۔،۔ جرمنی فرینکفرٹ میں شیخ مظفرالحسن اور ثریا شہاب کی یادمیں ایک خوبصورت شام۔نذر حسین۔،۔
٭وہ لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں جو قلم کی حفاظت کرتے ہیں۔ سعدیہ امام ٭
٭صحافت پیغمبروں جیساکام ہے،جو دیکھا جو ملا اُس کو آگے ویسے کا ویسا پہنچا دیا۔پروفیسر ڈاکٹر اسلم سید٭

نذر حسین شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔ انسان دوست، غیر جانبدار صحافت کے امین شیخ مظفر الحسن مرحوم، ہمدرد،شاعر، مصنفہ ایران۔ ریڈیو زاہدان کی سریلی آواز ثریا شہاب مرحومہ کی یاد میں ہیومن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام دوستوں کے مشورہ پر سید اقبال حیدر نے ایک نہ بھلایا جانے والا یادوں سے بھرا پروگرام ترتیب دیا جس کی صدارت قائم مقام قونصل جنرل شعیب منصور Shoaib Mansoorنے کی، تقریب کے مہمانان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر اسلم سید Prof. Dr. Aslam Syedریٹائرڈ ہامبولٹ یونیورسٹی برلن Humboldt-Universität zu Berlin۔پروفیسر ڈاکٹر الموتھ ڈیگیز،جوہانس گوشٹبرگ یونیورسٹی مائینز Johannes Gutenberg-Universität Mainz۔ سعدیہ امام Sadia Imam Pakistani Television presenter, Actress and Model. تھے۔ محفل کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا نعتیہ کلام پیش کیا گیا، نقیب محفل سید اقبال حیدر نے تشریف لانے والے تمام خواتین و حضرات کا شکریہ ادا کیا،نہ صرف فرینکفرٹ بلکہ دور دراز علاقوں سے شیخ مظفر اور ثریا شہاب کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے تشریف لائے تھے۔ہم ہیں پاکستان،حلقہ ارباب ذوق اور پنجابی ادبی تنظیم پنجند بھی اپنی ٹیم کے ساتھ تشریف لائے تھے۔ عطاالرحمن اشرف کا کہنا تھا کہ شیخ مظفر اور ثریا شہاب کی شخصیات نے جرمنی میں اردو ادب کے لئے بے پناہ کام کیا ہے اُن دونوں میں ایک خوبی یکساں تھی دونوں کا یہ وطیرہ تھا کہ پریشان حال اور ضرورت مند حضرات کی بڑھ چڑھ کر مدد کرنے میں پیش پیش ہوتے تھے۔پرویز زیدی کا کہنا تھا کہ شیخ مظفر رضاکارانہ طور پر ایمنسٹی انٹرنیشل Amnesty International کے لئے بھی کام کرتے تھے، بہت ہمدرد اور شفیق انسان تھے،ارشاد ہاشمی کا کہنا تھا کہ ان کی حیثیت میرے لئے استاد جیسی تھی وہ جب بینک Deutsche Bank سے چھٹی کر کے آتے تھے تو گھنٹوں میرے پاس بیٹھ کر مجھے اوصاف اخبار کی ترقی کے لئے مشورے دیتے تھے۔    حافظ عبد الرحمن جو نہ صرف کاروباری شخصیت ہیں بلکہ مذہبی اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی آپ پہچانے جاتے ہیں، آپ نے ثریا شہاب اور مظفر شیخ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ہر حوالہ اپنی جگہ پر معتبرہے، آپ دونوں نے جرمنی میں اردہ ادب کے فروغ کے لئے بے پناہ کام کیا سچی صحافت کی بنیاد رکھی، ان کا فرمانا تھا کہ گزرے دوستوں کو یاد کرنا چاہیئے مگر میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ جو افراد اب بھی کمیونٹی کے لئے کام کر رہے ہیں ان کے لئے بھی تالیاں بجائیں ہمارے نذر بھائی کو میں پینتیس سال سے جانتا ہوں ہر کمیونٹی فنکشن میں موجود ہوتے ہیں محفلیں آرگنائیز کرتے ہیں، ریلیوں کا اہتمام کرتے ہیں ان کے لئے بھی تالیاں بجا دیں۔                                  پروفیسر ڈاکٹر الموتھ ڈیگز کا کہنا تھا کہ آپ نے جن کی یاد میں تقریب کا انتظام کیا انہوں نے اردو ادب اور اردو زبان کو زندہ رکھنے کے لئے بے انتہا کام کیا، انہوں نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی حیثیت کے مطابق پوری کوشش کروں گی کہ میں بھی اردو ادب کی مدد کروں، ان کا فرمانا تھا کہ آپ نے مجھے عزت بخشی جس کے لئے میں شکر ادا کرنا چاہتی ہوں۔                                                     سعدیہ امام جو مرحوم شیخ مظفر اور ثریا شہاب سے واقف بھی نہ تھی انہوں نے ایک دن کی کاوش کے بعد بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ثریا شہاب کے ماضی پر بہت کچھ کہہ ڈالا، سعدیہ امام پاکستان کی مشہور شخصیت ہیں ٹی وی سٹار کے علاوہ فوٹو ماڈل Actress, Television presenter, Model بغرضیکہ شو بزنس کے ہر شعبہ میں کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہیں نے، انہوں نے اس بات پرزور دیا کہ ایسی بے نذیر ہستی کو پاکستان میں ایوارڈ کیوں نہیں دیا گیا،جن کی آواز سننے کے لئے 60کی دہائی میں لوگ بے چین رہتے تھے کہ کب وہ آواز سنائی دے گی۔آواز کی دنیا کے دوستو یہ ریڈیو زاہدان ہے پھر ان کے فرمائشی گانے نشر کئے جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹسٹ اور جرنلسٹ کا رشتہ بڑا الگ ہوتا ہے، ثریا شہاب لفظوں سے کھیلا کرتی تھی لفظوں کو خوشبو میں تبدیل کرنے والی زندگی کے آخری ایام میں بولنے تک کو قاصر تھیں،ان کا کہنا تھا کہ جتنی تعریف میں نے آج شیخ مظفر کی سنی ہے یقیناََ وہ بہت ہی اچھے انسان تھے جن کو آج بھی اسی طرح یاد کیا جاتا ہے۔شیخ مظفر کے دیرینہ دوست سجاد حسین نقوی سابقہ صدر پاکستان پیپلز پارٹی جرمنی جو نہ صرف شیخ مظفر بلکہ ثریا شہاب کے ساتھ بھی قدم بہ قدم چلتے رہے ہیں۔شیخ مظفر پیپلز پارٹی کے جیالے ہونے کے ناطے پاکستان میں مساوات کے ایڈیٹر رہے، جنرل ضیاء کے زمانہ میں پابندیوں کے باوجود سچ لکھا کرتے تھے جب صحافت کرتے تھے تو سب کچھ بھول جاتے تھے۔بھٹو کے اُن الفاظ پر ٭اگر مجھے قتل کر دیا گیا٭آپ نے کالم لکھا جس کی پاداش میں جیل بھی دیکھنی پڑی اور پاکستان کو بھی چھوڑنا پڑا۔جرمنی آنے پر وہ ہاتھ سے لکھ کر رسالہ ٭نصرت٭نکالا کرتے تھے سید سجاد نقوی ان کے ہمسفر تھے۔شفیق مراد بھی ان دونوں کے چاہنے والوں میں سے تھے ان کا کہنا تھا کہ ثریا شہاب جن کی آواز ہواوُں پر سفر کرتی ہوئی ہماری سماعتوں سے ٹکراتی تھی لوگ ان کی آواز سننے کو گھنٹوں بیٹھے انتظار کرتے تھے،ان کا کہنا تھا کہ ثریا شہاب کا متبادل آج تک نہ مل سکا،شیخ مظفر کا پیار اور مسکراتا ہوا چہرہ جس کو بھلایا نہیں جا سکتابہت ہمدرد اور شفیق انسان تھے۔ مہمانان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر اسلم سید جو تاریخ کے پروفیسر اور قالم نویس اور صحافی بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا میں تاریخ کا طالب علم ہوں آسان لفظوں میں اتنا کہنا چاہوں گا کلام پاک میں سورہ ہے چھوٹی سی العصر۔محیط ہے وہ انسان کی پوری تاریخ اور وجود میں جس میں اللہ تعالی نے زمانے کی قسم کھائی ہے،کہ انسان خسارے میں ہے سوائے ان کے،جو ایمان لائے،عمل صالح کئے، حق کا ساتھ دیا اور صبر کیا۔جب میں نے غور کیا یہ لفظ انسان کے لئے نہیں ہے پورے بنی نوع کے لئے حقیقت ان چار فقروں میں سمٹ کر آئی ہے۔رسول اکرمﷺ کی ایک حدیث آپ نے بہت دفعہ سنی ہو گی جس شخص نے ایک انسان کی جان بچائی اُس نے پوری انسانیت کو نئی زندگی دی ہے،پوری حدیث ہم لوگ نہیں سناتے اس سے آگے ہے جس نے ایک گزرے ہوئے انسان کو یاد کیا اس نے پوری انسانیت کو نئی زندگی عطاء کی،یہ میں اپنے سٹوڈنٹ کو بھی بتاتا ہوں، یہ دو ہستیاں جن کی یاد میں ہم آج کٹھے ہوئے ہیں،اقبال کے مطابق کچھ پرانے لوگ تو میں بھی ان ہی میں سے ایک ہوں جن کو کچھ پرانی باتیں یاد ہوتی ہیں میں نے مظفر شیخ کا بھی نام سنا، ثریا شہاب کو ٹی وی پر سنتے تھے۔بیس سال پہلے برلن میں اردو انجمن اس کے صدر ان کو معلوم ہوا کہ آپ تشریف لائیں،ادب کا بھی شوق ہے، وہاں پر میں نے کہا اردو زبان واحد ایک ایسی زبان ہے جس میں ادب کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔لٹریچر کا ترجمعہ ادب نہیں ہے یہ ادب بہت کم لوگ جانتے ہیں اس لفظ سے نکلا ہے جس کو ہم خُلَق، اخلاق کہتے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالی نے حضور کی تعریف کرتے کہا میں نے تمہیں عظیم، خُلقِ عظیم عطاء کی ہے۔ شعیب منصور جو اس وقت دو کشتیوں کے کپتان ہیں،ہیڈ آف چانسلری Heads of the Chancellery،اور قائم مقام قونصل جنرل جن کے دروازے سب کے لئے کھلے ہوتے ہیں وہ ہر محفل میں کہتے ہیں میرا فون نمبر سب کے پاس ہے پاکستانی قونصل خانہ آپ کا گھر ہے، ان کا فرمانا تھا کہ گورنمنٹ کالج کے زمانہ میں لوگوں کے پیچھے بھاگتے تھے کہ کچھ لکھ کر دیں تو ایک صاحب نے آزاد غزل دی جو اس موقع کی مناسبت سے۔ثریا شہاب اور مظفر شیخ کے حوالہ سے یاد آ گئی جس سے آغاز کرنا چاہوں گا۔عنوان تھا تیرا عکس۔ تیرا عکس میری آنکھ میں۔کچھ اس طرح سے ٹھہرا۔کہ پھر بینائی بن گیا۔محترمہ ثریا شہاب اور مظفر شیخ کے کام تھے جو ہمیں آج بھی یاد ہیں جس سے ان کی یاد ستاتی ہے،ماشا اللہ ہماری کمیونٹی ہزاروں میں ہے،بہت سے افراد دنیا کو چھوڑ کر جا چکے ہیں مگر آج کی تقریب ان دو افراد کی یاد میں منائی جا رہی ہے، میرا رابطہ کمیونٹی،پریس کلب اور ہر فرد سے ہے کوئی شخص مجھے ایسا نہیں ملا جس نے مظفر شیخ کی تعریف نہ کی ہو،انہی الفاظ میں کہ وہ خدا ترس تھے وہ ہر شخص کا مسئلہ حل کرنا چاہتے تھے یہ نہیں کہتے تھے کہ میرا کیا فائدہ ہو گا،ہمیں شیخ مظفر کے نقش قدم پر چلنا چاہیئے آخر میں اتنا کہتا چلوں میری ایک پالیسی ہے کوئی بھی مسئلہ ہے آپ آ سکتے ہیں کوئی بھی جائز مسئلہ ہو میری گارنٹی ہے کہ اس کو حل کیا جائے گا۔ِتقریب کے اختتام پر سید سجاد حسین نقوی کی طرف لایا کھانا(بریانی) پیش کی گئی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے