۔،۔مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ اور دھرنا۔( پہلو۔صابر مغل ) ۔،۔


گذشتہ رات اسلام آباد لاہور موٹر وے پر ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب گاڑی سے دیکھا تو نیب کمپلیکس جو اسی موٹر وے سے محض چند میٹر دوری پر اندر قائم نیب تھانہ کی بلڈنگ میں ایک تنگ سی راہداری کے ساتھ مشرقی جانب حوالات ہے،میاں نواز شریف کو چوہدری شوگر ملز میں خاندانی افراد کے لئے تقریباً41کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کے الزام میں دوبارہ گرفتار کر کے یہاں بند کیا گیا ہے تب سوچا کہ نواز شریف مولانا کا ساتھ دینے کا باضابطہ اعلان نہ کرتے تو اور کیا کرتے اس روز ان کی باڈی لینگوئج تذبذب کا شکار نظر آئی،میاں نواز شریف نے یہاں پہنچنے سے قبل ہی بہت کچھ نہ صرف سوچ لیا بلکہ اس پر عملی جامہ پہنانے کے لئے بقول کیپٹن صفدر کہ اب مولانا فضل الرحمان کے ساتھ احتجاج کو لندن سے حسین نواز شریف دیکھیں گے اس بیان نے جہاں مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں ہلچل مچا دی، میاں شہباز شریف بھی کڑے امتحان میں داخل ہو گئے بہت دراڑیں نظر آ رہی ہیں، احتساب عدالت کے باہرنواز شریف نے میڈیا کو بتایا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کے جذبے کو سراہتے اور آزادی مارچ اور دھرنے کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں شہباز کو خط میں سب لکھ دیا ہے اسمبلیوں سے فوری استعفوں پر مولانا کا مشورہ نہ مان کر بڑی غلطی کی ان کی بات درست تھی،ہم کسی نوعیت کے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں، ان کی حکومت مخالف مہم قابل تعریف ہے،عام انتخابات2018میں پی ٹی آئی کی کامیابی اور کئی نامور سیاسی ہستیوں کی شکست کے ساتھ ہی آل پارٹیز کانفرنس بلاکر انتخابی نتائج مسترد کرتے ہوئے نئے انتخابات کا مطالبہ بھی داغ دیاپی ٹی آئی کی جیت میں فوج کا نام لئے بغیر اسے خلائی مخلوق کا نام دے دیا،عمران خان کو نا اہل،سلیکٹیڈ سمیت نہ جانے کیا کیا خطابات سے نوازا گیا عمران خان تقریباً ہر سیاسی تقریر میں مولانا کو ڈیزل کے نام ضرور یاد کرتے اور داد سمیٹتے،الیکشن میں ناکامی کے بعدبہت بے قرار بے صبرے مولانا فضل الرحمان نظر آئے،وہ مسلسل 6مرتبہ ایم این ے منتخب ہوکر ہر حکومت کے ساتھ معاملات طے کر لیتے تھے مگر اس بار وہ شروع دن سے ہی انتہائی مایوس دکھائی دیئے،مولانانے اسلام آباد میں دھرنے اور لانگ مارچ کو آزادی مارچ کا نام دینے سے پہلے سیاسی قوت کے مظاہرے کو تحفظ ناموس رسالت کا نام دے کر مذہب کی آڑ میں قوم کو کسی نئی ڈگر پر چلانے کی کوشش میں تھے جس پر کئی سیاسی پارٹیوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تو جے یو آئی (ف)نے اس احتجاجی مہم کا نام بظاہر بدل دیا،اب اعلان کے مطابق لانگ مارچ 27کو شروع ہو کر30تاریخ کو اسلام آباد پہنچے گا اور یہ دھرنااس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت سے چھٹکارا نہیں پایا جاتا ہے،ہمارے ملین مارچ کے مقاصد تحفظ ناموس رسالت اور اسلام دشمن قوتوں کا راستہ روکنا،عوام کی بد حالی کی ذمہ دار حکومت ہے ہمارا مسئلہ ڈینگی نہیں ڈینگا ہے،مولانا فضل الرحمان سیاسی قوت کے حوالے سے دیگر کئی جماعتوں سے پیچھے ہیں مگر ان کے مطالبات سمجھ سے بالاتر ہیں،وہ تحفظ ختم نبوت کے نام پر 500۔500روپے چندہ بھی جمع کرتے رہے اور کر رہے ہیں،وہ ساتھ ساتھ اداروں باالخصوص فوج کو بھی غیر جانبداری کا کہہ رہے ہیں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز بھی دھرنے کے لئے 50کروڑ بھیج چکے ہیں،مزید فنڈنگ جاری ہے،وزیر اعظم نے جہاں کہا کہ ہم مولانا کے ساتھ مذاکرات کا آپشن کھلا رکھتے ہیں وہیں اس دھرنے وغیرہ سے نبٹنے کے لئے اعلیٰ سطعی مشاورت بھی تقریباً مکمل ہو چکی ہے مولانا مدارس کی اصلاحات سے پریشان ہیں اصلاحات ہو گئیں تومدارس کے طلباء کو سیاسی مقاصد کے لئے کبھی استعمال نہیں کیا جا سکے گا کسی نوعیت کی قانون شکنی برداشت نہیں کی جائے گی،،بعض اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ حکومت مولانا کو پر کشش پیکجز کی پیشکش کر چکی ہے مگر انکار،مولانا اس احتجاجی کال میں مدرسوں کے طلباء کو مکمل استعمال کریں گے،گو مولانا نے اسلام آباد پہنچنے کی تاریخ30اکتوبر بتائی ہے مگر ان کے ہزاروں کارکن عام مسافروں کی طرح 27سے پہلے ہی عام مسافروں کی طرح راولپنڈی،اسلام آباد اور گردو نواح میں منتقل ہو جائیں گے جن کے رہنے اور کھانے کا انتظام کیا جا چکا ہے دوسرے آپشن میں لانگ مارچ اور دھرنے میں حصہ لینے والی جماعتوں کے کارکن پنجاب سے دریائے جہلم اور خیبر پختونخواہ جانب سے اٹک سے آگے پہنچ جائیں گے یہ لوگ جہلم،چکوال،کلر کہار،دینہ،گجر خان،ٹیکسلا،اٹک،مری،وغیرہ میں پڑاؤ ڈالیں گے تا کہ انہیں راستے بند کر کے دریائی راستے عبور کرنے سے نہ روکا جا سکے،دھرنے کے شرکاء کو صرف100روپے میں تین وقت کا کھانا مہیا کیا جائے گا، اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کو مکمل جام کر دیا جائے گا مولانا کی گرفتاری کی صورت میں متبادل منصوبہ بندی کے تحت پھر جگہ جگہ مارچ،دھرنا،توڑ پھوڑ اور ہر چیز کو جام کرنے کی کوشش کی جائے گی،شاہراہ دستور کو خاص طور پر ٹارگٹ میں رکھا گیا ہے،،اب حکومت اس سے کیسے نبٹتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا،حکومت نے انٹیلی جنس رپورٹس اور پولیس کی سپیشل برانچ کے ذریعے تمام متحرک کارکنوں کی فہرستیں مرتب کر لی ہیں ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے،مدارس کے اساتذہ اور طلباء کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جا چکا ہے وقت اآنے پر بڑی گرفتاریوں اور نظر بندی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جڑواں شہروں میں 25ہزار سے زائد پولیس اہلکار اور اینٹی رائٹ فورس کی تعیناتی عمل میں آئے مختلف اضلاع سے پولیس اہلکاروں کی فہرستیں بھجوا دی گئی ہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ نے دھرنا روکنے سے متعلق درخواست کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا ہمارا واضح فیصلہ ہے کہ دھرنا مقامی ضلعی انتظامیہ کی اجازت سے مشروط ہو گا، وزیر اعلیٰ خیبر پخونخواہ محمود خان نے لانگ مارچ کو طاقت سے روکنے کا اعلان کر دیا ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا مولانا آئیں تو سہی پھر دیکھا جائے گاوفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہاحکومت کو ستے ہی خیراں ہیں کوئی مائی کا لال حکومت نہیں گرا سکتا مولانا اسلام آباد آئے تویہ ان کی خود کشی ہو گی،اسلام آباد میں ہونے والی رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد چارنکات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا، 1۔وزیر اعظم استعفیٰ دیں اور حکومت ختم کی جائے،2۔نئے صاف اور شفاف انتخابات،3۔ان عام الیکشن میں فوج کا دور دور تک کسی نوعیت کا عمل دخل نہ ہواور4۔اسلامی آئینی و قانونی دفعات کا تحفظ یقینی بنایا جائے،مسلم لیگ (ن) کا اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ شہباز شریف جیل جا کر نواز شریف سے حتمی منظوری لیں گے مگر شہباز شریف کمر درد کے باعث جیل نہ گئے تو نواز شریف نے کیپٹن (ر) کے ذریعے سب واضح کر دیایوں مسلم لیگ میں تضاد ابھر کر سامنے آیا صفدر کے ذریعے دھرنے میں شرکت اور حسین نواز کی نگرانی سے شہباز شریف کو سخت دھچکا پہنچا ہے یہ الگ بات کہ وہ کسی مصلحت کے تحت اس کا حصہ بن جائیں، میاں شہباز شریف ایسے حالات میں کسی جارحیت نہ کرنے پر اصرار کرتے رہے ہیں تاہم مولانا کو اصل بات کا علم تھا تبھی انہوں نے کہاپارٹیوں کے فیصلے قیادت اور لیڈر ہی کرتے ہیں،آصف علی زرداری نے احتساب عدالت پیشی وقت پہلے کہا تھا انشا ء اللہ پھر کہا ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں یہ منافقوں کی حکومت ہے،بلاول بھٹو زرداری نے پہلے کہا تھا مولانا کے ساتھ ہماری اخلاقی ہمدردی ہو گی ہم کسی صورت ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے جمہوریت کو نقصان پہنچے مگر ایک دھاندلی زدہ حکومت کو گھر جانا ہی ہو گاحکومت نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے (پہلے ہم کرتے رہے)،تا دم تحریر پیپلز پارٹی کا کوئی واضح مؤقف نہیں آ سکا،مریم نواز نے کہا حکومت جس غلط طریقے سے آئی ویسے ہی واپس جائے گی،مولانا فضل الرحمان نے کارکنوں سے کہا اسلام آباد پہنچ کر اس حکومت کو چلتا اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کریں،مفاہمت کا کوئی امکان نہیں،دھرنا کی تاریخ آگے بڑھانے کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہیں اب یہ جنگ حکومت کے خاتمہ کے ساتھ ہی ختم ہو گی روکا گیا تو سارا ملک جام کر دیں گے،معاشی صورتحال بد تر،بد حالی اور قومی یکجہتی کا فقدان،ملک کا ہر طبقہ پریشان،فیکٹریاں کارخانے بند،سفارت کاری ناکام،سی پیک رک گیا،حکمران کشمیر فروش ہیں،کشمیرکا سودا کیا گیا یہ حکمران عالمی سازش کا شکار اور حصہ ہیں مولانا کو ماضی میں یہ سب نظر کیوں نہیں آیا؟مولانا طاہر اشرفی نے کہافضل الرحمان اقتدار سے محرومی پر حواس باختہ ہیں،مولانا عبدالقوی نے پیش گوئی کی ہے کہ مولانا27اکتوبر کو بیرون ملک ہوں زردد عمامہ پہن کر تحفظ ناموس رسالت پر چندہ مانگنا بہت بڑی نحوست ہے ساری دنیا میں تحفظ ختم نبوت کا کیس لڑ نے والے کے خلاف مفاداتی جنگ پر پاکستان کے علماء انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے،JUIF کے رہنما کہتے ہیں قائد اعظم نے بھی مذہب کا کارڈ کھیلا، انہوں نے تو دو قومی نظریہ پر وطن حاصل کیا، سیاسی مفاد کے حصول کے لئے ختم نبوت کا نام استعمال کرنا شرمناک اور بد قسمتی ہے، مولانا کو وہ وقت یاد نہیں جب تحریک لبیک نے اسلام آباد سمیت ملک بھر میں مظاہرے کئے تب کیا ہوا تھا؟قادیانیوں کے حوالے سے آئین کے ساتھ چھیڑ خوانی کرنے والے کون تھے؟کیا تحریک لبیک کا وہ سب کرنا جھوٹ،فراڈ اور دکانداری تھی؟مولانا کو یہ بھی یاد نہیں کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے عوام کو پیسنے والوں کا انہوں نے ہمیشہ ساتھ دیا، بے نظیر بھٹو کے خلاف(عورت) کی حکمرانی پر فتویٰ دیا مگر مفادات بھی انہی سے حاصل کئے،مولانا فضل الرحمان کا نظریہ کیا ہے؟ایک سیاسی اوپر سے عالم دین پھر کرپٹ زدہ ٹولے کا ساتھی کیسے؟ آخر مولانا کو کیا مجبوری ہے؟یہی بات ہر ایک کی سمجھ سے باہر ہے،وہ چاہتے ہیں؟ ان کی منشا و مراد کیا ہے؟وہ عمران کو ہٹا کر خود تو وزیر اعظم بننے سے رہے وہ لانا کسے چاہتے ہیں؟دوسروں کو کٹھ پتلی کہنے والے خود کیوں کٹھ پتلی بن بیٹھے ہیں،یہ الگ بات ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے عوامی سطع پر عوام کا کچومر نکال کر رکھ دیا ہے مگر اس کا متبادل مولانا فضل الرحمان کا ایجنڈا ہی ہے؟ ذرہ تصور کریں جس ملک کی فوج جسے یہ خلائی مخلوق کے نام سے نوازتے ہیں کسی عالمی سازش کا حصہ بن جائے تو وہاں عالم کیا ہو گا؟ مگر ہماری فوج تو دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہیں،بڑے سے بڑے دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،ایسے الزامات نہ صرف شرمناک ہیں بلکہ عالمی سطع پر جگ ہنسائی بھی،مقبوضہ کشمیر قیامت کا سماں،عالمی حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم یکجا ہوں مگر کہتے ہیں حکومت نے کشمیر فروخت کر دیا ہے ذرہ بتائیں تو سہی کیسے؟سیاسی لیڈران اپنی اپنی لڑائی لڑیں جو بھی آیا وہ عوام میں سے ہو گا نہ عوام کا خیر خواہ ہو گا مگر مذہب اور وہ بھی ناموس رسالت جیسے حساس ترین معاملے پر سیاسی دکانداری شرمناک ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے