۔،۔ مقبوضہ وادی کشمیر میں لاک ڈاون 71ویں روز میں داخل ہو گیا۔،۔

شان پاکستان مقبوضہ کشمیر۔ آرٹیکل٭ 370اور 35A٭کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیر آئینی عمل کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 71ویں دن سے کرفیو (لاک ڈاوُن) نافذ ہے۔ ذرائع آمد و رفت، مواصلاتی نظام،کاروباری سرگرمیاں، ادویات کی قلت، غذائی بحران نے کشمیری عوام کو سخت اذیت سے دو چار کر رکھا ہے، مسلمانوں کو مسجدوں میں نما تک پڑھنے کی اجازت نہیں۔ لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔، جنت نظیر وادی مقبوضہ کشمیر میں زندگی سسکنے لگی ہے اور وادی میں نام نہاد سرچ آپریشن جاری ہے،وادی میں خوف کے سائے برقرار ہیں اور قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنادی۔وادی میں حالات تاحال کشیدہ ہیں جبکہ کشمیری کرفیو توڑ کر سڑکوں پر نکل آئے جبکہ خواتین کی بڑی تعداد نے بھی احتجاج میں حصہ لیا۔ دوسری جانب کٹھ پتلی انتظامیہ کے جانب سے 71 روز سے جاری بندش کے باعث رابطے منقطع ہیں،پابندیوں کے باعث کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔قابض بھارتی فوج کی جانب سے پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ ،بھارتی طالبات بھی مودی سرکار کے خلاف میدان میں اتر آئیں اور انہوں نے وادی میں کرفیو ہٹانے کا مطالبہ کر دیا۔سماجی کارکن شبنم ہاشمی کہتی ہیں کہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنا غلط فیصلہ ہے،وادی کے حالات معمول پر لائیےجائیں۔مودی سرکار کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے میں ناکام ہے اور وادی میں قابض بھارتی فوج کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔وادی میں موبائل فون،انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں اور وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت برقرارہے۔تاہم پاکستان کی مقبوضہ کشمیر پر سفارتی کوششیں بھی رنگ لانے لگیں ہیں۔ کشمیر میں پوسٹ پیڈموبائل فون سروس آج سے بحال کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے