ کوارڈینیشن کمیٹی بھی زیر غور آئے، عمران خان کے وفد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،وزیر ریلوے شیخ رشید،وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار،مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سمیت کئی اعلیٰ حکومتی عہدیداران شامل تھے ان سے قبل چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ پہنچے جنہوں نے پی ایل آے آرمی کمانڈ،سینٹرل ملٹری کمیشن کے نائب چیرمین،کمانڈر سدرن تھیئیر کمانڈ سمیت دیگر فوجی قیادت سے ملاقات کی،آرمی چیف وزیر اعظم کی چینی صدر و وزیر اعظم ملاقاتوں کا بھی حصہ رہے،گذشتہ دورہ چین کے دوران دونوں ممالک کے مابین سمجھوتوں اور اقتصادی تعاون،تجارت،اور دیگر شعبہ جات میں کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے تھے،وزیر اعظم عمران خان کا یہ دورہ چین کے ساتھ پاکستان کے معاشی،سرمایہ کاری اور سٹریجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں انتہائی معاون ثابت ہوا،دورہ کے آخری روز چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات انتہائی مفید رہی اس موقع پر عمران خان نے کہاعالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھانے میں کردار ادا کرے،چین پاکستان کا ثاابق قدم اتحادی،مضبوط شراکت دار اور آئرن برادر ہیں سی پیک منصوبوں کی جلد تکمیل اولین ترجیح ہے،دو ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے انسانی المیے کی صورتحال پیدا ہوئی،چینی صدر نے کہاتمام معاملات پر چین کی طرف سے غیر متزلزل حمایت اورسماجی و اقتصادی ترقی،فلاح و بہبود جاری رہے گی پاکستان کے ساتھ شراکت داری چٹان کی طرح مضبوط ہے اور یہ تعلق مزید وسیع،مضبوط اور گہراہو گاایوان صدر میں دئے گئے ظہرانے اور ملاقات کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان کی خود مختاری،سا لمیت اور عوامی مفاد پر پاکستان کے ساتھ ہیں کشمیر تاریخ کا چھوڑا ہوا تنازع ہے اور مسئلہ کو پیچیدہ بنانے والے کسی بھی یکطرفہ اقدام کی مخالفت کرتے ہیں،پر امن،مستحکم،معاون اور خوشحالی جنوبی ایشیا کے تمام فریقین کے مفاد میں ہے،تمام منصوبوں پر عمل درآمد،ایم ایل ون کا آغاز،سپیشل اکنامک زونزکا قیام،بجلی،پٹرولیم،گیس،زراعت،تعلیم،تجارت،سرمایہ کاری،معیشت،دفاع،سیکیورٹی معاملات،سماجی،فلاحی،فنی و ثقافتی روابط سمیت تمام اہم اقدامات ہماری ترجیحات میں شامل ہیں،عمران خان نے اس موقع پر چیر مین پیپلز نیشنل کانگرس کے چیر مین لی شوان شو سے بھی ملاقات کی اور انہیں دورہ پاکستان کی دعوت دی وہ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، ،عمران خان نے چین پہنچنے کے بعد سب سے پہلے چینی سرمایہ کاروں جن میں چائنہ گیرو بہ سانرچی گروپ(سی بی جی ایس)کے چیر مین بالیوزی شیانگ جن کی کمپنی چائنہ انرجی گروپ کی اہم ممبر اور اس وقت 100ممالک میں شعبہ توانائی کے حوالے سے کام کر رہی ہے،عمران خان نے لانگ مارچ ٹائر کمپنی،اورئینٹ کمپنی کے اعلیٰ عہدیداران سے بھی ملاقات کی تھی،لانگ مارچ ٹائر کمپنی کا شمار دنیا کی چند بہترین ٹائر بنانے والی کمپنیوں میں ہوتا ہے،دورہ کے دوران زراعت،صنعت،سماجی و اقتصادی شعبوں،میں تعاون،ان کو فروغ دینے مین مزید کامیابی حاصل ہوئی ہے،فریقین نے چاول،گندم،مکئی،سویا بین،چینی اور تمباکو سمیت دیگر پاکستانی زرعی اجناس میں کوٹے کے خاتمے کا بھی جائزہ لیاگیا،چین وہ عظیم پڑوسی ملک ہے جو آزادی پاکستان کے محض دو سال بھی ہی آزاد ہوا چینی آزادی کے فوری بعد پاکستان نے اسے بطور خود مختار مملکت تسلیم کیا،دونوں حکومتوں کی جانب سے یہ ماٹو سامنے آیا کہ۔اگر چین سے پیار ہے تو پاکستان سے بھی پیار کرو،پاکستان نے کہاپاک چین دوستی ہمالیہ کی بلند اور سمندروں کی طرح گہری ہے،چین کا بھی بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعہ 1962ء میں شروع ہو گیا تھا،چینی وزیر اعظم لی چیانک نے عمران خان کے اعزاز میں گریٹ ہال بیجنگ میں استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیاجہاں پہنچنے پر وزیر اعظم پاکستان کا پرتپاک استقبال اورگارڈ آف آنر کے ساتھ19توپوں کی سلامی دی گئی دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے،آرمی چیف،ڈی جی آئی ایس آئی،ڈی جی آئی ایس پی آر بھی اس موقع پر ہمراہ تھے،بیجنگ میں چائنا کونسل میں پاکستان چین کے درمیان تجارت،سرمایہ کاری کانفرنس میں چینی عوام کو70ویں یوم تاسیس پر مبارکباد دی اور کہاہم نے دیکھا چین نے کس طرح جدو جہد اور غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے دنیا کی تیز ترین ترقی کرنا والا ملک بن گیاایسا انسانی تاریخ میں نہیں ہوا،ہم سمجھنا چاہتے ہیں کہ چین نے قوم کو کیسے غربت سے نکالا،چین نے سرمایہ کاری و دیگراہم اقدامات کے علاوہ بد عنوانی کے خلاف تھے صدر شی جن پنگ کی سب سے بڑی جنگ کرپشن کے خلاف تھی انہوں نے چند سالوں میں وزارتی سطع کے 400لوگوں کو سزا دی،چند روز قبل ایک چینی کے گھر سے سونا برآمد ہوا جسے 5روز بعد سزا سنا دی گئی،کاش میں بھی چینی صدر کی مثال پر عمل کر تے ہوئے500کرپٹ لوگوں کو جیل میں ڈال دیتا،پاکستان ہی نہیں تمام ترقی پذیر ممالک میں پسماندگی اور ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ہے،سی پیک پر جلد کام کی وجہ سے سی پیک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے،دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات کے علاوہ معاہدات اور یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی،دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ ان کے درمیان تجارت،معیشت اور سرمایہ کاری کے مواقع میں مزید اضافہ ہو گا،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پیپلز لبریشن آرمی ہیڈ کوارٹر کا دورہ کرتے ہوئے چینی عسکری قیادت سے ملاقات کی جہاں آرمی چیف کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا، بلاشبہ چین پاکستان کا بہترین ساتھ اور عظیم دوست ہے جو مسئلہ کشمیر کے ساتھ بھی ہر لحاظ سے پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے،بیجنگ شہر کے وسط میں شہر ممنوعہ سے جنوب کی جانب دو رنگین دروازے ہیں جو مرکزی راستے کے چوراہے پر لگے ہیں جن میں سے ایک تیانمنن ہے جو دنیا بھر میں مشہور ہے جس پر ماؤزے تنگ کی تصویر آویزاں (لٹکی) ہوئی ہے،تیانمنن اسکوائر موجودہ جدید چینی ریاست کا علامتی مرکز ہے جس کی بنیاد ماؤزے تنگ نے رکھی تھی،یہاں اس سلطنت کے مرکز میں ماؤزے تنگ نے70سال قبل یکم اکتوبر1949کو عموامی جمہوریہ چین کی آزادی کا اعلان کیا تھا،اس سے قبل جیانگ کالی کے پیرو کار کوومینانگ قوم پرستوں کے مابین اقتدار کے حصول کے لئے جھڑپوں کا آغاز ہوا تھا ان جھڑپوں کے نتیجے میں تقریباً 4کروڑ افراد لقمعہ اجل بن گئے تھے،چین بیسویں صدی مین شدید معاشی پسماندگی کے ساتھ داخل ہوا بیرونی حملہ آوروں اور محکومیت کا بد ترین شکار بھی رہااس وقت چینی باشندوں کو دوسرے درجے کے لوگ سمجھے جاتے تھے،یہ وہ وقت تھا جب غرب اور پسماندگی کے باعث جدید دنیا کے ائیر پورٹس پر چینی مرد و خواتین سے بھری ہوئی پروازوں کو بہتات تھی ان لوگوں کو نہ صرف مزدوری،معاشی مشقت بلکہ غیر اخلاقی سرع گرمیوں کے لئے بھی استعمال کیا جاتا،(اب وہ وقت بھی ہے کہ دنیا بھر کے ائیر پورٹس پر چینی ماہرین چینی سرمایہ کاربڑے طمطراق اور شان سے اترتے ہیں)چین کیمونسٹ پارٹی کو اقتدار میں 70سال مکمل ہو گئے ہیں جس کا امسال بھر پور جشن منایا گیااس سیاسی پارٹی نے عوامی جمہوریہ چین کو ایک غریب ملک سے ایک اعلیٰ اور سپر پاور میں تبدیل کر دکھایاجب یہ پارٹی بر سر اقتدار آئی تھی جب چین کے کسی سے نہ تجارتی تعلقات تھے نہ سفارت،خود انحصاری کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھاتب چین نے عالمی سطع پر انتہائی اہم اصلاحات کو متعارف کرایا،اسی وجہ سے تجارت کے لئے سرمایہ کاری آئی،کروڑوں لوگ غربت کی دلدل سے نکل گئے عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کی عمدہ پالیسیوں کی بدولت85کروڑ وافراد کو غربت سے نکالا گیا2020 تک غربت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی،نہ صرف چین کی اقتصادی ترقی بلکہ فوجی طاقت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا اب چین اور امریکہ کی فوجی طاقت فرق بہت کم رہ گیا ہے،چین کی 20لاکھ فوج افرادی قوت کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے،چین کی کیمونسٹ پارٹی کو حکومت سے لے کر پارلیمان، پولیس،فوج،ذرائع ابلاغ پر مکمل اختیار حاصل ہے،9کروڑ ارکان پر مشتمل اس پارٹی کا ڈھانچہ ایک تکون کی شکل میں ہے جس میں چینی صدر شی جن پنگ سب سے اوپر ہیں، چین میں کئی سیاسی پارٹیاں ہیں مگر عملی طور پریک جماعتی حکومت ہے، اب چین کا سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ جس کی 71ممالک تک براہ راست رسائی ہے سے ترقی کی نئی منازل حاصل ہوں گی،موجودہ صدر نے2012میں اقتدار سنبھالا پارٹی نے ان کی بہترین پالیسیوں پر ان کا مقام ماؤزے تنگ کے برابر کر دیا ہے وہ سیاسی طور پر پولٹ بیورو،سٹیٹ کونسل،سینٹرل ملٹری کمیشن اور نیشنل پیپلز کانگرس یا پارلیمنٹ کے سربراہ ہیں جبکہ وزیر اعظم سٹیٹ کونسل کا سربراہ ہوتا ہے،چین کی بہترین عوام دوست پالیسیوں کو پاکستان میں بھی لاگو کیا جانا ضروری ہے مگر بد قسمتی سے یہاں کھاؤ پیو موج اڑاؤ پالیسی ہی ہم پر مسلط رہی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے