۔،۔دھرنا۔اپوزیشن اور حکومت آمنے سامنے۔قرۃ العین الیاس۔،۔

پاکستان کی 70 سالہ تاریخ دیکھی جائے تو اپوزیشن اور گزشتہ حکومتوں کی آپس میں کسی نہ کسی سیاسی یا ذاتی مسئلے پر چپقلش ہی دیکھی گئی ہے۔ جیسے حکومت پر تنقید اور الزامات ہی اپوزیشن کا کام ہو۔ اپوزیشن کا بنیادی مقصد حکومت کے ساتھ ایک فورم پر اکھٹے ہو کرعوام کے مسائل کوحل کرنا ہوتا ہے۔ مگر بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اپوزیشن کا کام شاید صرف حکومت پر تنقید اور اپنے ذاتی مفادات کی خاطر دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے۔ ایسی ہی کچھ صورت حال (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حکومت کے سامنے لاکھڑی کی ہے۔ کبھی وزیراعظم عمران خان مولانا پر اور کبھی مولانا عمران خان پر طنزو طعنوں کے نشتر چلا رہے ہیں۔ کبھی مولانا وزیراعظم کو یہودی لابی کا ایجنٹ اور کبھی وزیراعظم مولانا کو طنزا ڈیزل کہہ رہے ہیں۔ شاید ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی اور ایک دوسرے پرسیاسی تنقید ہی سیاست کا حسن ہے۔ مگر اس وقت جب پاکستان بہت سارے مسائل میں الجھا ہوا ہے، پاکستان کے ہمسایہ ملک سے تعلقات کشمیر کو حوالے سے کشیدہ ہیں۔ پاکستان کو دو ماہ کا وقت درکار ہے کہ وہ اپنی معیشت کو مستحکم کر کے گرے لسٹ سے باہر نکل سکے اور مذہبی انتہا پسندی کا جو ٹیگ مسلمانوں پر لگایا جاتا ہے اور کہیں کبھی دہشت گردی کے واقعہ کا الزام مسلما نوں کو دے دیا جاتا ہے اور کبھی کسی اورحوالے سے اسلام کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ اہل وطن ان تمام چیزوں سے ابھرنے کی کوششں کر رہے ہیں تاکہ وہ بحیثیت پاکستانی نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں سر فخر سے اٹھا کر اپنا اور اپنے ملک کا تعارف کروا سکیں۔ ایسی صورت حال میں مولانا فضل الرحمان کا دھرنا دینا اور وزیراعظم عمران خان سے استعفٰی کا مطالبہ کسی حد تک عام شہری کی سمجھ سے باہر ہے۔ مولانا فضل الرحمان پچھلے 30سال سے پاکستانی سیاست اور اپوزیشن کا حصہ رہے ہیں۔ مگر ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ مولانا کسی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلے اور اسلام آباد میں جا کر دھرنا دے بیٹھیں ہیں۔ کیا مولانا کا اسلام آباد میں دھرنا دینا ملک کی موجودہ صورت حال کے لئے ٹھیک ہے؟ کیا ایک بار پھر بیرونی دنیا کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں مذہبی جماعتیں خود مختار ہیں اور وہ جب چاہیں ایک کثیر تعداد میں لوگوں کو اکٹھا کر کے ملک کے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر سکتی ہیں یا اپنے جائز اور نا جائز مطالبات کے لئے حکومت پر دباؤ ڈال کر ان سے مطالبات منوائے جا سکتے ہیں۔دھرنا کوئی بھی سیاسی جماعت دے وہ ملک کے لئے فائدہ مند نہیں ہو سکتا ہے۔ یا تو مولانا اس بات کو واضح کر دیں کہ وہ کس تناظر میں اور کس وجہ سے عمران خان سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں۔ کیا وہ عوام کی نمائندگی کر رہیں ہیں؟ کیا عوام نے منتخب وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ مولانا نے وزیراعظم سے استعفیٰ کے ساتھ ساتھ اداروں کو بھی وزیراعظم کی حمایت سے منع کیا ہے جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکے اس بیان کی وضاحت مانگی ہے کہ ان کا کس ادارے کی طرف اشارہ ہے۔ اور ساتھ ہی انہوں نے بیان دیا کہ وہ ملک میں استحکام چاہتے ہیں اور کسی صورت بھی ملکی استحکام کو خراب نہیں ہونے دیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ ہماری فوج جمہوری اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔۔ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنا اور ملک کے مسائل کو دور کرنے کے لئے بھی سرگرداں ہے۔ ایسی ہی سوچ ملک کے حکمرانوں کی اور تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی بھی ہونی چاہئیے۔ اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر عوام اور ملک کے مفادات کے بارے میں سوچنا چاہیئے۔ وہ فیصلے کیے جانے چاہئیے جو ملک کے لئے اور لوگوں کے لئے بہترین ہوں نہ کہ اسلام آباد جو پاکستان کا دارالحکومت ہے جا کہ دھرنا دے دیا جا ئے اور نہ صرف حکومت بلکہ وہاں کہ رہائشی لوگوں کے لئے بھی مسائل کا باعث بنیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ دھرنا کس حد تک کامیاب رہے گا کیا مولانا اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب رہیں گے یا حکومت انہیں جلد ہی اسلام آباد سے نکال دے گی اب یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ مولانا یا حکومت ہی بہتر جان سکتی ہے۔ بحیثیت پاکستانی ہم اپنے ملک کی فلاح اور بہتری ہی چا ہتے ہیں خدا کرے کہ یہ دھرنا سیاست ختم ہو اور ملک ترقی اور بہتری کی طرف گامزن رہے۔ آمین

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے