۔،۔بابا گرونانک،سکھ مذہب کے بانی۔ڈاکٹر ساجد خاکوانی۔،۔

”بابا گرونانک(15اپریل1469تا22ستمبر1539)“ سکھ مذہب کے بانی اور ان کے اولین روحانی پیشواہیں۔15اپریل ان کی تاریخ پیدائش ہے لیکن سکھوں کے ہاں نومبر کے مہینے میں چوہدویں کے چاند کی رات کو ان کا جشن پیدائش ”پراکاش دیواس“منایا جاتا ہے،اس لحاظ سے ہر سال یہ تاریخ تبدیل ہو جاتی ہے چنانچہ ا س سال 2019کو یہ تاریخ12نومبر کو واقع ہو رہی ہے۔باباگرونانک لاہور کے قریب ایک گاؤں ”ننکانہ صاحب“میں ایک کھتری نسل کے ہندو گھرانے میں پیداہوئے۔ان کے والد”کلیان چاندداس بیدی“جو ”کالومٹھا“کے نام سے مشہورتھے علاقے کے ایک مسلمان جاگیردار”رائے بلوار بھٹی“کے ہاں پٹواری تھے۔پانچ سال کی عمر سے ہی بابا جی مذہبی کہانیوں میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے تھے اورسکھ روایات کے مطابق اسی عمرمیں انہیں غیب سے مقدس آوازیں بھی سنائی دیتی تھیں۔ان کے والد نے انہیں سات سال کی عمر میں روایتی تعلیم کے لیے اسکول میں داخل کروادیا۔فطری ذہانت کے باعث بہت جلد اپنے ہم جولیوں سے آگے نکل گئے۔نو سال کی عمر میں جب پروہت نے ایک مذہبی تقریب میں ”جانو“نامی دھاگا پہناناچاہاتو انہوں نے اس ہندو رسم کو اداکرنے سے انکار کردیا۔باباکے بچپن میں بہت سے ایسے واقعات رونماہوئے جوعام بچوں کے ہاں نہیں ہوتے۔بلوغت کے بعد”ویدوں“اور سنسکرت پرعبور حاصل کرنے کے بعد انہوں نے عربی اور فارسی بھی سیکھی۔ بابا گرونانک کابچپن ان کی ہمشیرہ کے سسرال میں گزرا۔ان کی ہمشیرہ کانام ”بے بے نانکی“تھاجوباباسے پانچ سال بڑی تھیں اور یہ اولین خاتون تھیں جنہوں نے گرونانک کو اپنا روحانی پیشوا تسلیم کیاگویا سکھ مذہب کی پہلی پیروکار یہی خاتون تھیں۔بابا کے بہنوئی لاہور میں گورنر کے ہاں ناظم جائدادکی حیثیت سے ملازم تھے،سرکاری امور کی ادائگی میں بابا جی اپنے بہنوئی کاہاتھ بھی بٹاتے تھے۔بابا جی روزانہ سورج نکلنے سے پہلے ندی کے ٹھنڈے پانی میں نہاتے تھے اورایک خداکی حمد بیان کیاکرتے تھے۔سکھ روایات کے مطابق1499ء میں جب بابا جی تیس سال کی عمر کے تھے ایک بار جب گاؤں کی ”کالی بین“نامی ندی میں نہانے گئے تو کافی دیر تک باہر نہ آئے،لوگوں نے کنارے پر موجود ان کے کپڑوں سے ان کی گم شدگی کااندازہ لگایا،ان کے دوست نے بہت دفعہ انہیں آواز بھی دی لیکن کوئی جواب نہ آیا۔گاؤں کے لوگ پریشان ہوئے اور دولت خان نامی غوطہ خور نے ندی کاوہ حصہ چھان مارا لیکن باباجی کاکچھ پتہ نہ چلا۔گاؤں والوں کو یقین ہوچلاکہ وہ ڈوب گئے ہیں۔تین روز کے بعد وہ برآمد ہوئے اور ایک دن مکمل خاموش رہے۔اگلے دن خاموشی توڑی اور یوں گویاہوئے کہ”نہ کوئی مسلمان ہے اور نہ ہی کوئی ہندوہے،تو پھرمیں کس کے راستے پر چلوں؟؟؟میں تو بس ایک خدا کے راستے پر چلوں گاجو نہ مسلمان ہے نہ ہندوہے“۔بابا نے بتایاکہ ان تین دنوں میں انہیں خداکے دربار میں لے جایاگیاجہاں انہیں امرت سے بھراایک پیالہ دیاگیااورکہاگیاکہ یہ خداکی محبت کاجام ہے اسے پیواور میں (خدا)تمہارے ساتھ ہوں،میں تم پر اپنی رحمتیں کروں گااورتمہیں بالادستی عطاکروں گااور جو تمہاراساتھ دے گا اسے بھی میری حمایت حاصل ہو گی پس اب جاؤ میرانام لیتے رہو دوسروں کو بھی یہی کچھ کرنے کا کہتے رہو۔یہیں سے سکھ مذہب کا آغاز ہوتاہے۔اس واقعہ کے بعد بابا جی نے اپنی کل جمع پونجی غریبوں میں بانٹ دی اور اپنے ایک مسلمان دوست”مردانہ“کے ساتھ اپنے عقائد کی ترویج کے لیے روانہ ہو گئے۔باباکی زندگی میں چار سفر بہت مشہور ہوئے،پہلا سفر انہوں نے بنگال اور آسام کی طرف کیا،دوسرے سفر میں وہ تامل ناڈوکی طرف گئے تیسری دفعہ انہوں نے کشمیر،لداخ اور تبت کاقصد کیاجب کہ ان کا آخری مشہور سفربغداد،مکہ اور مدینہ اور دیگر بلاد عرب کی جانب تھا۔باباجی نے مکہ اور مدینہ میں ایک ایک سال قیام کیااور بغدادمیں چھ سالوں تک مقیم رہے،بغدادمیں انہوں نے ایک مسلمان صوفی بزرگ”حضرت مراد“کے دست مبارک پر بیعت بھی کی اوران سے روحانیت کی تعلیمات میں کسب فیض کیا۔بغدادمیں آج بھی باباگرونانک کے نام سے ایک یادگارہے جسے عثمانی ترک سلطان کاظم پاشانے 1317ھ میں تازہ کیاتھااور ابھی ماضی قریب میں ایک مسلمان تاجرشریف حسین نے اس یادگارکی تعمیر نوکی ہے۔مسلمان علاقوں میں قیام کے دوران انہیں ذات پات سے ماوراہوکر ایک ہی برتن اورایک ہی دسترخوان پر کھانا کھانے کی روایات بہت پسندآئیں۔بابا کے ان اسفار کو ”اداسی“کہاجاتا ہے بعض لوگ ان کا پانچواں اداسی بھی گنواتے ہیں جس میں انہوں نے اندرون پنجاب میں سفر کیے تھے۔اس طرح انہوں نے بلامبالغہ ہزارہا میلوں کا سفر اور اپنے اس عقیدے کا پرچار کیا کہ خداکے سچے راستے کی طرف آؤ۔ان کی تعلیمات میں جھوٹ کو ترک کرنا،مذہب کی بے رجارسومات سے احتراز،”گوروبنی“یعنی مذہبی کتب کی تحریروں کے مطابق زندگی گزارنا، بغیر کسی مخصوص مذہبی طبقے کے براہ راست خداتک رسائی حاصل کرنااور انسان کے اندر چھپے ہوئے پانچ چوروں تکبر،غصہ،لالچ،ناجائزلگاؤاورشہوت سے بچناشامل ہے۔انہوں نے سکھ مذہب کو تین بڑے بڑے راہنما اصول دیے:
1۔نام جپنا:اس سے مراایک د خدا کانام لیتے رہنا،اس کے گیت گاتے رہنااورہر وقت اسی کو ذہن وزبان میں تازہ رکھناہے۔
2۔کرت کرنی:اس سے مراددیانت داری سے محنت کر کے رزق حلال کمانا ہے۔
3۔ونڈچکنا:اس سے مراد دولت کو بانٹنا ہے اور مل جل کر کھانا ہے۔
لمبے لمبے سفرکرنے کے بعد بقیہ زندگی گزارنے کے لیے بابا گرونانک نے ”کرتارپور“کاقصبہ 1522ء میں آباد کیا۔کرتان اور لنگر یہاں کی روزانہ کی تقریبات تھیں،کرتارسے مراد سکھوں کا خداہے اور لنگرسے مراد کھانے کی مفت تقسیم ہے۔ اسی مقام پر پیر22ستمبر1539کوبابا نے فرشتہ اجل کو لبیک کہا۔ہندواور مسلمان دونوں نے آخری رسومات کی ادائگی کے لیے جسد خاکی پر اپنا حق جمانا چاہا۔سکھ مذہب کی روایات کے مطابق فیصلہ کیاگیا کہ دونوں مذاہب کے ماننے والے باباکے جسم کے گرد پھول رکھ چھوڑیں اگلے دن جن کے پھول تازہ ہوں گے ان کے مطابق آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔بعض دیگرروایات کے مطابق اس بات کی وصیت خود بابا نے کی تھی۔بہرحال اگلے دن جب چادر ہٹائی گئی تو لاش غائب تھی اور دونوں کے رکھے پھول تروتازہ دھرے تھے۔چنانچہ ہندوں نے اپنے حصے کے پھولوں کو نذرآتش کردیاجبکہ مسلمانوں نے اپنے حصے کے پھولوں کو دفن کر دیا،آج دونوں کے مقامات موجود ہیں۔”سلاخانی“بابا گرونانک کی زوجہ تھیں،ان سے دو بیٹے سری چنداورلکشمی چندان کی کل اولاد تھے۔سری چندبہت عابد اور زاہد انسان ثابت ہوااس کی داڑھی بہت لمبی اور سر کے بال بھی بڑھے ہوئے رہتے تھے اسی کے باعث سکھ مذہب میں بالوں سمیت جسم کے کسی بھی حصے کے کاٹنے کی ممانعت پائی جاتی ہے۔جبکہ لکشمی چند نے شادی کی اور اس کے بھی دو بیٹے ہوئے۔باباگرونانک نے ساری عمر درویشی میں بسر کی،مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر سے بھی ان کی ملاقات ہوئی بادشاہ نے ان سے کہا کہ مجھے نصیحت کریں بابا نے اسے قیمتی باتیں بتائیں جن کے عوض بادشاہ نے کچھ نادر تحائف پیش کیے لیکن بابا نے انہیں قبول نہ کیا۔بعض روایات کے مطابق باباجی نے ایک مسلمان لڑکی سے بھی نکاح کیاتھا،یہ آپ کاعقد ثانی تھاجس پر پہلی بیوی والے سخت نالاں تھے۔حیات خان منجھ نامی ایک مسلمان نے اپنی بیٹی ”بی بی خانم“باباکے نکاح میں دی تھی جس کو سکھوں کی مقدس کتب میں   ”ماتامجھوت“کے نام سے یادکیاجاتاہے،اس بیوی سے اولاد بھی ہوئی۔بابا گرونانک نے سنسکرت حروف سے آسانی پیداکرنے کی خاطر گرمکھی زبان کی تجدید کی،گرنتھ صاحب نامی کتاب جس میں پہلے پانچ گرؤں کی تعلیمات کو یکجاکردیاگیاہے اسی گرمکھی زبان میں لکھی گئی ہے۔بعد میں اس کتاب میں مزید بزرگوں کے اقوال بھی شامل کیے گئے۔اس کتاب کی تالیف کا دورانیہ 1469سے 1708تک بتایا جاتا ہے،سکھوں کے مذہبی مقامات گوردواروں میں یہ کتاب موجود رہتی ہے اور مذہبی تہواروں کے مواقع پر اس کتاب کے مندرجات پڑھ کر اور گا کر سامعین کو سنائے جاتے ہیں۔اس کتاب میں سکھوں کے خدا کی جو پہچان بتائی گئی ہے وہ بعینہ قرآن مجید کی دی ہوئی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔چنانچہ دنیاکے دو مذاہب اسلام اور سکھ مذہب ایسے مذاہب ہیں جن کے ہاں خدائی کا تصور شرک سے پاک ہے۔باباگرونانک کی باقیات میں سے ایک اہم ترین چیز”باباجی کاچولہ صاحب“ ہے۔”چولہ“پنجابی کا لفظ ہے جس کا مطلب قمیص ہے۔یہ سوتی کپڑے کابناہوا خاکی رنگ کاپہناواہے۔”کابلی مل“نامی ایک خاندان جو ضلع گرداسپورمیں آباد ہے اوربابا کی اولاد سے ہے،یہ چولہ صاحب آج تک اسی خاندان کی تحویل و دسترس میں ہے۔اس خاندان کے لوگ ”بیدی“کہلاتے ہیں۔اس چولہ صاحب کو باباجی کی وصیت کااعلی ترین مقام حاصل ہے۔یہ چولہ صاحب جس جگہ موجودہے اس کانام ڈیرہ گرونانک ہے۔ روایات کے مطابق یہ چولہ صاحب بغدادسے بابا ساتھ لائے تھے۔اس چولہ صاحب نامی مقدس کپڑے پر عربی رسم الخط میں بسم اللہ،سورہ فاتحہ،سورۃ اخلاص،آیت الکرسی،کچھ دیگرآیات قرآنی اورکلمہ شہادت لکھاہواہے۔بعض دیکھنے والوں نے بتایا ہے کہ اس چولہ صاحب پر اسمائے حسنی میں سے بھی کچھ درج ہیں۔اس چولہ صاحب پر تین سو کپڑے مزید چڑھارکھے گئے ہیں اور نیچے لکھاہے کہ اس چولہ صاحب کو ناپاک ہاتھ لگانے منع ہیں۔ایک اور چولہ صاحب ضلع امرتسرکے ”موضع چولہ“ میں بھی ہے،لیکن یہ باباصاحب کے بعد بنایاگیاہے۔ضلع گرداسپوروالا چولہ صاحب خالصتاََ باباگرونانک کی باقیات میں سے ہے۔اس چولے کی بنیادپر مورخین کاتجزیہ ہے کہ باباجی آخری عمر میں ہندودھرم کو کلیتاََ ترک کر چکے تھے اور اسلامی عقائد وتعلیمات ان کے قلب و ذہن میں راسخ ہو چکی تھیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ سکھوں کے گردوارے جوان کی عبادت گاہیں ہوتی ہیں مساجد کی طرز پر تعمیر کی جاتی ہیں اور دورسے دیکھنے پر مسلمان انہیں اپنی عبادت گاہ تصورکرتے ہیں۔باباگرونانک کی قربت اسلام کے باعث سکھوں کاتعمیراتی ذوق ہندؤں کی نسبت مسلمانوں سے بہت قریب رہا۔ہندؤں کی پوری کوشش تھی کہ سکھ مت کو اپناایک فرقہ قراردے دیں۔بھائی”کانھ سنکھ نابھا(1861-1938)نے ”عالمی انسائکلوپیڈیاگرنتھ صاحب“لکھ کر سکھوں میں مجدد کامقام حاصل کیا۔ جب ہندوقیادت مسلمان دشمنی میں سکھوں کواپنے مذہب کاحصہ کہ رہے تھی اس وقت 1989ء میں کانھ سنکھ نابھانے ”ہم ہندونہیں ہیں“نامی ایک کتاب لکھ کر ہندودھرم اور سکھ مت کے درمیان حد فاصل کھینچ دی،اس کتاب میں گرنتھ صاحب کے بے شمار حوالے موجود ہیں اور سب سے بڑافرق یہی ہی کہ سکھ موحد ہیں اور ہندومشرک ہیں۔سکھ مذہب دراصل توحیدی مذہب ہے۔اس مذہب کو ”گرومت“بھی کہتے ہیں،پنجابی لفظ ”گرو“کامطلب استاد یامعلم ہوتاہے۔باباگرونانک کے بعد نو گروؤں نے اس مذہب کی اشاعت کی،اس طرح کل دس گرو ہو گئے۔دسویں گرونے یہ کام خالصہ کو سونپ دیااورمقدس کتب پر عمل کرنے کی نصیحت کی پس یوں گروؤں کاسلسلہ ختم ہوگیا۔ ان کے بعد سکھ مت میں بہت سے مذہبی راہنماآئے لیکن گروکامقام کوئی بھی حاصل نہ کرپایا۔سکھوں کی مقدس کتاب ”گروگرنتھ صاحب“ہے،اس کی حیثیت زندہ گروکی سی ہے۔پانچویں سکھ گرو”ارجن دیو“نے اس کتاب کی تدوین 1603ء میں شروع کی تھی۔مسلمان صوفیائے کرام اور ہندؤ بھگشؤں کے عارفانہ اقوال و کلام کایہ پنجابی مجموعہ 1604ء میں مکمل ہوگیا۔اس کے بعد کے گروبھی اس کتاب میں کمی بیشی کرتے رہے لیکن دسویں اور آخری گرو”گوبندسنگھ“نے 1708ء میں ایک حکم نامہ جاری کیاکہ ان کے بعد کوئی گرونہیں آئے گااورمقدس کتاب”گرنتھ صاحب“ہی مذہبی پیشواکاکرداراداکرے گی۔گروگرنتھ کا ایک حصہ”بھگت بانی“مسلمان صوفی بزرگ بابا فرید گنج شکر کے کلام سے بھراہے۔امرتسرنامی مشرقی پنجاب کے شہرمیں گولڈن ٹمپل کوسکھوں کے مرکزی قبلے کی حیثیت حاصل ہے،اس میں موجودمقدس تالاب کے سنگ بنیاد کے لیے گروارجن سنگھ کی دعوت پر مسلمان صوفی بزرگ میاں میرلاہورسے تشریف لے گئے تھے۔اس وقت گروگرنتھ صاحب گورموکھی زبان میں ہے لیکن اس سے قبل یہ کتاب اردواورفارسی میں بھی شائع ہوچکی ہے۔بابا گرونانک نے اپنی حتی الامکان کوشش کی ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ایک ایسی راہ نکل آئے جو دنوں کے لیے قابل قبول ہو،ایسی راہ تو کیانکلنی تھی گویا ایک نیا مذہب ہی ابھرآیا۔بابا کی تعلیمات کوئی نئی نہیں ہیں،یہ وہی تعلیمات ہیں جو اس سے قبل آسمانی صحائف بالعموم اور قرآن مجید بالخصوص بیان کر چکاہے۔خود محسن انسانیت ﷺ کی ذات اقدس اور ان کا اسوۃ حسنہ ان تعلیمات کا بہترین مرجع ہے۔کیاسکھ مذہب آج اسی راستہ پر ہے جو بابا گرونانک نے سجھایاتھا؟؟؟اس سوال کے جواب کااگرچہ یہ موقع نہیں ہے لیکن سکھ مذہب ایک مذہب کی بجائے پنجابی کلچر کی ہیئت اختیار کر چکا ہے۔قیام پاکستان کے موقع پر سکھوں کے ہاتھوں مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کا جو قتل عام کیاگیااور جس طرح سے بے یارومددگار قافلوں میں لوٹ مار اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کیااورمسلمان خواتین کی جس طرح بے حرمتی کی گئی اسے مسلمان پاکستانی قوم کیونکر بھلا سکتی ہے؟؟؟اور کیا یہ قتل عام بابا گرونانک یا ان کے بعد آنے والے سکھ مذہب کے گروؤں کی تعلیمات کے مطابق تھا؟؟؟ان سب کے باوجود بھی پاکستان کے مسلمان آج بھی سکھوں کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ سکھوں کے بیشتر مذہبی مقامات سرزمین پاکستان میں واقع ہیں اور ہر سال کثرت سے سکھ زائرین وطن عزیزکی سرزمین پر مہمان بن کر آتے ہیں۔اس کے برعکس جس ہندوقوم کو خوش کرنے کے لیے سکھوں نے مسلمان کی ریل گاڑیوں کی ریل گاڑیوں کو تہہ تیغ کیااور لاشوں سے بھرے خون آلود ڈبے پاکستان بھیجے اس ہندو قوم نے سکھوں کو کون سا انعام دیا؟؟؟پاکستان میں تو سکھوں کے سارے مقدس مقامات محفوظ ہیں جبکہ ا ٓنجہانی اندراگاندھی نے امرتسر میں واقع سکھوں کے گولڈن ٹمپل کوبھارتی فوج کے ناپاک بوٹوں سے اس کی حرمت کوکس بری طرح سے پامال کیا۔سکھوں کا کلچر ہو یا ان کا مذہب یا ان کے مشرقی پنجاب سے بہنے والے دریاؤں کاپانی،سب کا رخ پاکستان کی جانب ہے پس چاہیے کہ سکھ مذہب کے ماننے والے اپنے دوست اور دشمن میں تمیز کریں اور پاکستان کی طرف الفت و محبت کا ہاتھ بڑھائیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے