۔،۔ کرامت فرید ؒ۔پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔


خالقِ ارض و سماء کے رازوں میں سے ایک راز یہ بھی ہے کہ جب بھی کو ئی طالبِ حق عبادت ریاضت مجاہدے تزکیہ نفس کے مشکل ترین مراحل سے گزار کر کثافت سے لطافت کا پیکر بنتا ہے اپنی ذات کے کمزور حصوں کی مرمت کر کے غلطیوں گناہوں کمزوریوں کو اپنی ذات سے نکال کر خود کو نورانی پیکر میں ڈھال لیتا ہے تو پھر خدائے بزرگ وبرتر کی ذات اُس کے قد و قامت ریاضت مجاہدے کے صلے کے طور پر پھر اُس کو کسی خاص علاقے کے لیے رحمت بنا کر رشد و ہدایت کا چراغ بنا کر کسی اندھیر نگری کسی بت پرستی میں غرق علاقے میں انعام کے طور پر بھیج دیتا ہے‘ حق تعالیٰ نے جس نو ری پیکر سے خاص کام لینا ہو تا ہے اُس کا تعارف شاندار طریقے سے اُس علاقے کے لوگوں کو کراتا ہے کرا مت یا کرا مات کا ظہور اُس پیکر خاکی سے تواتر سے کروا کر اہل علاقہ کو اُس کا مقام شان بتاتا ہے پھر بُت برستی ظلم میں گھری مخلوق خدا اُس چشمہ ہدایت پر ٹوٹ پڑتے ہیں اِس طرح خدا ئے لازوال انسانوں کی ہدایت کا کام احسن طریقے سے سرانجام دیتا ہے بابا فریدؒ اپنے مرشد خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ اور داد امرشد خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کی نگاہ کیمیا سے اکسیر بن چکے تھے‘ مرشد کریم کے وصال کے بعد کچھ عرصہ دہلی پھر ہانسی میں قیام کے بعد اب نئے علاقے کی طرف بڑھتے ہیں اب آپ ؒ کی منزل اجو دھن (پاک پتن) تھی جو اُس دور میں بت پرستی اور ظلمت کدہ بنا ہوا تھا ہندوستان کا کونہ کونہ نور اسلام سے روشن ہو رہا تھا یہاں پر اب نور اسلام کے اجالے کی شدت سے ضرورت تھی 635ء میں آپ اجو دھن تشریف لے گئے خدائے باکمال کو اہل اجو دھن پر ترس آگیا جو تاریخ اسلام کے عظیم ترین صوفی درویش بابا فرید ؒ کو اِدھر بھیجا‘بابا فرید ؒ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اجو دھن سے باہر مغربی طرف ایک ویران مسجد کے قریب درختوں کے سائے تلے آکر قیام کر تے ہیں طویل مسافت کے بعد اشیائے خودرو نوش ختم ہو نے کے قریب تھی اِس غذاکو بچوں کے لیے رکھ کر اب بڑے ابلی سبزیوں اور جنگل پھلوں پر گزارا کر تے تھے سادگی اور فقر میں لپٹا یہ مختصر قافلہ دن رات قرآن مجید کی تلاوت نماز نوافل میں مشغول نظر آتا اہل علاقہ حیران نظروں سے اِس مختصر قافلے کو دیکھتے جو دنیا سے بے نیاز حق تعالی کی عبادت میں بے آسرا جنگل میں پڑے تھے شروع میں تو لوگوں نے مشکوک نظروں سے دیکھا لیکن کچھ عرصے بعد یقین ہو گیا کہ یہ تو دنیا سے بے نیاز حق پرست قافلہ ہے جو اپنی ہی عبادت میں مشغول ہے تو چند لوگوں نے عقیدت کے طور پر آپ ؒکے پاس آنا شروع کر دیا ایک دن سلسلہ چشتیہ ؒ کا عظیم درویش اپنے مریدوں کے حلقے میں بیٹھا علم و دانش معرفت کے موتی بکھر رہے تھے کہ ایک ہندو عورت ادھر آگئی جس کا تعلق نیچ ذات سے تھا اُس کے سر پر دودھ کا برتن تھا بابا فریدؒ نے شفیق لہجے میں اُس کی خیریت دریافت کی آپؒ کا تبسم امیز شفیق لہجہ دیکھ کر پسماندہ عورت بہت متاثرہوتی بولی میں گوالوں کے خاندان سے ہوں جو دودھ بیچ کر اپنا گزارا کر تے ہیں بڑی مشکل سے زندگی کے دن پو رے کر رہی تھی لیکن چند دنوں سے ایک مشکل میں گرفتار ہو گئی ہوں عورت خوف میں لپیٹے لہجے میں خوفزدہ نظروں سے بات کر رہی تھی جیسے کسی کا انجانا خوف اُسے اُدھیڑ رہا ہوں بابا جیؒ نے ہمت دلائی تو وہ بولی کئی دنوں سے میں ایک عذاب میں گرفتار ہوں یہاں پر جادوگروں کا ایک ٹولا آگیا انہوں نے مُجھ سے دودھ لینا شروع کر دیا میں نے چند دن کے بعد جب دودھ دینے کا معاوضہ مانگا تو جادوگر کے چیلے بولے تیری جرات کیسے ہو ئی توہم سے دودھ کے پیسے مانگے اگر تم نے دوبارہ ہمیں دودھ نہ دیا اور دودھ دے کر پیسے مانگے تو ہم اپنے جادو کے زور سے تیری زندگی برباد کر دیں گے میں نے جب اُن کو دودھ نہ دیا اورگاؤں میں دینے چلی گئی لیکن جب گاؤں جا کر برتن دیکھے تو دودھ خراب ہو چکا تھا اُس میں کیڑے پڑے ہو ئے تھے اور سیاہ ہو چکا تھا اب مجھے جادوگروں کی دھمکی یاد آئی تو میں دوڑ کر ان کے پاس گئی تو وہ فاتحانہ قہقوں سے بولے اب تم کو ہماری طاقت کا پتہ لگا اب اگر تم نے ہمیں دودھ نہ دیا تو تمہارے سارے جانور مار دیں گے جانوروں کے بعد تمہارے بچوں کو بھی مار دیا جائے گا اب تمہارے لیے یہی بہتر ہے کہ آرام سے سارا دودھ ہمیں دیا کروکہ اب میں پچھلے کئی مہینوں سے سارا دودھ اُن جادوگروں کو دیتی ہوں گھر چلانے کے لیے گاؤں والوں سے قرضہ لے کر زندگی کے دن پورے کر رہی ہوں اب تو گاؤں والوں نے بھی قرضہ دینا بند کر دیا ہے اب میں بے یارومددگار سولی پر لٹکی مدد مدد پکار رہی ہوں لیکن میرا بھگوان بھی میری دعائیں نہیں سن رہا تو بابا فریدؒ بو لے تم جس پتھر کے بت کو بھگوان سمجھ کر دعائیں مانگتی ہوں وہ تو اپنی حرکت بھی نہیں کر سکتا تو تمہارے دعائیں کیسے سنے گا تم اُس خداسے مدد مانگوں جو ساری کائنات کا مالک ہے جو اپنی ذات میں اکیلا ہے نہ کوئی اُس کا باپ نہ بیٹا وہ واحداور لا شریک ہے سارے جہانوں انسانوں کی تقدیر کا مالک جب اُس کے سامنے جھک جاؤگی تو یہ زمینی جادوگر تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے بابا فریدؒ کی باتوں کے دوران ہی جادوگر کے چیلے اُس عورت کی تلاش میں آگئے اور دھاڑتے ہو ئے بو لے اے کم ذات عورت تو یہاں بیٹھی باتیں کر رہی ہے جبکہ گرو جی وہاں تمہارے دودھ کا انتظار کررہے ہیں اب تجھے گرو کے غضب سے کو ئی نہیں بچا سکتا اب تیری خیر نہیں‘ عورت جادوگروں کی بات سن کر تھر تھر کانپنے لگی تو بابا فریدؒ کی پر جلال آواز فضا میں گونجی اِس عورت کو ہم نے یہاں بٹھا لیا ہے اِس کو اب یہاں سے کوئی نہیں لے جاسکتا اور تم بھی اِس عورت کے ساتھ اب یہیں بیٹھ جاؤ درویش باکمال کی آواز کا جلال تھا کہ مقناطیسی کشش جادوگر کے چیلے سنگی مجسموں کی طرح سرجھکا کر زمین پر بیٹھ گئے تھوڑی دیر بعد ان کا پتہ کر نے جادوگروں کا دوسرا ٹولا آیا تو بابا فرید نے اُن کو بھی حکم دیا کہ مودب ہو کر بیٹھ جاؤ وہ بھی غلام زادوں کی طرح سرجھکا کر بیٹھ گئے جیسے غیر مرئی زنجیروں نے انہیں جکڑ رکھا ہو جادوگر کے چیلے بے بس پتھر کے بتوں کی طرح سر جھکائے بیٹھے تھے اُن کی سانسیں تو چل رہی تھیں لیکن حر کت کے قابل نہیں رہے تھے جیسے زمین نے انہیں جکڑ لیا ہو کوئی غیبی قوت تھی جس نے انہیں جکڑ رکھا تھا جب کافی دیر تک جادوگر کے چیلے واپس اُس کے پاس نہ پہنچے تو وہ خود اُن کی تلاش میں ادھر آنکلا جہاں پر اُس کے چیلے غلاموں کی طرح سر جھکائے نورانی روشن چہرے والے خاک نشین درویش کے سامنے بیٹھے تھے اپنے چیلوں کو کسی دوسرے کے سامنے غلاموں کی طرح بیٹھا دیکھ کر جادوگر قہر آلود آگ برساتے لہجے میں دھاڑا تم لوگ یہاں کسی کے سامنے سر جھکائے کیوں بیٹھے ہوتو بابا فریدؒ پر وقار لہجے میں بولے اِن کو میں نے قید کر لیا ہے اب یہ میری اجازت سے ہی حرکت کر سکتے ہیں تو جادوگر غضب ناک ہو کر بولا اِس دنیامیں کس کی جرات ہے جو میرے چیلوں کو قید کر سکے اِس کے ساتھ ہی بآواز منتر جنتر پڑھنے لگا لیکن اُس کے الفاظ پانی کے بلبلوں کی طرح ختم ہو تے جا رہے تھے پھر اُسے محسوس ہوا جیسے اُس کو بھی کسی غیبی قوت نے جکڑ کر زمین پر بیٹھا دیا اب وہ بھی سنگی مجسمے کی طرح بے بس تھا پھر اچانک اپنا سر بابا فریدؒ کے قدموں پر رکھ کر معافی معافی کی آوازیں دینے لگا کہ اے درویش باکمال مجھے اور میرے چیلوں کو معاف کر دیں تو بابا فریدؒ بولے آج کے بعد اگر تو نے کسی انسان کو تنگ کیا تو تیری زندگی بھی تنگ ہو جائے گی یہ بابا فرید ؒ کی اجودھن میں پہلی کرامت تھی جس کے بعد اہل اجو دھن ہزاروں کی تعداد میں نور اسلام میں رنگے گئے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے