۔،۔ جرمنی کے شہر آفن باخ میں ختم نبوت امن کانفرنس کا عظیم الشان انعقاد۔نذر حسین۔،۔

اسلام امن کا پیغام دیتا ہے نہ کہ دہشت گردی کا ترجمان سی۔ڈی۔یو۔اسمائیل ٹیپی Ismail Tipi۔CDU

نذر حسین شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔آفن باخ۔ بینکوں کے شہرفرینکفرٹ میں 17اگست 1997کے بعد فرینکفرٹ سے متصل علاقہ آفن باخ میں 3 نومبر2019کوختم نبوت امن کانفرنس کا عظیم الشان انعقاد کیا گیا جس میں نہ صرف فرینکفرٹ یا جرمنی بلکہ فرانس، سوئیٹزرلینڈ،آسٹریا، یونان، انگلینڈ اوراٹلی سے بھی عاشقان رسولﷺ تشریف لائے،حال میں تل رکھنے کو جگہ نہیں تھی،خواتین بھی کسی سے کم نہیں رسول اکرم ﷺ کامیلاد منانے انہوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی، ختم نبوت کانفرنس کی صدارت سجادہ نشین امیر ملت حضرت صاجزادہ پیر منور حسین شاہ دربار عالیہ علی پور سیداں شریف نے کی،عالمی مبلغ اسلام پیر محمد ثاقب اقبال شامی، عالمی مبلغ اسلام صاجزادہ پیر سید حسنات احمد بخاری، معروف مذہبی سکالر حضرت علامہ پروفیسر مسعود اختر ہزاروی، عالمی مبلغ اسلام حضرت صاجزادہ سید محمد ظفر اللہ شاہ اور مولانا اسمائیل بخاری نے خصوصی شرکت کی اور اپنے خطابات سے نوازہ، ختم نبوت امن کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا، فرینکفرٹ اور پورے یورپ سے تشریف لانے والے نعت خواں حضرات نے اپنا اپنا کلام پیش کر کے خوب داد حاصل کی، مقامی علماء نے اپنے خطابات سے شرکاء کو ختم نبوت کانفرنس کی اہمیت کا احساس دلوایا، بعد نماز عصر جرمن سیاسی پارٹیوں کے ترجمان۔ اسمائیل ٹیپیIsmail Tipi جن کا تعلق سیاسی پارٹی۔سی۔ڈی۔یو۔CDUسے ہے۔ مسز سادت سونمزFrau Saadet Sonmez جن کا تعلق سیاسی پارٹی دی لنک Die Linkeسے ہے اور ایف ڈی پیFDP کے ترجمان اولیور سٹربوکOliver Stirbockنے شرکاء محفل سے جرمن زبان میں خطاب کیا جس کا مقصد مدعا یہی تھا کہ ہمیں خوشی ہے کہ یہ جشن عید میلادالنبی ہمارے شہر آفن باخ میں منایا گیا آفن باخ میں سب سے زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے ہم مذہب اسلام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ مذہب اسلام امن کا درس دیتا ہے نہ کہ دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔ خطاب کے بعد پیر منور حسین شاہ نے انہیں خصوصی طور پر شیلڈ پیش کیں،ترکی کے امام مسجد نے مختصراََ اور جامع خطاب کیا ان کو بھی شیلڈ دی گئی، خطیب مسجد کوبلنز مولانا نوید اور دو ساتھیوں نے بردہ شریف تین زبانوں میں بیان کی۔عبد اللطیف چشتی نے اپنے مخصوص انداز میں خصوصی خطاب کے لئے معروف مذہبی سکالر حضرت علامہ پروفیسر مسعود اختر ہزاروی کو دعوت خطاب دیا انہوں نے جب میلاد مصطفی اور ختم نبوت کی کڑیاں ملانی شروع کیں تو حال نعروں سے گونج اُٹھا۔ویسبادن سے تشریف لانے والے اما م اسامہ نے اپنے میسج میں فرمایا مسلمان وہی ہے جو ہمارے پیارے آقا حضرت محمدﷺ کو آخری نبی تسلیم کرتا ہے،ان کو بھی شیلڈ پیش کی گئی۔مائنز سے تشریف لانے والے پروفیسر ڈاکٹر طارق جن کا تعلق مصر سے ہے نے اپنے بیان میں عیسی ؑ اور قرآن کریم پر مفسر بیان فرمایا ان کو بھی شیلڈ دی گئی۔ مولانہ اسمائیل بخاری نے محبت بھرے لہجے میں خطاب سے پہلے ہی فرما دیا کیا میں آج آپ کو ایک نیا نعرہ نہ سکھلا دوں ٭فتح باب نبوت پہ بے حد درود۔ختم دور رسالت پے لاکھوں سلام٭کیوں کے نبوت کا آغاز اور ختم نبوت کا اختتام بھی ہمارے پیارے آقا پر ہے۔آوُ مل کر نعرہ لگاوُ۔٭تاجدار فتح نبوت زندہ باد٭تاجدار ختم نبوت زندہ باد٭مولانا احمد نے بھی خطاب فرمایا۔قائم مقام قونصل جنرل آف پاکستان شعیب منصور کو دعوت دی گئی کہ وہ بھی ختم نبوت پر خطاب فرمائیں ان کا کہنا تھا کہ عقیدہ ختم نبوت ہمارا بنیادی عقیدہ ہے اس پر کوئی بھی مسلمان سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں انہوں نے نہ صرف انتظامیہ بلکہ تمام شرکاء محفل کا شکریہ ادا کیا، عالمی مبلغ اسلام صاجزادہ پیر سید حسنات احمد بخاری اپنے مخصوص انداز میں شرکاء کو جگایا،وہ جوہر قابل، وہ شوخ زبان،وہ آسماں گیر جب بولنے لگا تو چاروں طرف سے صرف اور صرف نعروں کی آواز گونجنے لگی صاجزادہ پیر سید حسنات احمد بخاری رگِ باطل پرنشتر پے نشتر چلاتا رہا اُن کے خطاب میں پختہ خیالی تھی لوگ ہمہ تن گوش بھی تھے اور جذ بات میں نعرے بھی لگا رہے تھے۔ عالمی مبلغ اسلام حضرت صاجزادہ سید محمد ظفر اللہ شاہ نے ختم نبوت کو ایک نئے انداز میں پیش کر کے وہاں موجود علماء سے بھی داد حاصل کی۔سجادہ نشین امیر ملت حضرت صاجزادہ پیر منور حسین شاہ دربار عالیہ علی پور سیداں شریف نے اپنے صدارتی خطبہ میں منتظمین کا شکریہ ادا کیا ان کا کہنا تھا کہ جرمنی کے شہر آفن باخ میں ختم نبوت امن کانفرنس کا مقصد جرمنی میں بسنے والے مسلمانوں اور خصوصاََ جرمنی میں بسنے والی اور یہاں پر پیدا ہونے والی نوجوان نسل کو ختم نبوت کی افادیت و اہمیت سے آگاہی دینا ہے، ان کے دلوں میں پیارے آقا نبی اکرم ﷺ کی محبت اور عشق رسول اور بالخصوص ختم نبوت کو واضح طور پر اجاگر کرنا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے جہاں دوسرے مذاہب کے افراد کو زندگی بسر کرنے کا حق ہے، مثال کے طور پرجیسا کہ جرمنی کی ساخت کردہ گاڑی مرسیڈز کی اپنی حیثیت ہے اس کے نام کو کوئی دوسرا استعمال نہیں کر سکتا اسی طرح ہمارا کہنا ہے کہ اگر اسلام کا نام استعمال کرتے ہو تواسلام قبول کر لو ہمارے دروازے ہمیشہ کے لئے کھلے ہیں اگر نہیں تو اسلام کا لیبل لگا کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا دنیا کے ہر قانون میں دھوکا ہے۔ عالمی مبلغ اسلام پیر محمد ثاقب اقبال شامی نے پہلے انگریزی میں اور پھر اردو میں خطاب کیا ان کا کہنا تھا کہ اسلام امن کا دین ہے ہمیں اپنا پیغام نفرت اور تشدد نہیں بلکہ محبت اور اخلاق سے گمراہ لوگوں تک پہچانا ہے۔تقریب کے اختتام پر پیر منور حسین شاہ نے پاکستان کی سلامتی اور آزادی کشمیر،آزادی فلسطین اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے دعا فرمائی کانفرنس کی تمام انتظامیہ کو جلسہ کی کامیابی پر مبارک باد دی۔ ٭سجادہ نشین امیر ملت حضرت صاجزادہ پیر منور حسین شاہ دربار عایہ علی پور سیداں شریف نے خصوصی طور پر قرآن پاک کا تحفہ اور حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش کے مزار کی چادر عطاء فرمائی٭

 

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے