۔،۔بچھڑوں کی یاد۔اے آراشرف۔،۔


قرآن پاک کی سورہ عصرمیں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ زمانے کی قسم جس مئں انسان بڑے گھاٹے میں رہا سوائے اُنکے جوایمان لائے اورنیک و صالح اعمال بجا لائے،حق سے منسلک رہے اور صبر کا دامن تھامے رکھتے ہیں آج ہم جن دو افراد کی یاد میں جمع ہوئے ہیں اُنکے نیک اعمال اور خدمات کا اعتراف ہے کیونکہ مرنے کے بعد نیک اعمال ہی اُنہیں عوامی حلقوں میں ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں میری نظر میں وہ لوگ بھی بہت عظیم ہوتے ہیں جو یاد رفتگان کے اعزاز میں اس قسم کی محفلوں کا انعقاد کر کے بچھڑنے والوں کی یاد تازہ کر دیتے ہیں اور اُنکی روح کو ثواب پہنچاتے ہیں ہمارے بھائی سید اقبال حیدر چیرمین ہیومن ویلفیر ایسوسی ایشن اُنمیں سے ایک ہیں ورنہ یہاں تو لوگ زندہ انسانوں کی بھی پروہ نہیں کرتے پھر مرنے والے تو آنکھ سے اوجھل ہوتے ہیں۔سب جانتے ہیں کہ مرحوم عاشور کاظمی،جون ایلیا،کیفی اعظمی شباہت علی خان اور حسن کیانی جو ادبی دنیا کے بڑے نام تھے اُن کی وفات کے بعدسید اقبال حیدر کے علاوہ کسی کو بھی اُنکی یاد میں محفل منقعدکرانے کی توفیق نہ ہوئی آج پھر اپنی رویت کو قائم رکھتے ہوئے وہ بچھڑنے والوں کی یاد منا رہے ہیں۔مرحومہ ثریا شہاب اور ہمارے دوست مرحوم مظفر شیخ اُن خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جن کی روح کی تسکین کیلئے عزت ماب قائم مقام کونصلیٹ جنرل شعیب منصور پروفیسرڈاکٹرالموتھ ڈیکنر،مخترمہ سعدیہ امام، پروفیسر اسلم سیدجیسے اُستاد اورمخترمہ سعدیہ امام جیسی اینکرو ٹی وی کی سپرسٹار اور، بہت سارے صحافی اور دانشور مرحومہ ثریا شہاب اور مرحوم مظفر شیخ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے یہاں موجود ہیں۔ یہ دنیا فانی ہے ہر ذی نفس کو ایک نہ ایک دن اپنے خالق کے حضور پیش ہونا ہوتا ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ کسی کا نمبر پہلے لگ جاتا ہے اور کسی کا بعد میں مگر ہم سے بچھڑنے والوں کی نیکیاں اور خوشگوار یادیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اس فانی دنیا میں نہ کوئی اپنی خوشی سے آتا ہے اورنہ ہی اپنی خوشی سے رخصت ہوسکتا ہے ابراہیم ذوق کیا خوب کہا تھا۔
۔۔لائی حیات آئے،قضا لے چلی چلے،۔۔۔۔۔۔ نہ اپنی خوشی آئے سے آئے،نہ اپنی خوشی چلے،۔۔
ماضی سے جُڑی کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جہنیں آسانی سے بھُلانا کسی عذاب سے کم نہیں ہوتاہم سے بچھڑ جانے والے دوساتھیوں۔ میری مرادمخترمہ ثریا شہاب اور مرحوم مظفر شیخ ہیں جن کی یاد میں آج کی محفل کا اہتمام کیا گیا ہے جو ادب اور صحافت میں بلند مقام رکھنے کے علاوہ شفیق دوست بھی تھے اور اپنی پاکستانی کمییونٹی میں بھی بہت ہردلعزیز تھے اور اپنے پاکستانی بھائیوں کی فلاح و بہود اور مسائل کے حل کیلئے وہ ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے جن کی بے پناہ خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ہم سب آج جمع ہوئے ہیں ان دونوں ساتھیوں سے وابستہ ہمارے ذہنوں کے دریچے میں کچھ ایسی یادیں ہیں جو ہر پل ہمارے ذہنوں کو دستک دیکر اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے آس پاس کہیں موجود ہیں اور ہمیں دیکھ رہے ہیں انہی یادوں کے باے میں کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا۔
۔یادِ ماضی عذاب ہے،یا رب،۔۔۔۔۔،چھین لے مجھ سے حافظہ میرا۔
مخترمہ ثریا شہاب نثرنگار،صحافی،شاعرہ ہونے کے علاوہ کئی کتابوں کی مصنفہ بھی تھیں مگرریڈیو تحران زندان اُنکی اصل پہچان کا سبب بنا اس حوالے سے اُنکی سریلی آواز کو اُس دور کاہر پاکستانی اُنہیں پہچانتاتھا۔میرے بارے میں جب اُنہیں معلوم ہوا کہ میں بھی پاکستان میں صحافت سے منسلک رہا ہوں تو اُنہوں نے مجھے جرمنی سے شائع ہونے والے اپنے ماہنامے میں کالم لکھنے پر مجبور کیا بلکہ ہر ماہ فون کرکے مجھے یاد دلایا کرتیں تھیں کہ تمارا کالم ابھی تک کیوں نہیں پہنچا۔ پاکستانیوں کے جرمنی میں مسائل کے حل کیلئے بھی یہ د ونوں ہمیشہ اپنا کردار ادا کرنے میں پیش پیش رہتے تھے۔جہاں تک مرحوم مظفر شیخ کا تعلق ہے وہ میرے جگری دوست ہونے کے علاوہ میری ان سے عزیزداری بھی تھی ہم دونوں نے تقریباََ ایک ساتھ ہی صحافتی سفر کا آغاز کیاتھا۔جب جنرل ضیاالحق نے شہید ذوالفقار بھٹو کی حکومت پر شب خون مار کر ملک میں مارشل لا لگا دیاوہ ایک ایساجابر اور سفاک حکمران تھاجس نے لوگوں کے سانسوں پر بھی پہرے بیٹھا رکھے تھے جس کے بارے میں آج کے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔۔جان تیری نوں رونے پئے آں،۔۔اج وی لاشاں ڈھونے پئے آں،۔۔اسکے سفاکی دور میں شیخ صاحب اور سید عباس اطہر نے جرات اور دلیری سے اُنکے خلاف ایک وائٹ پیپر شائع کیا تھا اس جڑم میں مرحوم عباس اطہر کو تو پویس نے گرفتار کر لیا مگر شیخ صاحب وہاں سے کسی طرح فرار ہو کر کویت آگئے اور پھر وہاں سے جرمنی آ کر سیاسی پناہ لے لی اورپھر یہاں سے ماہنامہ۔نصرت۔ کاآغا کیا اُس میں بھی میں اُنکی ادارتی ٹیم کا حصہ تھا بنیادی طور پر و ہ ز بردست انقلابی ہونے کے علاوہ سر سے پاؤں تک پاکستان پیپلز پارٹی کے حامی اور جیالے تھے مگر صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتے وقت وہ کبھی خبر میں ڈنڈی نہیں مارتے تھے کالم میں اتنی گنجائش نہیں کہ اُنسے جُڑی یادوں کو تفصیل سے لکھ سکوں بس یہ شعر پر اختتام کرتاہوں،۔
۔تا حشر تیری دید کو ترسیں گی نگاہیں،۔۔۔۔۔۔۔،یوں تجھ سے بچھڑنے کا،نہ تھا،وہم و گماں بھی،۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے