۔،۔وہی ذات پاک (اللہ تعالی)ہے اس کے ساتھ شرک نہ کرنا ورنہ تیری زندگی تباہ ہو جائے گی۔داتا گنج بخش۔،۔

 نذر  حسین شان پاکستان لاہور۔ حضرت داتہ گنج بخشؒ اور لاہوریوں کا تعلق صدیوں پرانا ہے، کہا جاتا ہے کہ لاہوریوں کو داتا صاحبؒ اور داتاؒ کو لاہوریوں سے خاص انس ہے۔ داتا گنج بخش علی ہجویری کی ولادت افغانستان کے معروف شہر غزنیGhazni میں 400ھ کو ہوئی تھی،آپ کا خاندان ہجویرAl-Hajveri میں رہتا تھا۔ہجویر غزنوی سے بہت قریب ہونے کی وجہ سے غزنی کا محلہ سمجھا جاتا تھا۔ آپ کا اسم علی کنیت ابو الحسن اور لقب داتا گنج بخش ہے۔ داتا گنج بخش کی وجہ تسمیہ کے بارے میں عام لوگ خیال کرتے ہیں کہ جب خواجہ معین الدین کو دربار رسالت سے ہندوستان کی ولایت عطاء ہوئی تو حکم ہوا کہ پہلے جا کر سید علی ہجویری کے روضہ مبارک پر اعتکاف کرنا اور ان سے فیض حاصل کر کے راجپوتانہ کے صحراء میں جا کر اسلامی جھنڈہ نصب کرنا چنانچہ خواجہ چشتی نے آپ کے روضہ مبارک کے سامنے ایک کوٹھڑی میں چالیس دن تک اعتکاف کیا اور چلہ کشی کے بعد بوقت رخصت یہ شعر کہا۔
گنج بخش فیض عالم مظہر نور خُدا
ناپصاں را پیر کامل کملاں را رہنما
داتا دربار لاہور پاکستان کا بہت مشہور دربار ہے جو تقریباََ ایک ہزار سال سے موجود ہے اور ہر سال یہاں پر خوبصورت میلہ لگتا ہے لاکھوں کی تعداد میں عقیدت مند جوک در جوک تشریف لاتے ہیں، حضرت داتا گنج بخشؒ کے 976ویں سالانہ عرس مبارک پر لاکھوں عقیدت مندوں نے حاضری دی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے