۔،۔اے آراشرف بیورو چیف جرمنی۔۔ہم کہاں کھڑے ہیں۔،۔


اقتدار چھن جانے کا دکھ بھی بہت جان لیوا شے ہے۔یہ غم کوئی چھوٹا غم نہیں کہ اسے آسانی سے بھلایا جا سکے اکثر لوگ تواس عظیم صدمے کی تاب نہ لا کر راہی اجل ہو جاتے ہیں مگر مولانا صاحب بہت سخت جان ہیں اور مایوس بھی نہیں بلکہ اُنہیں اپنی سیاسی حربوں پر قوی یقین ہے کہ وہ اگروطن عزیزکی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کو آزادی مارچ میں ہم رکاب بنا سکتے ہیں تو حکومت کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔تقریباََ چودہ سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت خواہ کسی امر کی ہویا نام نہاد جمہوریت کے متوالوں کی ہو مولانا نے اپنا پورا پورا حصہ وصول کیا ہے مگر اس بار وہ اقتدار کے مزے اُڑانے سے محروم ہو گئے ہیں۔جبکہ اقتد ا ر کی کرسی سے انکا چمٹے رہنا اورپھر چودہ سال تک کشمیر کمیٹی کی چیرمینی سے لیکر من پسند وزارتوں اور سینٹ کی ڈپٹی چیرمین جیسے اعلیٰ عہدوں تک رسائی ہی ہمیشہ جے یوآئی کی سیاست کا محور رہا ہے مگراس سارے عرصے میں کوئی ہمیں ایسا قابل ٖفحر کارنامہ نظر نہیں آتا جس میں کشمیریوں کی تحریک آزادی یا عوامی مسائل کے حل کیلئے کوئی ایسی جدوجہدہوجو مولانا صاحب کے نامہ اعمال اور تاریخ کے پنے پر زریں الفاظ میں تحریر کی جا سکے یا داد دی جا سکے البتہ یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ ان کی جماعت پاکستان بننے ہی کے خلاف تھی مگر ا ب نہ جانے کونسی ایسی بات ہوئی ہے کہ اُنکے دل میں آخرکار وطن سے محبت کا سمند ر بھی ٹھاٹھیں مارنے لگا ہے اور مولانا صاحب کو اچانک حب الوطنی کے دوڑے پڑنے لگے ہیں جسکی تازہ ترین مثال مولانا کی حکومت کے خلاف ایسے وقت اختجاجی تحریک اور دھرنے کا اہتمام کرنا ہے جبکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثیت ختم کرکے نوے لاکھ کشمیریوں کونہ صرف یرغمال بنا رکھا ہے بلکہ وہاں مظلوم و بیکس خواتین کی عصمت دری بھی کی جا رہی ہے، بچوں ا ور نوجوانوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہے بلکہ سوشل میڈیا پرتو بھارتی افواج کی درندگی کے ایسے ایسے مناظرویڈیو ز پردیکھنے کو ملتے ہیں جنہیں دیکھ کر ایک کمزور دل کا انسان حَواس باختہ ہو جاتا ہے کل میں ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا جس میں ایک شقی القلب جسے درندہ کہنا بھی درندوں کی توہین ہوگی وہ ایک نو دس ماہ کے بچے پر اسطرح تشدد کررہا تھاجیسے گدھیں اپنے مردارکو نوچتی ہیں جب اُس وحشی کے ہاتھ تھک گئے تواُس شقی نے بچے کو زمین سے آسمان کی طرف اچھالنا شروع کر دیا اور وہ یہ عمل اُس وقت تک کرتا رہا جب تک بچے نے دم نہیں توڑ دیا۔مگر مجھے حیرانی عالمی بے حسی اور مردہ ضمیری پر ہو رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کو جارحیت اور درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین ماہ ہونے کو ہیں مگرنہ تو ابھی تک اقوام متحدہ اور نہ ہی اقوام عالم کی وہ تنظمیں جو انسان تو انسان جانوروں کے بھی بنیادی حقوق غصب ہونے پر ایک طوفان کھڑا کر دیا کرتی ہیں اُنہوں نے بھی بیکس و مظلوم کشمیریوں کی پکار پر اپنے کانوں میں شاید سیسہ ڈال رکھا ہے کہ اُنہیں معصوم بچوں اورخواتین کی آہیں اور سسکیاں آخر کیوں سُنائی نہیں دیتیں غیرتو خیر غیر ہی ہوتا ہے یہاں اپنوں کی بھی سرد مہری قابل مذمت ہے حتئکہ وہ نام نہاد مسلم اُمہ کی اوآئی سی جیسی تنظیم اور مسلم دنیا کے وہ حکران جو اپنے آپ کو مسلم اُمہ کا ٹھیکدارتصور کرتے ہیں نے بھی کوئی عملی کردار ادا کرنا تو درکنار مذمت کرنا بھی گوارا نہیں کیا بلکہ سعودی عرب اورامارات نے تو بھارت میں سوسو ارب کی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ہٹلڑ ثانی مودی کو اعلیٰ ترین ایوارڈوں سے بھی نواز کر اُسکی حوصلہ افزائی بھی کی ہے شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔۔دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف،۔۔اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی،۔۔ان حا لات میں ہر باشعور سوچتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں خارجی محاذ پست،سیاسی ماحول خراب،کمر توڑ مہنگائی معیشت تنزلی کا شکار،ریکارڈ توڑ بے روزگاری،افراتفری اور لاقانونیت۔۔ اونٹ رے تیری کونسی کل سیدھی۔۔کے مترادف دوسری جانب حب الوطنی کی مثال ہماری حکومت اور ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان عرف سونامی خان و اختساب خان کی ہے جو اس نازک موقع پر بھی اپنے آپ کو عقل کل تصور کرتے ہیں اور حزب اختلاف کوکسی بھی معاملے میں شامل کرنا گناہ کبیرہ تصور کرتے ہیں جبکہ دنیا کے کسی بھی مہذب معاشرے میں حزب اختلاف کوبھی یکساں اہمیت دی جاتی ہے اور اُنکی رائے کا اخترام کیا جاتا ہے۔جناب عمران خان جب وہ اقتدار میں نہیں تھے تواُنکے لئے تو لمبے دھرنے،جلوس اور بغاوت سب کچھ جائز تھا اور اسوقت وہ اپوزیشن کا حق تصور کرتے تھے اُسوقت یہ سب حلال تھا لیکن اب جبکہ وہ خود اقتدار میں ہیں وہ سب کچھ اب حرام ہو گیا ہے۔یہ۔ اقتدار کا نشہ بھی کیا ظالم نشہ ہے جس کسی خوش نصیب کے سر پر یہ اقتدار کا تاج سجتا ہے تو سر پر تاج سجتے ہی اس میں فرعونیت ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہے اور وہ سب سے پہلے اپنے مخالفین کو اپنے انتقام کا نشانہ بناتا ہے جیسا کہ موجودہ حکومت نے اب حزب اختلاف کے ساتھ روا رکھا ہوا ہے اور بیچاری عوام کو بھی مہنگائی کی تلوار سے ذبیح کیا جا رہا ہے اور اُنسے نہ کردہ گناہوں کا حساب مانگا جا رہاہے جبکہ سب جانتے ہیں کہ اقتدار کے کھیل میں عوام بیچاری تو بالکل معصوم ہوتی ہے اس کھیل میں غیبی قوتوں کا بڑا کردار ہوتا ہے عوام بیچاری تو بس صرف مہڑے کے طور استعمال ہوتی ہیں جہنیں ہر بار حسین وعدوں کا لولی پوپ دیا جاتا ہے جیسے اس بار تحریک انصاف نے دیا تھا کہ اُنکے اقتدار میں آتے ہی دودھ اور شہد کی نہروں کی سونامی آجائے گی ایک کڑور نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور پچاس لاکھ گھر غربا میں تقسیم کئے جائیں گے یہ سب کچھ تو نہیں ہوا البتہ مہنگائی کی ایسی سونامی آئی ہے کہ اُنکے خوابوں کو بھی بہا کر لے گئی ہے تحریک انصاف کے کسی کارکن سے کوئی بھی بات کی جائے تو وہ جناب عمران خان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کا بھاشن دینا شروع کر دیتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے۔کسی بھوکے سے پوچھا دو اور دو کتنے ہوتے ہیں۔اُس نے فوراََ کہا چار روٹیاں۔کیا اس تقریر سے کشمیریوں کو آزادی مل گئی ہے یا پھر بھارتی افواج نے کرفیو ختم کرکے کشمیریوں کے بنیادی حقوق بحال کر دیے ہیں یا ملک میں مہنگائی کا طوفان تھم گیا ہے یاپھرمعیشت کی تنزلی رک گئی ہے جو ہر جنونی تقریر کے نشے میں گم ہے جیسے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو کوئی یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا کہ سیاست اور کرکٹ دو متضاد چیزیں ہیں کرکٹ میں کھلاڑیوں کی زیادہ تر جسمانی قوت اور فٹنس کو دیکھا جاتا ہے مگر سیاست میں حاضر دماغی کے ساتھ ساتھ دشمن کی چالوں کو بروقت سمجھ کر اپنے وطن عزیز کے تمام مفادات کا تحفظ کرناہوتا ہے ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان کرکٹ میں تو اپنی کپتانی میں کرکٹ کا عالمی کپ جیت کر اپنا لوہا منوا چکے ہیں مگر وزیراعظم پاکستان بن کر ابھی تک ملک و قوم کی بہتری کیلئے کوئی ایسا چھکا نہیں مارا جو ملک و قوم کیلئے باعث فحر۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے