۔،۔ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں کتاب میلے کا اختتام۔نذر حسین۔،۔

نذر حسین شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔ فرینکفرٹ کتاب میلہBuchmesse کو بین الاقوامی حیثیت حاصل ہے جو ہر سال اکتوبر کے مہینہ میں فرینکفرٹ میسے messe فرینکفرٹ کے میدان اور ہالز میں سجایا جاتا ہے اس کی بنیاد 1949میں اسٹاک ایکسچینج ایسوسی ایشن نے رکھی تھی جس کو 1976 سے علاقائی اور موضوعاتی ترجیحات تشکیل دی گئی ہیں۔ 1988 سے ہر سال ایک میزبان ملک کے ادب اور ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے، اسی میلے کے دوران پیس ایوارڈ، جرمن یوتھ لٹریچر ایوارڈ، انڈسٹری ایوارڈ اور دیگر بہت سارے ایوارڈ پیش کئے جاتے ہیں۔اگر دیکھا جائے تو کتابوں کے میلہ کی روایت تقریباََ 500 سال پرانی ہے جبکہ فرینکفرٹ سے چند کلو میٹر پر واقع مائنزMainzمیں پہلی مرتبہ جوہانس گوٹین برگ Johannes Gutenbergنے کتاب کی طباعت میں انقلاب برپا کر دیا تھا اور کتاب کے پرنٹر ز جوہانس فوسٹFust Johannes،پیٹر شوفر Peter Schoffer اور کونراڈ ہینکس Konrad Henckis نے فرینکفرٹ کے تجارتی میلہ کو لکھاوٹ کی تجارت کی جگہ بنا دیا تھا، یعنی فرینکفرٹ میں تمام اشاعت اور پبلشنگ کا کام کیا جاتا تھا۔ آج 71واں بک میلہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ریکارڈ کے مطابق 302.267مرد و خواتین بچوں بک میلہ دیکھنے آئے۔ 104 ممالک سے 7.450 Ausstellerکتابوں کی نمائش کرنے والی فرموں نے حصّہ لیا جس میں پاکستان بھی پیش پیش تھا۔اس بار جدید ترین طریقہ کار سے اپنی مصنوعات کو متعارف کیا گیا ہے، پبلشرز کا کہنا تھا کہ سب کچھ ہونے کے باوجود کتابیں خریدی اور پڑھی جاتی ہیں اور رہیں گیں۔میلہ کے آخری دن کتابی کہانیوں کو حقیقت دینے کے لئے بچے عورتیں مرد و خواتین کہانیوں میں موجود افراد کی طرح کپڑے پہن کر کتابوں کے میلہ کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے