۔،۔ جہاں انصاف بھی یرغمال ہے۔بصد شکریہ اشفاق اللہ جان ڈاگئی۔،۔

9 نومبر 2019 جنوبی ایشیاء کی تاریخ کا اہم ترین دن تھا، اس روز دو بڑے ملکوں بھارت اور پاکستان میں اقلیتوںکے حوالے سے دو اہم فیصلے منظر عام پرآئے، ایک فیصلہ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد کیس کا تھا اور دوسرا پاکستان کی جانب سے سکھوں کے روحانی پیشوا باباگورونانک کی جائے پیدائش کرتارپور راہداری کھولنے کا فیصلہ تھا۔9نومبر کو بھارت کی عدالت عظمیٰ نے ہندوستان کی قانونی تاریخ کے متنازع ترین مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔ بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازع میں سپریم کورٹ نے ہندوؤں کے حق میں فیصلہ کیا، متنازع اراضی مندر کو دے دی جب کہ مسجد کے لیے پانچ ایکڑ اراضی کسی دوسرے مقام پر دینے کا فیصلہ کیااس فیصلے کے مطابق جہاں مسلمانوں کی تاریخی بابری مسجد تھی اب اس جگہ رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ریاست اترپردیش کے قدیم شہر ایودھیا میں متنازع اراضی پر رام مندر کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بابری مسجد کے انہدام کی تحقیقات کرنے والے جسٹس منموہن لبراہن نے کہا ہے کہ اس فیصلے کے اثرات مسجد انہدام کیس پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ بابری مسجد کیس میں سپریم کورٹ نے جس قسم کا فیصلہ سنایا ، مذکورہ کیس کا فیصلہ اس سے قطعی مختلف نہیں ہوگا۔بھارتی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ جہاں انصاف کا قتل ہے وہاں اس نے بھارت کے چہرے سے سیکولرازم کا نقاب نوچ ڈالا۔ دنیا پر واضح ہوگیا کہ بھارت گاندھی کے فلسفے سے ہٹ کر اب آر ایس ایس جیسی دہشت گردتنظیموں کے مشن پر چل رہا ہے، جن کے ہاتھوں بھارت کی سرزمین پر آباد ایک بھی اقلیت محفوظ نہیں۔ آر ایس ایس کے شر سے وہاں کی اعلیٰ ترین عدالت بھی اپنا دامن بچانے میں ناکام ہوچکی ہے ، حالیہ فیصلہ اس کی واضح دلیل ہے۔تاریخی بابری مسجد کے حوالے سے انڈین سپریم کورٹ کے فیصلے پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے تمام مسلمانوں کو ‘شدید تشویش ہے کیونکہ یہ فیصلہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔اقوام عالم اچھی طرح جانتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے دائر کی گئی درخواستوں پر بھارتی سپریم کورٹ کا ردِ عمل سست ہے۔ بابری مسجدکیس کا یہ فیصلہ نشاندہی کرتا ہے سپریم کورٹ بھی بھارت میں بسنے والی اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے سے قاصر ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب وہاں اقلیتیں محفوظ نہیں اور اقلیتوں کو اب اپنے عقائد اور اپنی عبادت گاہوں کے تحفظ کے بارے میں خبردار رہنا ہو گا۔جس وقت بھارتی سپریم کورٹ یہ متعصبانہ فیصلہ کر رہی تھی عین اسی وقت پاکستان دنیا بھر کے سکھوں کے لیے کرتارپور میں واقع ان کے مقدس مقام کھول رہا تھا۔ گو کہ اس منصوبے کے حوالے سے پاکستان کے اندر مذہبی طبقات کے اندر کچھ تحفظات دیکھنے میں آئے ہیں تاہم حکومت کا یہی کہنا ہے کہ یہ منصوبہ خالصتاً سکھ برادری کے لیے بنایا گیا ہے، اسی لیے یہ خیال کیا جارہا تھا کہ بھارت نہ صرف اس  منصوبے کا خیر مقدم کرے گا بلکہ پاکستان کے اس مثبت اقدام کی تعریف بھی کرے گا لیکن تعریف تو درکنار، بھارت نے تو اس منصوبے کے حوالے سے روڑے اٹکانے شروع کر دیے۔صورتحال تو یہاں تک پہنچ گئی کہ بھارتی میڈیا اس منصوبے کے حوالے سے مسلسل سازش کرتا رہا لیکن بھارت کے ان تمام تر منفی ہتھکنڈوں کے باوجود پاکستان نے اقلیتوں کو ان کا حق دینے سے متعلق ایک بڑا قدم اٹھایا۔کرتار پور راہداری اقلیتوں، مذہبی رواداری اور ملکی ساکھ بڑھانے کے تناظر میں ایک غیر معمولی اقدام کی حیثیت رکھتا ہے۔ماضی میں پاکستان کے حوالے سے دنیا بھر میںیہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان دہشت گردوں کا مرکز ہے، یہاں مذہبی اقلیتوں پر ظلم و ستم ڈھایا جا رہا ہے اور انھیں جینے کا حق بھی حاصل نہیں ہے۔ ایسے میں کرتارپور راہداری کا افتتاح ہونا اور یہاں آنے والے سکھ یاتریوں کو سہولیات کی فراہمی سے پاکستان سے متعلق بہت ساری غلط فہمیاں دْور ہوگئیں۔یہ راہداری نہ صرف سفارتی آلہ ہے بلکہ ساکھ بڑھانے کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ بھارت کی مودی سرکار روزِ اول سے انتہا پسند سوچ اور رویے کی حامل رہی ہے تاہم راہداری کی صورت میں ہم نے اس کے منہ میں ایک ایسی سفارتی گولی ڈال دی ہے جسے نہ اْگلا جاسکتا ہے نہ نگلا جاسکتا ہے۔مودی حکومت نے اس منصوبے کو روکنے کے لیے کئی حربے استعمال کیے لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکی۔ پھر اس بات کو بھی ہمیں سمجھنا چاہیے کہ سکھ برادری ناصرف دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے بلکہ سکھوں کی ایک بڑی تعداد فوج کا بھی حصہ ہے، جو بھارت کی اسٹیبلشمنٹ سے کئی گلے شکوے بھی رکھتے ہیں۔ اندرا گاندھی کے دور میں ایمرجنسی کا نفاذ، 80کی دہائی میں گولڈن ٹیمپل پر بلو اسٹار آپریشن جیسے زخم ابھی تک تازہ ہیں اور ان سے خون رِس رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کے اندر سکھوں کے تاریخی گردوارے کو سہولیات کی فراہمی نا صرف پاکستان کے مفاد میں اچھا اقدام ہے بلکہ یہ پاکستان کا بھارت کے خلاف سفارتی محاذ پر بھی ایک غیر معمولی عمل ہے جس کے باعث مودی حکومت کوبہت بڑا دھچکا پہنچا ہے۔اب یہ راہداری کھل گئی ہے اور اس راہداری کے ذریعے  ہندوستان اور دنیا بھر میں بسنے والے کروڑوں سکھ کرتار پور میں واقع اپنے مقدس گوردوارہ دربار صاحب آتے جاتے رہیں گے،یقینی طور پر یہ اقدام دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کا باعث بنے گا تو وہ یہاں سے اپنے ساتھ یہ پیغام بھی لے جائیں گے کہ پاکستان ایک پُرامن اور امن کا خواہاں ملک ہے جب کہ اس ملک کے نام کے ساتھ دہشت گردی، تخریب کاری اور مذہبی انتہا پسندی کو جوڑ کر پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کو زک پہنچے گی۔ اس پہلو کے ساتھ ساتھ راہداری کے سروس چارجز سے پاکستان کو مالی فائدہ بھی پہنچے گا۔سوال یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے اس منصوبے کی مخالفت کیوں کی گئی؟ حقیقت یہ ہے کہ جب سے ہندوستان کا سینہ چیر کر یہ مملکت خداداد دنیا کے نقشے پر ابھرکر سامنے آئی ہے اس دن سے لے کر آج تک بھارت کے انتہا پسند ہندوؤں کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے ہیں، بھارت پاکستان کی کسی بھی مثبت پیش رفت کو نیچا دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ پاکستان اور خالصتان کی ایک تاریخ تو موجود ہے لیکن وہ 80 کی دہائی میں ختم ہوگئی تھی۔اب یہ کہنا کہ پاکستان خالصتان تحریک کی حمایت یا اس کی پشت پناہی کے لیے راہداری منصوبے پر کام کر رہا ہے، یہ تو ایک بے تکی سی بات ہے کیونکہ یہ ایک یکطرفہ نہیں بلکہ دوطرفہ منصوبہ ہے۔بھارت کے پاس اس منصوبے میں شامل نہ ہونے کا بھی آپشن تھا، تو وہ اس نے اختیار کیوں نہیں کیا؟بھارت بھی جانتا ہے کہ اس منصوبے کی مخالفت اس کے مفاد میں نہیں ہے لیکن چونکہ ایک طرف بھارت کی انتہا پسند بی جے پی حکومت نے اپنے حامیوں کے لیے پاکستان دشمنی کا بیانیہ بنایا ہوا ہے جس کی وجہ سے بھارت پروپیگنڈے کر رہا ہے جب کہ دوسری طرف مودی حکومت نہیں چاہتی کہ بھارت کے دیگر شہری پاکستانی حکومت کے جذبہ خیر سگالی کے بدلے میں سخت رویہ اپنانے پر بی جے پی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنائیں۔9نومبر کے ان دو اہم ترین واقعات نے دنیا کی آنکھیں کھول دیں،ایک طرف بھارت کی انتہاپسندانہ سوچ کی چادر ان کی اعلیٰ ترین عدالت پر پڑی ہوئی نظر آئی اور دوسری طرف بین المذاہب ہم آہنگی کی عملی تصویر کرتار پور میں دکھائی دی۔ بابری مسجد کی شہادت پر ہندوستانی عدالت کا فیصلہ قابل مذمت اور افسوسناک ہے، اسلامی اور عالمی دنیا کو ہندوستان کے غیر ہندوؤں کے خلاف مکروہ عزائم کا نوٹس لینا چاہیے اور کرتار پور راہداری پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔اس کے مثبت اثرات مستقبل میں دیکھے جائیں گے۔ پاکستان نے کرتار پور راہداری کھول کر خطہ میں امن کا راستہ ضرور کھولا ہے تاہم ریاست پاکستان کی ذمے داری ہے کہ وہ مذہبی طبقات کے تحفظات کو بھی ملحوظ خاطر رکھے، یہ راہداری صرف اور صرف سکھوں کے لیے ہی استعمال ہونی چاہیے، جو سکھ بھارت سے کرتار پور آئیں ان کے لیے ویزہ کی شرط لازم قرار دی جائے اور اس ویزے پر آنے والوں کی انٹری صرف کرتار پور تک محدود ہو،انھیں پاکستان کے کسی اور علاقے میں جانے کی اجازت ہرگز نہ دی جائے۔ اگر اس راستے سے قادیانیوں یا دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی داخلے کی اجازت دی گئی تو یہ اقدام ایک نئے بحران کا راستہ کھولنے کا باعث ہوگا اس لیے ضروری ہے کہ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس سے انتشار پیدا ہو۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے