۔،۔ سانحہ تیز گام۔جیتے جاگتے انسان شعلوں کی نظر۔ ( پہلو۔صابر مغل) ۔،۔


پاکستان کی تاریخ بدترین سانحات سے بھری پڑی ہے جن میں زیادہ تر مسافر ہی دوران سفر لمحہ بھر میں لقمعہ اجل بن جاتے ہیں،پبلک ٹرانسپورٹ کا تو یہاں باوا آدم ہی نرالاہی جن میں انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح لادا اور لے لایا جاتا ہے نہ کسی قانون کی عمل داری،نہ کوئی سفری سہولیات،نہ کوئی قانون،اگر ہے تو عمل درآمد پر نہ تو موٹر وے پولیس پورا اتر سکی،نہ ضلعی انتظامیہ کو کچھ ہوش نہ ہی حکومت آج تک اس حوالے سے کوئی بہتر پالیسی لا سکی،ریلوے کا سفر دنیا بھر میں سب سے زیادہ آرام دہ،محفوظ اور عام آدمی کی سواری سمجھا جاتا ہے مگر یہاں اس کا باوا آدم ہی نرالا ہے انگریز نے1861سے1865تک پشاور تا کراچی ریلوے ٹریک بچھایابلکہ ملک بھر میں اس وقت جو بھی ریلوے ٹریکس ہیں ان میں قیام پاکستان کے بعد کمی ہی آئی ہے صرف کراچی تا لاہور ریلوے ٹریک کو ڈبل کیا گیا مگرنہ صرف وہ غیر معیاری ہے بلکہ انجن،بوگیاں،سگنل،چیک اینڈ بیلنس،سیکیورٹی نظام،سب فرسودہ اور بے کار،قیامت پر قیامت گذر جاتی ہے مگر سوائے سیاست کے کچھ عملی اقدامات نہیں ہوتے جب ریلوے انجنوں و بوگیوں و دیگر بہتر سسٹم کی خریداری میں ہی کک بیکس شامل ہوں تو اسے محفوظ کیسے بنایا جا سکتا ہے سفر تو عوام نے ہی کرنا ہے صاحبان اختیار کو کیا مسئلہ ہے، بدھ کی شام ساڑھے پانچ بجے کراچی کینٹ اسٹیشن سے تیز گام مسافروں کو لے کر راولپنڈی کی جانب روانہ ہوئی،تقریباًساڑھے سات سو کلومیٹر سفر طے کرنے کے بعد الصبع 6.20پر ٹرین کی تین بوگیاں 13.12.11جن میں دو اکانومی اور ایک بزنس کلاس تھی میں آگ بھڑک اٹھی ٹرین ڈرائیور محمد صدیق کے مطابق آگ لگنے کے تین منٹ بعد ٹرین رک روک کر شعلوں میں تبدیل ہونے والی بوگیوں کو دیگر بوگیوں سے فوری الگ کیا گیا،تب یہ آگ کئی خوابوں کو جلا کر رکھ میں بدل چکی تھی یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب بد قسمت ٹرین جب لیاقت پور کے علاقے نانوری ریلوے اسٹیشن چک نمبر6چنی گوٹھ کے قریب پہنچی تو آگ کے شعلے اسے چاٹ گئے،اس المناک حادثہ میں اب تک74افراد شہید جبکہ 40سے زائد زخمی ہیں جن میں سے بیشتر کی حالت نازک ہے مرنے والوں میں 13افراد وہ ہیں جو کودنے کی وجہ سے موت کے منہ میں گئے ان مسافروں نے ریل گاڑی میں کوئی تخریبی عمل سجھ کر کودنے کو ترجیح دی،آگ لگنے اور بڑھکنے کے باعث تینوں بوگیاں جل کر تباہ ہو گئیں،مرنے والوں کی زیادہ تر تعداد ان افراد کی ہے جو لاہور کے علاقہ رائے ونڈ میں تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے محو سفر تھی وہ رائے ونڈ تو نہ پہنچ سکے البتہ ان میں بیشتر خالق حقیقی سے ملنے سے قبل قیامت خیزآگ کے شعلوں کی نذر ہوتے ہوئے جل کر راکھ بن گئے کئی خاندان اجڑ گئے،درجنوں گھروں میں صف ماتم بچھ گئی،عینی شاہدمسافر عرفان کے مطابق بوگی نمبر 11میں ایک دم دھواں بھر گیا جو10تک رہا جس کے بعد خوفناک آگ بھڑک اٹھی،دھواں کی شدت بھی اتنی تھی کہ کسی کو کچھ سمجھ نہ آیا اسی دھویں کے باعث مسافر پہلے بے ہوش پھر بے ہوشی کی حالت میں ہی کوئلوں میں تبدیل ہوتے چلے گئے،ہم ے ٹرین کو رکوایااور کھڑکیاں توڑ کر باہر نکلنے کوشش کرتے رہے آگ لگنے والی بوگیوں میں آگ کی اتنی حدت تھی کہ 3کلومیٹر تک چلتی ٹرین سے مسافر چھلانگیں مارکر مرتے اور زخمی ہوتے رہے،ٹرین کی سپیڈ کم ہونے کودنے والوں کے زیادہ تر کے جسم میں فریکچر کا شکار ہوئے،ٹرین بھی زنجیر کھینچنے کی وجہ سے رکی ورنہ نہ جانے مزید کیا کچھ ہو جاتا،ایک اور عینی شاہد محمد رمضان آف کراچی نے بتایا کہ میں بھی اسی بوگی میں تھا جس کے مطابق تبلیغی جماعت کا کارکن سلنڈر پر آگ جلا کر چائے بنانے لگے تھے اچانک آگ بھڑک اٹھی دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے شدت پکڑ لی اور تیز ہوا کی وجہ سے اس نے دوسری بوگیوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا،اس سانحہ سے متعلق عینی شہادین کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں بعض کے مطابق ٹوائلٹ کے قریب پنکھے سے دھواں اٹھا اور بعدمیں پنکھا نیچے گر گیاکئی نے بتایا پہلے ہی کسی چیز کے سڑنے اندازہ ہو رہا تھا جس سے واضح ہوتا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی ہے،، پہلے تومقامی افراد زخمیوں کی مدد کرتے رہے پھر ریسکیو اہلکار،پولیس،ایدھی فاؤنڈیشن،ضلعی انتظامیہ اور پاک فوج کے دستے امدادی کاموں میں مصروف ہو گئے،ریسکیو اہلکاروں کے مطابق آگ کے شعلوں کو بجھانے میں ایک گھنٹا جبکہ کولنگ کے عمل میں مزید30منٹ لگے،اس کے باجود درجہ حرارت بہت زیادہ تھاہمیں سب سے زیادہ یہ بھی مشکل تھی کہ پتا نہیں اندر کتنے لوگ ہیں ہر طرف افراتفری،خوف اور چیخ و پکار کا عالم تھا،اس المناک سانحہ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کی ایدھی فاؤڈیشن کے اہلکار محمد زبیر نے بتایا کہ زیادہ تر لاشیں ناقابل شناخت تھیں کولنگ کے عمل کے بعد جب ہم بوگیوں میں داخل ہوئے توپتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ کونسا ٹکڑا لکڑی کا ہے یا ہڈی کا،ٹرین کی سیٹوں اور انسانی جسموں کی راکھ ایک ساتھ موجود تھی کچھ اندازہ نہیں تھا کہ یہ لاش کس کی ہو سکتی ہے،زخمی افراد کو آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز اور دیگر ذرائع سے شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان،وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور،ملتان کے اٹالین برن یونٹ منتقل کیا گیا،تاہم جنوبی پنجاب کے تمام ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی،حادثے کا شکار ہونے والے افراد کا تعلق میر پور خاص،ٹنڈو جام،ٹنڈو الہ یار،حیدر آباد،نواب شاہ سے تھا جن میں زیادہ تعداد میر پور خاص سے تعلق رکھنے والوں کی ہے میر پورخاص کی مدینہ مسجد سیٹلائٹ ٹاؤن کے قاری مقبول احمدکے علاوہ محمد سلیم،آفتاب،عبدالطیف،محمد کریم اور خوشی محمد کے ناموں سے ہو گئی،سانحہ کے فوری بعد 15نعشوں کی تاہم 8افراد کی شناخت دوسرے روز ہو گئی جنہیں ورثاء کے حوالے کر دیا گیا ہے ابھی تک شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان کے سرد خانے میں 51لاشیں پڑی ہیں جن کی شناخت کا عمل جاری ہے لواحقین اب بھی ہسپتالوں کے باہر رے مارے پھر رہے ہیں،میر پور خاص اور کنری کی پانچ سے زائد مساجدکے زیر اہتمام 84افراد تبلیغی اجتماع رائیونڈ کے لئے روانہ ہوئے تھے اس سانحہ کی اطلاع ملتے ہی میر پور خاص کا شاہی بازار،صرافہ بازار،بلدیہ شاپنگ سنٹرسمیت تمام بازار اور کاروباری مراکز سوگ میں بند کر دئے گئے،مرنے والے افراد کی اطلاعات و معلومات کے لئے ڈی سی و ایس ایس پی میر پور خاص نے خصوصی کاؤنٹر قائم کر دئیے،،ان بوگیوں میں مسافر حیدر آباد، مہراب پور،نواب شاہ اور میر پور خاص سے سوار ہوئے، تیز گام کی دو بوگیوں 11اور12کو تبلیغی جماعت امیر حسن کے نام سے بک کیا گیا تھاتبلیغی جماعت رائے ونڈ جا رہی تھی اور ایسا اکثر ہوتا ہے کہ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کی بکنگ صرف ایک ہی شخص کے نام سے کر دی جاتی ہے، اس سانحہ میں شہید ہونے والے مسافروں کا ڈیٹا بھی محکمہ ریلوے کے پاس نہیں ہے اب DNAکے ذریعے ہی ان کی شناخت ممکن ہے جس میں کم از کم چار دن لگ جائیں گے،دونوں اکانومی اور ایک بزنس کلاس بوگی میں 200سے زائد افراد سوار تھے،بزنس کلاس میں 54مختلف افرادجبکہ بوگی نمبر12.11میں 78اور77افراد بکنگ کے ذریعے سفر کر رہے تھے،ڈویژنل کمرشل آفیسر ریلوے جنید اسلم نے بتایاجماعت کے نام پر بک کی گئی بوگیوں میں سوار مسافروں کی شناخت ریلوے کے پاس نہیں ہے،چیر مین ریلوے سکندر سلطان گریڈ21کے آفیسردوست علی لغاری کو انکوائری آفیسر مقرر کیا ہے چیرمین نے کہا ٹرین میں سلنڈر اور تیل وغیرہ لے جانے کی اجازت نہیں اس کی شفات تحقیقات کی جائیں گی کہ ایسا کیوں ہوا؟حادثے کے بعد دیگر ٹرینوں کو مختلف اسٹیشنوں پر روک لیا گیا اسی ٹریک پر آنے والے بہاؤلدین زکریا ایکسپریس کولیاقت پور سے قبل ہی خان پورروکا گیا تاہم دو گھنٹے بعد ٹریک کو بحال،جلی ہوئی بوگیاں الگ کرتے ہوئے متاثرہ ٹرین کو بھی روانہ کر دیا گیا،ریلوے پولیس نے شواہدلللل اکٹھے کر کے فرانزک ٹیسٹ کے لئے بھجوا دئے ہیں جس سے واضح ہو گا کہ آگ لگنے کے اصل محرکات کیا تھے پولیس کو چار خالی سلنڈر بھی ملے ہیں، وزیر ریلوے شیخ رشید احمد واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ملتان پہنچ پر اسے سیکیورٹی کی کوتاہی قراردیتے ہوئے کہاتحقیقات کے بعدذمہ داران کو سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی شیخ رشید نے کہامسافروں کا سامان چیک کرنے کی سہولت صرف بڑے بڑے ریلوے اسٹیشنز پر ہی ہے باقی تمام پر تلاشی وغیرہ کا کوئی سسٹم نہیں،ٹرین میں گارڈز کے علاوہ پولیس کی بھی 11رکنی ٹیم شامل تھی حیرت ہے کسی کو بھی ایسا کچھ نظر نہ آیا جو قیامت ڈھا گیا،سلنڈر پھٹا یا معاملہ کچھ اورہے پرکئی طرح کے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں،مسافروں کی غلطی تھی یا کوئی محکمانہ کوتاہی یا نا اہلی تھی کئی قیمتی جانیں نگل گئی،ریلوے حکام نے ابتدائی تحقیقات میں واقعہ کی بنیاد گیس سلنڈر کا پھٹنا ہی قرار دیتے ہوئے ٹرین گارڈ محمد سعید کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف تھانہ ریلوے پولیس خان پور میں ریلوے ایکٹ کی دفعہ 126اور تعزیرات پاکستان کی دفعات427اور436کے تحت مقدمہ بھی درج کرلیا ہے تین بوگیوں کو پہنچنے والے مالی نقصان تین کروڑ 30لاکھ روپے ہے جبکہ سوگوار فضامیں سانحہ کی مزید تحقیقات کی وجہ سے شاہد اکٹھا کرنے کا عمل جاری ہے فرانزک ٹیمیں بھی جائے حادثہ پر موجود ہیں، سانحہ کی طلاع ملتے ہی وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان وزیر صحٹ ڈاکٹر راشدہ یاسمین کے ہمراہ بہاولپور پہنچے،مریضوں کی عیادت کی اور بہتر سہولیات فراہم کرنے کا حکم جاری کیا،وزیر اعظم عمران خان نے اس سانحہ پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم جاری کر دیا،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا،شیخ رشید نے اپنے دورہ کے دوران شہید افراد کے لئے15.15لاکھ روپے فی کس اور زخمیوں کو 3سے5لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیایہ بات بھی واضح رہے کہ ریلوے کے ہر مسافر کو ٹکٹ خریدتے وقت انسورنش کی رقم ساتھ ہی دینا پڑتی ہے،پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران اب تک ریلوے کے چھوٹے بڑے 80حادثات ہو چکے ہیں جو ہر ماہ اوسطاً5بنتے ہیں اس دوران موجودہ سانحہ اموات کے لحاظ سے سب سے بڑا سانحہ اور آتشزدگی کے حوالے سے رواں سال میں یہ نواں واقعہ ہے،سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے دور میں 530حادثات ہوئے رواں سال ٹرین حادثات کی مجموعی 80انکوائریوں کی رپورٹس کی روشنی میں 12ملازمین کو سزائیں،32مقدمات کا اندراج کیا گیا،11چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی وزیر ریلوے کواستعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے، رواں سال اہم واقعات میں شامل جولائی کو صادق آباد میں دلہار اسٹیشن پر اکبر ایکسپریس اور مال گاڑی میں تصادم میں 21،20جون کو حیدر آباد میں جناح ایکسپریس حادثہ میں ڈرائیور،اسسٹنٹ ڈرائیور اور گارڈ ہلاک جبکہ ٹرین کا انجن مکمل طور پر تباہ ہوا،یکم اپریل کو مال بردار گاڑی پی کے اے34کی 13بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جس سے ٹرینوں کی آمدورفت کئی روز تک متاثر رہی۔ہیں،صدر ورلڈ بینک،برطانوی شاہی جوڑے،ترکی کے وزیر خارجہ،پاکستانی میں تعینات امریکی،اٹلی،ڈنمارک،یورپی یونین،برطانیہ،فرانس،پولینڈ،ناروے کے سفیروں سمیت دنیا بھر میں ٹرین حادثہ پر افسوس کا اظہار کیا گیا جبکہ مقامی حکومتی وسیاسی شخصیات نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے،برطانوی شہزدہ ولیم،ترکی کے وزیر خارجہ سمیت دنیا بھرسے حادثہ پرتعزیتی اور ہمدردی کے بیانات سامنے آئے ہیں،پی پی پی رہنماء قمر الزمان نے کہاغم میں برابر کے شریک ہیں ناگہانی خطرات سے بچنے کے لئے سیکیورٹی کوتاہیوں کا فوری تدارک کرنا ہو گاحکمرانوں کو بھی پے در پے ٹرین حادثات کا حساب دینا ہو گا سوال یہ بھی ہے کہ تین بوگیوں میں ایک ساتھ آگ کیسے بھڑک اٹھی،چوہدری منظور نے کہا مرنے والوں کو ہی حادثے کا ذمہ دار ٹھہراناشرمناک ہے،اپوزیشن نے شیخ رشید کو ریلوے کی وزارت سے علیحدہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ان ذمہ داران کے خلاف کب کوئی عبرت ناک کاروائی ہو گئی جنہوں نے ہر وقت عوام کی زندگیوں کو خطروں میں ڈال رکھا ہے،ایسے سانحات پر سیاسی دکانداری تو بہت چلتی ہے مگر بہتری کے لئے کچھ نظر نہیں آتاحکمران ہوش کے ناخن لیں غریب عوام کی سواری کو بھی ایک ڈراؤنا خواب بنا کر رکھ دیا گیا ہے ان کی زندگیوں میں بہتری ہے کہاں اور کب آئے گی؟ اب محکمہ ریلوے نے مزید پابندیوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے حالانکہ ایسا کچھ پہلے بھی ہے مگر سب فضول کوئی اپنے فرائض کو جیسے جانتا ہی نہیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے