۔،۔خرقہ مرشد۔پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔


جس دن سے پیکر خالی نے اِس دھرتی کو رونق بخشی اور افزائش نسل کا آغاز ہوا اُس دن سے عشق و محبت کے ایک سے بڑھ کر ایک مظاہرے ہر دور میں اہل دنیا نے دیکھے ہیں عشق و محبت ہجر و وصل کے یہ لازوال مظاہرے روز محشر تک اِسی طرح جاری و ساری رہیں گے‘ عشق و محبت کا عظیم الشان اظہار ہم خدائے لازوال کا اپنے محبوب سر تاج الانبیاء نبی کریم ﷺ کے ساتھ دیکھتے ہیں پھر سرور کو نین ﷺ کا اپنی امت سے عشق‘صحابہ کرام کا آقا کریم ﷺ پھر امت محمدی ﷺ کا اپنے نبی پاک ﷺ سے یہ سلسلہ نسل در نسل جاری ہے اور پھر اہل دنیا نے ہر دور میں مرشد مرید اور مرید مرشد کے عشق لازوال واقعات بھی ہر دور میں دیکھے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے راہ حق تصوف کی وادی پر خار میں مرید اپنے عشق میں فنا فی الشیخ کی منزل سے گزر کر ہی بارگاہ الٰہی میں پیش ہو تا ہے دنیا میں مرید کے لیے ماں باپ دوست احباب اولاد ہر چیز سے زیادہ عشق اپنے مرشد سے ہو تا ہے اور اگر مرشد باکمال ہو جس نے باطن کے اندھیروں کو اجالوں میں بدل کر پیکر لطافت بنا دیا ہو تو ایسے مرشد پر ہزاروں جانیں بھی قربان کی جاتی ہیں مرشد کے نام اور عشق کی مالا مرید ہر سانس کے ساتھ جپتا ہے کو چہ تصوف کی راہیں گلیاں درو دیوار کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے مرید ہزاروں میل کا سفر پلکوں پر چل کر کر تا ہے پھر مرشد کے روشن چہرے کا ایک نظارہ دنیا جہاں سے بے خبر کر دیتا ہے مرید ایک جھلک کے لیے اپنی جان جوانی حسن دولت جائیداد ہر وقت قربان کر نے کو تیار رہتا ہے پھر ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب مرشد مرید کے سینے کو نور معرفت سے منور کر نے کے بعد واصل حق ہو جاتا ہے تو وہ گھڑی مرید پر جس طرح گزری ہے انہیں الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا جاسکتا اور نہ ہی الفاظ اُس درد دکھ ہجر کو بیان کرنے کی طاقت رکھتے ہیں ایسی ہی نازک گھڑی بابا فریدؒ کی زندگی میں بھی آتی ہے جب مرشد مٹی کی چادر اوڑھ کر خاک نشین ہو جاتے ہیں تو دنیا اندھیر نگری بن جاتی ہے آخری بار بابا فرید ؒ ربیع الاول کے مہینے میں دہلی کو چہ مرشد پر تشریف لاتے ہیں چار دن قیام کے بعد ہانسی جانے کی اجازت طلب کر تے ہیں تو مرشد اعلی ؒ نظر بھر کر بابا فریدؒ کو دیکھ کر گلے سے لگاتے ہیں پھر درد ناک دل سوز لہجے میں پیار سے دیکھتے ہو ئے کہتے ہیں اے فرزند دنیا و آخرت میں تم ہی تو میرے ساتھی ہو اور میرا اور تمہارا مقام ایک ہی ہے ساتھ ہی یہ بھی کہا اے لاڈلے مرید تمہاری امانت میں قاضی حمید الدین ناگوری ؒ کو دے دوں گا وہ تمہیں وقت آنے پر دے دیں گے پھر بو جھل دل گرفتہ بھیگی آنکھوں کے ساتھ بابا فریدؒ دہلی چھوڑکر ہانسی روانہ ہو جاتے ہیں چند دن گزر گئے لیکن مرشد کا اداس چہرہ اور آخری فقرہ کہ تمہاری امانت حمید الدین ناگوری ؒ کو دے دوں گابار بار یاد آنے لگا طبیعت انجانے درد سے بو جھل ہو نے لگی اپنی درد بھری اداس راتوں میں ایک رات خواب میں مرشد کریم ؒ کی زیارت ہو تی ہے کہ مرشد انہیں یاد کر رہے ہیں آپ ؒ اُسی وقت اٹھ گئے اور زوجہ محترمہ سے کہا میرے سفر کی تیاری کریں میں نے ابھی دہلی جانا ہے کو چہ مرشد ؒ اور شیخ شیخ قطب الدین بختیار کاکی ؒ کی یاد شدت سے آرہی ہے میں نے فوری طور پر اُن کے پاس جانا ہے تو بیگم بولیں ابھی تو چند دن پہلے آپ ؒ دہلی سے آئے ہیں پھر اچانک کیوں جانے کا ارادہ کر لیا تو اداسی سے بھرپور لہجے میں بو لے مرشد کریم کا حکم ہے لہذا مجھے اِسی وقت دہلی جانا ہے تو زوجہ بولیں رات کے آخری پہر تو نہ جائیں صبح چلے جائیے گا تو سلطان پاک پتن ؒ بولے نہیں میرے لیے ایک لمحہ بھی یہاں ٹہرنا صدی کے برابر ہے میں اِسی وقت جاؤں گاورنہ میری جان نکل جائے گی اب جدائی برداشت نہیں ہو ئی مُجھ سے جب تک میں مرشد کے قدموں سے جاکر لپٹ نہ جاؤں گا مجھے قرار نہیں آئے گا میں ہر صورت ابھی جاؤں گا۔سفر اور انتظار کی سولی پر لٹک کر بابا فریدؒ اُسی وقت دہلی روانہ ہو گئے چار دن کی صبر آزما مسافت کے بعد دہلی پہنچے تو پورا شہر ماتمی لباس میں غرق نظر آیا درو دیوار سے ماتم ٹپک رہا تھا سارا شہرماتم کدہ بن چکا تھا دہلی شہر اپنے حقیقی سلطان سے محروم ہو چکا تھا دل کا مسیحا انہیں چھوڑ کر خاک نشین ہو چکا تھا اہل دہلی چاک گریبان خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ کی جدائی پر ماتم کر تے نظر آئے پھر اہل دنیا نے عجیب نظارہ دیکھا وہ بابا فریدؒ جس نے تزکیہ نفس کے بعد خود کو صابرین میں شامل کر لیا تھا جس نے خود کو خدا کی رضا میں ڈھال لیا تھا آج دیوانہ وار بچوں کی طرح مرشد کی قبر سے لپٹا دھاڑیں مار مار کر رو رہا ہے جس طرح کو ئی بچہ اپنی بچھڑی ماں سے لپٹ کر روتا ہے اُسی طرح بابا فریدؒ اپنے مرشد کی قبر سے لپٹ کر بلک بلک کر روتے ہیں سارا شہر مرید کے اپنے مرشد سے دیوانہ وار والہانہ عقیدت کو دیکھ دیکھ کر حیران ہو تا ہے اور پھر اگلے دن حمید الدین ناگوری ؒ نے خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ کا خرقہ (لباس) جو مرشد کریم پہنا کر تے تھے جو سلسلہ چشتیہ کے بزرگوں کی امانت تھا جو برسوں شہنشاہ ِ اجمیر خواجہ خواجگان خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ نے پہنا تھا جس خرقے کو برسوں خواجہ معین الدین ؒ اور پھر خواجہ قطب الدینؒ کے جسم مبارک کو چھونے کی سعادت ملی تھی جس سے سلسلہ چشت کے عظیم بزرگوں کی خوشبو آرہی تھی بابا فریدؒ کو پیش کیا حمید الدین ناگوریؒ بول رہے تھے اے سلسلہ چشت کے آنے والے وقتوں کے عظیم درویش اب خواجگان چشت کی اِس عظیم امانت کے حق دار صرف آپ ؒ ہی تو ہیں اِس کو پہننے کے حق دار صرف اور صرف آپ ؒ ہی تو ہیں جس کی وصیت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ کر گئے تھے اب مرشد کا یہ نایاب تحفہ آپ ؒ کی نظر ہے بابا فرید ؒ نے اپنے مرشد اور سلسلہ چشت کے خواجگان کے اِس عظیم خر قے کو دیکھا تو مرشد اور دادا مرشد کی یاد آگئی گر یہ طاری ہو گیا بلک بلک کر رونے لگے ساتھ یہ کہتے جاتے یہ غلام اِس قابل کہاں کہ مرشد کے پہنے ہو ئے لباس کو اپنے جسم پر پہنوں کہاں مرشد کریم ؒ اور کہاں پر غلام زادہ‘ وہ آسمان میں زمین‘ وہ پاک میں ناپاک‘ وہ نور میں زنگ آلودہ‘ میری اتنی اوقات کہاں کہ اپنے مرشد کے پہنے ہو ئے درویشی لباس کو اپنے جسم پر سجاؤں تو حمید الدین ناگوری ؒ بولے مرشد کریم بہتر جانتے تھے اِس روحانی خرقے کا وارث حق دار کون ہے اِسی لیے تو خواجہ قطب الدین بختیار کا کی ؒ سفر آخرت سے پہلے سب کے سامنے حکم لگا گئے تھے جب بابا فریدؒ آئیں تو خواجگان چشت کے سارے تبرکات اور خرقہ چشت ان کے حوالے کر دئیے جائیں کیونکہ میرے بعد وہ ہی اِن امانتوں اور تبرکات کے سب سے زیادہ اہل ہیں پھر حمید الدین ناگوری ؒ نے خرقہ عصا چوبی نعلین سب کچھ بابا فرید ؒ کو پیش کر دئیے زہد الاولیاء بابا فرید ؒ نے تبرکات لیے پھر دو رکعت نوافل ادا کر کے لرزتے لڑکھڑاتے قدمو ں کے ساتھ مسند ِمرشد پر جاکر بیٹھ گئے جہاں خواجہ قطب الدین بختیار کا کی ؒ بیٹھا کر تے تھے مرشد کی یاد آئی تو آنکھوں سے درد کے دریا بہنے لگے پھر حاضرین کو مخاطب کیا اور فرمایا جب میں آخری بار مرشد سے مل کر ہانسی جا رہا تھا تو میرے شہنشاہ مرشدؒ نے فرما یا تھافرید میرا مقام درحقیقت تمہارا ہی تو مقام ہے پھر رونے لگے یہ تو میرے شیخ کا کرم اورمحبت تھی ورنہ کہاں شیخ اور کہا ں میں غلام زادہ پھر بولے میں خواجہ قطب ؒ کا غلام زادہ ہوں میرے لیے دعا کریں میں مرشد کے مان کو قائم رکھ سکوں مرشد کے نام کو زندہ رکھ سکوں پھر بابا فریدؒ زاروقطار رونے لگے حاضرین بھی دھاڑیں مار کر رونے لگے اور یک زبان بو لے آپ ؒ ہمارے پیر کی نشانی ہیں اِس لیے اب آپ ؒ ہی ہمارے شیخ ہیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے