۔،۔ میلاد النبیﷺ کے سلسلہ میں چوہدری وقار احمد کے کاشانہ پر نورانی محفل کا انعقاد۔نذر حسین۔،۔

شان پاکستان جرمنی روسلز ہائیم۔ چوہدری وقار احمد نے میلاد النبیﷺ کے سلسلہ میں اپنے کاشانہ وننگ ہاوُس پر نورانی محفل کا انعقادجس میں نہ صرف جرمنی بلکہ پورے یورپ سے نعت خواں اور علماء نے شرکت کی چوہدری وقار کے اخلاص، محبت اور مذہبی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے دوست و احباب نے محفل میں بھرپور شرکت کی ان کے گھر میں تِل رکھنے کی جگہ نہیں تھی، احسن تارڑ نے نقابت سنبھالتے ہوئے چوہدری وقار احمد کو پروگرام کی مبار باد دی ان کی طرف سے تشریف لانے والے تمام خواتین و حضرات کا شکریہ ادا کریا۔ حافظ و قاری محمد عارف کو تلاوت قرآن پاک کا شرف حاصل ہوا انہوں نے بڑے ہی خوبصورت لہجے میں تلاوت پڑھ کر داد حاصل کی،وقاص عطاری نے نعت رسول پیش کی۔روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں۔فرانس سے سہیل عطاری رضوی نے خیر منگاں میں تیری سرکار توں سنائی۔محمد احمد باصل،سید محمود الحسن جیلانی نے لوگ کہتے ہیں کہ اُن کی شان بیان کروں،میں بھلا دوسرا قرآن کہاں سے لاوں پڑھ کر داد حاصل کی،ریاض الدین قصوری۔جو وی منگیئے،جدوں وی منگیئے انکا حضورؐ نئی کر دے۔محمد نوید کوبلنز کی مسجد کے امام کا فرمانا تھا کہ اہل علم کے سامنے زبان کو قابو میں رکھ کر بیٹھنا چاہیئے۔سر سے لے کر پاوُں تک تنویر ہی تنویر ہے۔گفتگومیری قرآن کی تفسیر ہے۔سید افضال احمد، اُو ہور کسی نوں نئی تکدے جنہاں یار دا چہرہ تکیا اے۔ برطانیہ سے تشریف لانے والے معروف مذہبی سکالر حضرت علامہ پروفیسر مسعود اختر ہزاروی نے اپنے خصوصی خطاب میں فرمایا آج کی میلاد النبی ﷺ کی بابرکت اور پر رونق مجلس کے روح رواں آل نبی اولاد علی عالمی مبلغ اسلام صاجزادہ پیر سید حسنات احمد بخاری، میرے دور طالب علمی کے شریک سفر حضرت علامہ مولانا عبد الطیف چشتی الازہری دیگر علماء سادات کرام اور معزز خوایتن کو خوشا ّمدید کہتا ہوں مجھے یہاں بلایا گیا رسول ﷺ کی نسبت سے شرکت کا موقع ملا ہے،جہاں تک حضور ﷺکی شان اقدس میلاد النبی سیرت طیبہ آپ کے لب لالی اور لب و رخسار کی باتیں، زندگیاں ختم ہوئیں اور قلم ٹوٹ گئے پھر بھی اوصاف کا اک باب بھی پورا نہ ہوا،کہاں وہ باوقار دو جہاں محمد ﷺ کی بارگاہ اقدس کے حضور نظرانہ عقیدت پیش کروں۔کچھ کلیاں ان کے گلشن کی کچھ تنکے اپنے نشیمن کے۔جو کچھ بھی ملا تھا مال کرہم تیری گلی میں آنے کا۔ دنیا کے اندر ہر روز یادیں تو منائی جاتی ہیں بڑے بڑے سیاسی لیڈروں کی،مذہبی اور روحانی پیشواوﷺ کی،آزادی کے بڑے بڑے قائدین کی یادیں جو قوموں کی عظمتوں کے نشان بن چکے ہیں وہ قومیں اپنے بزرگوں اور اپنے محسنوں کی قدر کرتے ہیں اور وہ ان کے لئے باعث فخر ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی ایک قائد اور لیڈر ایسا نہیں دیکھ سکتے جو لائے عمل اور ضابطہ حیات انسانیت کی فلاح کا سامان لایا ہو کسی یک خطہ زمین کے لئے نہیں کسی ایک قوم کے لئے نہیں بلکہ پوری کی پوری اولاد آدم کے لئے تا قیام قیامت لایا وہ وہ ایک ہی ذات ہے ذات محمد ﷺ کہ جنہیں اللہ نے حکم دیا اللہ نے فرمایا اے پیارے حبیب تم اعلان فرما دو اے اولاد آدم میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول اور نبی بن کے آیا ہوں۔ آل نبی اولاد علی عالمی مبلغ اسلام صاجزادہ پیر سید حسنات احمد بخاری نے محفل کو جگانے کے لئے۔مصطفی دی ادا دا اثر ویکھیا۔ایک حبشی نوں رشک قمر ویکھیا۔ان کا کہنا تھا کہ معروف مذہبی سکالر حضرت علامہ پروفیسر مسعود اختر ہزاروی نے بڑی اصلاحی گفتگو فرمائی میلاد پاک کا پروگرام دیا نہایت مختصراََ میلاد پاک کے لئے جمع ہیں اور میلاد اس کا منانے آئے ہیں کہ جس کو اللہ وتبارک تعالی نے جو تخلیق میں اول ہے،اور اللہ نے ان کو ان کو آخری خاتم النبین بنا کر بھیجا ہے۔ میلاد بھی ختم نبوت بھی ہے جو بننے میں سب سے اول آنے میں سب سے آخر میں، آج ان کا میلاد منائیں گے کل ان کا ختم نبوت منائیں گے۔ تحقیق اللہ کی طرف سے تمہارے پاس نور آیا ہے۔ عبد الطیف چشتی الازہری نے آنسووُں کی بہتی لڑی میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان کو ختم نبوت کے کام کے لئے چنا ہے اتنی بات کہنی تھی کہ ان کی آنکھوں سے آنسووں کی لڑی بہہ نکلی۔حامد شاہ نے سب کا شکریہ ادا کیا۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے