۔،۔اسوہ نبیﷺ کی روشنی میں پرامن بقائے باہمی کا تصور۔ڈاکٹر ساجد خاکوانی۔،۔
اور
تہذیبوں کے درمیان مفاہمت کا فروغ
سیرت النبی ﷺکادرس اولین ہی دراصل پرامن بقائے باہمی ہے،محسن انسانیت ﷺنے اپنی مکی زندگی کے تیرہ سال اس انتہائی کوشش میں صرف کر دیے کہ پرامن انقلاب کا راستہ ہموار ہو سکے اور کشت و خون کی نوبت نہ آئے،آپ ﷺکے جانثاروں نے بارہا تقاضا کیا کہ مکی زندگی کی صعوبتوں سے نبردآاماہونے کے لیے انہیں مقابلے کی اجازت دی جائے لیکن محسن انسانیت ﷺکی پرامن طبیعت اس پر آمادہ نہ ہوتی تھی اور اصحاب رسول ﷺ کو مکی زندگی میں کشمکش کی اجازت مرحمت نہ ہوسکی۔آپ ﷺ اس وقت تک مکہ میں قیام پزیر رہے کہ جب تک مکہ مکرمہ کی سرزمین آپ ﷺ کے تنگ نہ کر دی گئی اور اس کے باسیوں نے آپ ﷺ کو وہاں سے نکلنے پر مجبور نہ کر دیا۔بادی النظر میں دیکھنے سے واضع طور پر محسوس کیاجاسکتاہے کہ یہ پرامن طبیعت نبوی کا شاہکار تھا کہ قتل کی آخری کوشش تک مکہ میں قیام رہا اور اہل مکہ کے گماشتے اس طرح محاصرہ کر کے گھرکے باہر صف آراہوگئے کہ موقع پاتے ہی نعوذباللہ من ذالک زندگی کا چراغ گل کر دیاجائے تب آپ ﷺنے وہاں سے رخت سفر باندھا۔مدنی زندگی کی شروعات ہی میثاق مدینہ سے ہوتی ہیں جو پرامن بقائے باہمی اور تہذیبوں کے درمیان مفاہمت کی آج دن تک ایک شاندار مایہ ناز اورتاریخ ساز دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔اس میثاق کے بعد دنیاکے نقشے پر اور اس آسمان کی چھتری تلے پہلی دفعہ ایک کثیرالمذہبی معاشرے نے جنم لیا۔ایک نبی علیہ السلام کی سربراہی میں قائم ہونے والے اس کثیرالمذہبی پرامن معاشرے میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو انکی مذہبی آزادی کی ضمانت فراہم کی گئی تھی اورجملہ اختلافی امور باہمی گفتگوسے طے کرنا منظور پائے تھے اور کسی بھی تنازع کا حتمی فیصلہ ختمی مرتبت ﷺکے دست مبارک سے ہوناضبط تحریرمیں لایاگیاتھا۔اس زمین کے سینے پریہ پہلاتحریری دستورتھاجو ایک ریاست کی بنیادبناحالانکہ اس سے پہلے کتنی ہی پڑھی لکھی ریاستیں اور حکومتیں وجود میں آ چکی تھیں لیکن،مقتدرطبقہ کی خواہش اقتداراور حوس ملک گیری کے سامنے کوئی تحریر اپنادم خم نہ دکھاسکی اورانسانی کھوپڑیوں کے میناراور مخالف تہذیب و مذہب کی عصبیت نے ہمیشہ اخلاقیات کے دروس کا مذاق ہی اڑایااور انسانیت کے سارے اسباق منہ دیکھتے ہی رہ گئے۔اس کے برعکس محسن انسانیت ﷺنے اپنی ریاست کی تاسیسی بنیادیں ہی میثاقیات کی پختہ اینٹوں پر استوار کیں۔محسن انسانیت ﷺنے انسانی تاریخ میں پہلی بار جنگی قیدیوں کی آزادی کا تصور دیاغزوہ بدر سے پہلے اس بات کا تصور ہی نہ تھا کہ جنگی قیدی کو آزاد بھی کیاجاسکتاجاہے؟؟،اس وقت تک کی بڑی بڑی تہذیبیں جن کی گونج آج کے ایوانوں میں بھی سنائی دیتی ہے ان کے کارپرداران بھی جنگی قیدی کو حق زندگی دینے پر تیار نہ تھے لیکن یہ خاتم النبیینﷺ نے پہلی بار دشمن کے قیدیوں کو زندہ رہنے اور آزادی سے زندہ رہنے کاانسانی حق عطاکیااور پرامن بقائے باہمی کی عظیم اور شاندار عمارت کی تعمیر کرتے ہوئے اس کی بنیادوں میں اپنے دست مبارک سے ان مقدس روایات کی مضبوط سلیں رکھیں۔اس سے بڑھ کریہ کہ پوری تاریخ انسانی میں ایساکبھی نہ ہواتھاکہ فاتح قوم اپنی مفتوح قوم کو برابری کی بنیادپر بٹھاکر تو اس سے مزاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرے۔روایت تو یہ تھی مفتوح اقوام کے مردوں اور عورتوں کو لونڈی غلام بنالیاجاتاتھا،انکی املاک کو لوٹ لیاجاتاتھا،ان کی فصلیں نذرآتش کردی جاتی تھیں اور انکے جانوروں اور جائدادوں کو فاتحین آپس میں بانٹ لیتے تھے۔لیکن یہاں تاریخ کاطالب علم عجیب ہی نقشہ دیکھ رہا ہے اور انگشت بدنداں ہے کہ خیبرکافاتح پرامن بقائے باہمی اور تہذیبوں اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کی تاریخ کا ایک نیاباب رقم کرنے چلاہے۔یہاں فاتح اور مفتوح آمنے سامنے بیٹھ کر مزاکرات کر رہے ہیں اور اس سے بھی زیادہ کتنی عجیب بات ہے فاتح بھی نصف پر اکتفاکررہاہے،حالانکہ وہ تلوار کے زور پر کل پر بھی تصرف حاصل کرناچاہے تو کوئی امر مانع نہیں ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ اسوۃ نبی ﷺ کی پرامن بقائے باہمی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے سامنے صرف قدیم ہی نہیں دورحاضر کی یورپی سیکولر تہذیب بھی ننگ شرمسار ہے۔انسانیت کے نام پر انسانوں کا قتل اور آج مشرق سے مغرب تک دریاؤں میں بہتاہواخون اس یورپی سیکولر تہذیب کے منہ پر زوردارتمانچہ ہے۔محسن انسانیت ﷺنے تو دشموں کو بھی معاف کر کے پرامن بقائے بامی کی ایک تاریخ ساز روایت قائم کی تھی جبکہ اس سیکولر تہذیب نے تواپنوں کو بھی معاف نہیں کیا ایک وقت میں دوست بناکر قرطاس طہارت کی مانندخوب خوب استعمال کر کے تو اگلے وقت میں موت کی نیند سلادینے کی ان گنت مثالیں اس سیکولرتہذیب کے سیاہ چہرے پر مکروہ داغ کی طرح واضع ہیں۔محسن انسانیت ﷺنے تو ایک زبردست قسم کی دینی و مذہبی ریاست میں غیر مذہب والوں کے حقوق کا بے پناہ تحفظ کر کے انہیں اپنے دامن رحمت میں سایہ عاطفت عطا کیا جب کہ اس سیکولرتہذیب نے تو لادین ریاستوں کے اندر مذہبی منافرت کی وہ داستانیں رقم کی ہیں ہولوکاسٹ سے نائن الیون کی بعد کی تاریخ تک سیکولرازم کا ورق ورق انسانی خون سے رنگین،جنسیت سے شرمساراوروحشت و بربریت کی داستانوں سے اپنے آغاز سے اختتام بھرادھراہے۔قرآن مجید نے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر62میں ارشادفرمایا کہ”یقین جانو کہ نبی عربیﷺ کے ماننے والے ہوں یایہودی،مسیحی ہوں یا صابی،جو بھی اللہ تعالی اورروزآخرپرایمان لائے گااور نیک عمل کرے گااس کااجر اس کے رب کے پاس ہے اوراس کے لیے کسی خوف اوررنج کاموقع نہیں“۔بعینہ یہی مضمون سورہ المائدہ کی آیت نمبر69میں بھی اللہ تعالی نے دہرایاہے۔پس محسن انسانیتﷺ کی تعلیمات میں ہرمذہب کے ماننے والوں کے لیے دروازے کھلے ہیں۔قرآن مجید کی انہیں تعلیمات کے نتیجے میں اولین مفسرقرآنﷺنے ایک کثیرالمذہبی اور کثیرالقومی معاشرہ تشکیل دیاجس میں سب مذاہب باہمی اشتراک حیات کی بنیادپر یقین رکھتے تھے۔اس دنیاپر مسلمانوں نے کم و بیش ایک ہزارسالوں تک حکمرانی کی اور مشرق سے مغرب تک مسلمانوں کی افواج اور اسلام کے پرچم لہراتے تھے اور ان ایک ہزارسالوں میں کہیں مذہبی فسادات رونمانہیں ہوئے،اپنے دوراقتدارمیں مسلمان اکثریت میں بھی رہے اور اسپین سمیت متعدد علاقوں میں اقلیت میں ہونے کے باوجود مسلمان حکومت کرتے رہے لیکن ان ہر دوصورتوں میں کہ غیرمسلم اکثریت تھی یا غیرمسلم اقلیت،بحیثیت مجموعی غیرمسلموں نے مسلمانوں کے اس کل دور اقتدارمیں مکمل امن و آشتی کے ساتھ اپنی مدت حیات پوری کی۔خاص طورپریہودیوں نے اپنی ہزاروں سالہ تاتریخ میں سب سے پرامن وپرمسرت وقت مسلمانوں کے دوراقتدارمیں گزارا،ان ایک ہزارسالوں میں کوئی ہولوکاسٹ نہیں ہوااور نہ ہی یہودیوں سمیت کسی مذہب کے ماننے والوں کی اجتماعی ہجرت کے جاں گسل واقعات رونماہوئے اور نہ ہی ہتھیاروں کی دوڑ اور عالمی جنگیں وقوع پزیرہوئیں۔یہ امت مسلمہ کا مجموعی کردارمفاہمت تھااور آج بھی کل دنیامیں جہاں مسلمان آبادیاں سیکولرافواج کے ہاتھوں گاجرمولی کی طرح کٹ رہی ہیں کسی مسلمان معاشرے میں غیرمسلم غیرمحفوظ نہیں ہیں۔انسانی تجربے سے اب یہ بات خوب تر آشکارہوچکی ہے کہ کوئی جنواایکارڈ اور کوئی اقوام متحدہ اور کسی طرح کے انسانیت کے دعوے دار پرامن بقائے باہمی اورتہذیبوں کے درمیان مفاہمت کے فروغ کاباعث نہیں بن سکتے۔اسلام کے سوا ہر مذہب اور ہر تہذیب نے دوسروں کا استحصال کیاہے اور کررہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے،صرف انبیاء علیھم السلام کی تعلیمات ہی پرامن بقائے باہمی اور اقوام و ملل کے درمیان مفاہمت کے فروغ کاباعث بن سکتی ہیں،اور تاریخ شاہد ہے کہ یہ تعلیمات نقلی طور پر بھی صرف مسلمانوں کے پاس محفوظ و مامون ہیں اور عملی طور پر بھی مسلمانوں کااقتدارہی ان کاضامن ہو سکتاہے۔انسانیت صرف ایک درس کی پیاسی ہے اور وہی درس خطبہ حجۃ الوداع ہی انسانوں کے درمیان انسانیت کے فروغ کاباعث بن سکتاہے۔فی زمانہ سود کے نام پر معاشی استحصال،جمہوریت کے نام پر اقوام کی گردنوں میں طوق غلامی،آزادی نسواں کے نام پر اس بازارمیں بنت حواکی ارزانی،عالمی امن کے نام پر توسیع پسندی اور فوجوں کی ماردھاڑاور یلغاراور تعلیم،صحت اور ابلاغ کے نام پر کمرشل ازم کے بدبودار،مکروہ،مکروفریب سے بھرے اور کذب و نفاق سے آلودہ تجربات سے سسکتی انسانیت اب تھک چکی ہے۔اہل نظر اب مشرق سے ابھرتے ہوئے اس سورج کو بنظرغائر دیکھ رہے ہیں جس کی کرنیں اقراکے نور سے منور ہوں گی اور وہ دن دور نہیں جب سیرۃﷺ کے چشمہ فیض سے انسانیت کو آسودگی میسر آنے والی ہے۔
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے