۔،۔قلم کاروان،اسلام آباد۔ڈاکٹرساجدخاکوانی ۔،۔

منگل مورخہ5نومبر2019 بعد نماز مغرب قلم کاروان کی ادبی نشست مکان نمبر1اسٹریٹ 38،G6/2اسلام آبادمیں منعقد ہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی ادبی نشست میں ”سیرت النبی ﷺ اورفکراقبال کی روشنی میں عورت کا تہذیبی و سماجی کردار“کے عنوان سے جناب سیدعنایت اللہ شاہ کامضمون طے تھا۔نوجوان شاعر،نقاد اوربراڈکاسٹرجناب عالی بنگش نے صدارت کی۔نشست کے آغازمیں جناب انورحسن چترالی نے تلاوت قرآن مجیدکی،جناب میرافسرامان نے مطالعہ حدیث نبویﷺ پیش کیا،جناب احمدمحمودالزماں نے اپنا نعتیہ کلام سنایا،وریشہ اظہر نے نعت شریف بحضور سرورکونین ﷺ کی سعادت حاصل کی اورجناب حبیب الرحمن چترالی نے سابقہ نشست کی کاروائی پڑھ کرسنائی۔صدرمجلس کی اجازت سے جناب سیدعنایت اللہ شاہ اپنامضمون سنانے سے پہلے وضاحت کر دی کی طوالت سے بچنے کے لیے مضمون سے اقبالیات کاحصہ حزف کردیاگیاہے،بقیہ تحریرمیں انہوں نے سیرت کے واقعات اور اقوال رسول اللہ ﷺکی روشنی میں خواتین کے مقام و مرتبہ وحسن کردارپربات کی جب کہ تحریرکے آخر میں فاضل مصنف نے سیکولرمغربی تہذیب کا زبردست مواخذہ کیاجس میں عورتوں سے ان کی فطرت کے خلاف کام لینے کو اورخواتین سے نسوانی مقامات ماں،بیٹی،بہن،بہو اوربیوی چھین کر انہیں معاشی،قانونی،سیاسی اورتفریحی پہچان دینے کی ظالمانہ واستحصالی مساعی کو سخت ہدف تنقید بنایا اورانہوں نے واشگاف الفاظ میں نسوانیت کی محتاج سرمایادارانہ سودی معیشیت کی پرزورالفاظ میں مذمت کی۔مقالے کے بعد جناب احمد محمودالزماں نے شاعر مشرق کو اپنے اشعارمیں خراج عقیدت پیش کیااورعلامہ کے شاعرانہ اسلوب میں امت مسلمہ کے شاندارمستقبل کے تیقن کو بھی اپنے خاص منظوم اندازمیں سمویا۔پیش کردہ مقالے پر جناب عالی بنگش اور ڈاکٹرساجد خاکوانی نے سوالات اٹھائے کہ خواتین کے موضوع برداراس مقالے میں خاتون جنت سیدہ فاطمہ الزہرہ کاذکرنہیں ہے،جس پر فاضل مصنف نے بتایا اس موضوع پر وہ الگ سے پورامقالہ تیارکررہے ہیں۔جناب ساجد حسین ملک نے مقالے کو پسند کیااور سیرت النبیﷺمیں خواتین کا ذکرخیرکرتے ہوئے حضرت فاطمہ کی خدمات کاتفصیل سے ذکرکیا۔میرافسرامان نے کہا کہ مقالے کااسلوب بیان بہت عمدہ تھااور مغرب پر تنقید کے نشتر جس پرزوراستدلال سے چلائے گئے وہ قابل تعریف ہیں۔جناب شاہد منصور نے علامہ محمداقبال ؒ کے وہ اشعار پیش کیے جو خواتین کے حوالے سے انہوں نے اپنے کلام میں لکھے تھے۔جناب حبیب الرحمن چترالی نے بھی تاریخ اسلام میں خواتین کے کردار پر تفصیلی گفتگوکی اورجناب آفتاب حیات کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ن کی والدہ محترمہ کی رحلت پر فاتحہ بھی پڑھی۔معمول کے سلسلوں میں جناب شہزادعالم صدیقی نے مثنوی مولائے روم ؒپر اپنا حاصل مطالعہ پیش کیااورجناب عبدالرازق عاقل ایڈوکیٹ نے اپنی تازہ غزل نذرسامعین کی۔صدر مجلس جناب عالی بنگش نے پہلے اپنا تفصیلی تعارف کرایاپھر مقالے کے موضوع پر گفتگوکرتے ہوئے انہوں حضرت علی زوجہ ثانیہ حضرت ام بنین ؒکا تفصیلی ذکرکیااور بتایا کہ خاتون جنت کی رحلت کے بعد جب وہ اہلیہ کی حیثیت سے گھرمیں داخل ہوئیں تو مامتاسے محروم اہل بیت بچوں سے عرض کی کہ میں تمہاری ماں نہیں بلکہ خادمہ بن کر آئی ہوں،انہوں نے کہا کہ نسوانیت کایہ مقدس روپ معاشرے میں پیارومحبت اورخاندانی استحکام کاباعث بنتاہے،انہوں نے اپنی ایک نظم بھی سنائی ۔صدارتی خطبے کے ساتھ ہی آج کی ادبی نشست اختتام پزیرہوگئی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے