۔،۔ بابری مسجد پر بھارتی سپریم کورٹ کا شرمناک اور متعصبانہ فیصلہ۔ ( پہلو۔صابر مغل ) ۔،۔


انتہا پسند بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور اسی نظریہ کے پیروکار ہندو ازم کے تحت جنوبی ایشیا کا امن کسی شدید خطرے کی نشاندہی کر رہا ہے،آر ایس ایس نظریہ کے حامل سفاک نریندر مودی کے مسلمانوں پر بھارت میں زندگی تنگ کر دینا کسی عالمی ایجنڈے کا حصہ جسے مسلم دشمن طاغوتی و عالمی طاقتوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے،مقبوضہ کشمیرمیں سو دن سے مسلمان بدترین ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں،پورے بھارت میں کہیں بھی مسلمان محفوظ نہیں،کشمیر کی آزاد حیثیت ختم کر دی گئی مگر دنیا کے عالمی منصف اور ہیومن رائٹس کے چیمپئن مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، اب تو وہاں کی عدلیہ بھی ہدو ازم کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالنے لگی ہے یہ بات اور بھی خطرناک ہے ہفتہ کے روز بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے شہید مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ سنا دیا،اس عدالتی فیصلے کو انوکھا،شرمناک،انتہا پسندی اور تعصب سے لبریز کہنا غلط نہیں عدالت مان بھی رہی تھی کہ بابری مسجد کو شہادت غیر قانونی مگر اب وہاں مندر کی تعمیر ہو گی،سپریم کورٹ ہائی کورٹ الہ آباد کے ستمبر2010کے فیصلہ کے خلاف41دائر اپیلوں پر سماعت کر رہی تھی،عدالت نے6اکتوبر سے40دن تک روزانہ سماعت کے بعد16اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا مگر پاکستان کی جانب سے سکھ کمیونٹی کے لئے کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر اچانک سماعت مقرر کر کے اسی روز فیصلہ سنایا تا کہ دنیا کی نظریں پاکستان کے تاریخی اقدام سے ہٹ جائیں،بھارتی چیف جسٹس رنجن گوکوئی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ جسٹس شردار وندا،جسٹس اشوک بھوشن،جسٹس ڈی وائی چند چوڑا اور مسلمان جج عبدالنذیر نے متفقہ طور یہ فیصلہ سنایا ایک ہزار45صفحات پر مشتمل فیصلہ اہم ترین اور27سال سے جاری کیس سے متعلقہ تھاجس کے مطابق عدالت نے فیصلہ کے ابتدائی حصہ میں ہی بابری مسجد کے قیام پر نر موسیٰ اکھاڑ اور شعیہ وقف بورڈ کا دعویٰ مسترد کر دیامگر کہا متنازعہ زمین پر مندر قائم اور مسجد کے لئے الگ سے پانچ ایکڑ زمین فراہم کی جائے ایدھیا میں بابری مسجد کی متنازعہ زمین کے مالک رام جنم بھومی نیاس ہیں مندر کی تعمیر میں ٹرسٹ3ماہ کے اندر تشکیل پائے آثار قدیمہ کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بابری مسجد کے نیچے بھی تعمیرات تھیں جن کا اسلام سے تعلق نہیں تھااس بات کے اطمینان بخش شواہد موجود ہیں کہ بابری مسجد خالی زمین پر تعمیر نہیں کی گئی تھی ،آرکیالوجیکل سروے انڈیا کے مطابقاس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ متانزعہ زمین پر 12ویں صدی عیسوی میں مندر تھااور نہ ہی خاص طور پر بتایا گیا کہبابری مسجد کے نیچے پائی جانے والی تعمیرات مندر کی تھیں چیف جسٹس کے مطابق اس رپورٹ میں انتہائی اہم بات کاجواب نہیں کہ بابری مسجد کسی مندر کو گرا کر تعمیر کی گئی اس بات کا بھی کوئی تاریخی ثبوت نہیں کہ 12سے16صدی تک جب بابری مسجد بنائی گئی تب کسی قسم کی تعمیرات موجود تھیں مسلمانوں نے مسجد کو لاوارث نہیں چھوڑامسلمان مسجد کے اندرونی جبکہ ہندو مسجد کے باہر اپنی اپنی عبادات کرتے ہندوؤں کے مطابق زمین دیو رام کا جنم بھونی ہے لہٰذا بابری مسجد والی متنازعہ جگہ کی تقسیم قانونی ہونی چاہئے، ان حقائق کے باجود سپریم کورٹ آف انڈیا یہ انتہائی متعصبانہ فیصلہ نے پوری دنیا میں انصاف کا قتل کر دیا ہے،انڈیا میں شعبہ بلکہ عدلیہ تک سب کچھ انتہا پسند ہندو ازم کے زیر سایہ ہے،چیف جسٹس نے ایک روز پہلے ایودھیا کے چیف آفیسر اور کمشنر سے ملاقات کی تھی،فیصلہ ساڑھے دس بجے شروع ہو کر ایک گھنٹے تک رہا اس دوران پورا انڈیا سیکیورٹی حصار میں تھا،پیرا ملٹری کے دستے تک کئی علاقوں میں تعینات تھے،نئی دہلی،ممبئی میں کیمروں اور اضافی نفری سے مانیٹرنگ کی گئی،ریاست اتر پردیش کے سب سے بڑے شہر اور ضلع فیض آباد میں توسیکیورٹی کرفیو مانند تھی تمام غیر مقامی افراد کو شہر سے نکال دیا گیا9سے 11تک ہر قسم کے تعلیمی ادارے بند،دفعہ 144نافذ،علی پور اور ایودھیا میں ٹیلی فون اور انٹر نیٹ سروس بند،پاک بھارت سرحد پر بھی سیکیورٹی ریڈ الرٹ کی گئی،عدالتی فیصلہ کے وقت عدالت کے باہر ہی نہیں بلکہ پورے انڈیا میں انہتا پسند ہندوؤں نے جشن منایا مٹھائیاں تقسیم کیں اور بھنگڑے ڈالے،مسلمان دشمن اس عدالتی فیصلہ پر پاکستان نے اس فیصلہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاانصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے بھارت کے نام نہاد سیکولرازم کا چہرہ بے نقاب اور وہاں اقلیتوں کو اپنے عقائد اور عبادت گاہوں پر تشویش ہے بھارت میں ہندو توا کے نظریہ انتہا پسند سوچ خطے میں امن کے لئے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے، آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفورنے کہاعظیم قائد محمد علی جناح کا ہندو شدت پسندی کے بارے میں نظریہ درست ثابت ہو گیاوہاں کروڑوں مسلمان اور دیگر اقلیتیں غیر محفوظ ہیں پاکستان ادھر سکھ مذہب کے لئے کرتار پور راہداری کھول رہا تھا ادھرادھر بھارتی عدلیہ مسلمانوں کا گلہ گھونٹ رہی تھی بابری مسجد کا فیصلہ شرمناک جبکہ مودی ھکومت مسلسل نفرت کے بیج بو رہی ہے یہ فیصلہ پاکستان کے لئے پی آر کی تباہی ہی نہیں بلکہ ہندو تواسے انسانیت کی تباہی کی عکاسی ہے دنیا بھارت کی بد صورتی دیکھے گی،شاہ محمود قریشی نے کہاکرتار پور راہداری کھولنیوقت بھارتی عدالت کا فیصلہ معنی خیز ہے یہاں گاندھی اور نہرو کا ہندوستان دفن جبکہ نریندر نے نفرت آمیز ہندوستان بنا دیا ہے، وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہابھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ شرمناک،غیر قانونی اور غیر انسانی ہے،فردوس عاشق اعوان نے کہاانڈیا کی سب سے بڑی عدالت نے ثابت کر دیا کہ وہ بھی آزاد نہیں،عبدالغفور حیدری نے کہایہ فیصلہ تاریخ پر طمانچہ ہے دہلی اب سیکولر نہیں انتہا پسندی کا مرکز ہے،سینیٹر شیری ارحمان نے کہایہ فیصلہ انتہا پسند ہندو کی نئی روش،نئے ہندوستان کی عکاسی ہے جسے اچھی طرح سمجھنا ہو گا،جمیعتہ علماء ہند کے صدر مولاناسید ارشد مدنی نے کہایہ فیصلہ ہماری توقعات کے مطابق نہیں مگر مسلمان مایوسی کا شکار نہ ہوں،عالمی شہرت یافتہ دارلعلوم ہند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نے کہافیصلہ بے حد حیرت انگیز اور سمجھ سے بالا تر ہے، انڈیا پرسنل لاء نے کہا ہم اس فیصلے سے مطمئن نہیں،آل انڈیا مجلس وحدت المسلمین کے اسد الدین اویسی نے کہا واضح ہو گیا کہ حقائق پر آستھا کی جیت ہوئی، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم کے نام پیغام میں کہاہندوستان کی عدالت اعظمیٰ میں آج کا دن ایک زریں باب کی مانند اور سپریم کورٹ نے سخت قوت ارادی کا مظاہرہ کیاجج اور ہمارا نظام عدل و انصاف مبارکباد کا مستحق ہے اس فیصلہ کے بعد ہندو شہریوں پر متحرک اور سرگرم ہونے کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے،راشٹریہ سویم سیوک کے سربراہ موہن بھاگوت نے آستھا اور عقیدت مندوں کو انصاف ملا،کانگریس سربراہ راہول نے حسب معمول منافقانہ رویہ کے مطابق کہاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں،بابری مسجد پر 17سال تک تحقیق کرنے ولاے جسٹس لہرا من کمیشن کی رپورٹ میں بابری مسجد کی شہادت کو نہ صرف گہری سازش بلکہ ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی بھی سفارش کی گئی،اس حوالے سے انتہا پسند ہندو رہنماؤں لال کشن،ایل کے ایڈوانی،مرلی منوہر،چوشی بھارتی سمیت متعدد کے کلاف مقدمات درج کئے گئے،ہر سال ہندوہندو پریشد کی طرف سے یہاں شوریا روس یعنی بہادری کا دن منایا جاتا ہے،مغل بادشاہ ظہر الدین بابر کے نام سے منسوب تاریخی بابری مسجد جسے مغل سپہ سالارمیر باقی نے1527مین تعمیر کرایا تھا مغل فن تعمیر کا ایک شاہکار تھی،جس کے تین گنبد،صحن میں ایک کنواں،بلند ترین چھت اور محراب کی خاص بات یہ کہ وہاں کھڑے کسی شخص کی سرگوشی بھی مسجد کے تمام اندرونی حصے میں سنی جاتی کو6دسمبر1992میں ہندو انتہا پسندوں نے محض چار گھنٹو میں شہید کرڈالا جو ایک خوفناک منظر تھا،جس کیبعد بد ترین فسادات کا آغاز ہوا 3ہزار سے زائد افراد ان فسادات کی نذر ہو گئیبعد میں گجرات فسادات بھی اسی کا نتیجہ تھے،ان فسادات وک تقسیم بر صغیر کے بعد سب سے بڑے فسادات کہا جاتا ہے،تب سے بابری مسجد کو شہید کرنے کا کیس مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہا،مسلمانوں کے مطابق ثبوت یہ تھا کہ اس مسجد کے خلاف1835,،1934اور1949کو کیس کئے گئے جو مسجد کی ملکیت ظاہر کرتے ہیں،جبہ ہندوؤں کا وقف تھا کہ مندر صدیوں پہلے یہاں موجود تھاجسے ممکنہ طور پر راجہ وکرم دتیانے بنایاہو گا،11ویں صدی میں اسے دوبارہ بنایا گیا تاہم اس مندر کو 16ویں صدی میں مغل بادشاہ بابر نے پھر 17صدی میں ممکنہ طور پر اورنگ زیب عالمگیر نے گرایا،ان کی تاریخی دستاویز جئے سکانڈو اور بعد کے ایڈیشنز میں بھی اس کا ذکر ہے کہ یہ اس جگہ رام بھگوان کا جنم ہوا،ہندو اعتقاد کے مطابق رام شنو کا ساتواں اوتارجن کا تعلق مورج نسبی خاندان کے ایک کھتری راجہ وشرتھ راج کے گھرانے سے تھا،نریندر مودی نیانتخابات2014اور2019میں بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے ہندو ووٹ حاصل کیا تھا،مندر کی تعمیر بی جے پی کے ایجنڈے کا حصہ ہے جس کے لئے اب ان کی عدالت نے بھی انہی کے مطابق راہ ہموار کر دی ہے،ایسا شرمناک مذہبی کھلواڑ انتہا پسند ہندو کی اصل سوچ کے عین مطابق ہے،

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے