۔،۔ مہنگائی نعمت ہے۔ بصد شکریہ۔جاوید چوہدری۔،۔

’’ مہنگائی  کتنی عظیم نعمت ہے اس کا اندازہ تم اس چھوٹے سے واقعے سے لگا لو‘ یہ پاکستان کے ایک ارب پتی تاجر کی کہانی ہے‘‘۔

انھوں نے غور سے میری طرف دیکھا اور اس کے بعد گویا ہوئے ’’یہ تاجر کبھی کسی دکان دار کے پاس ملازم تھا‘ دکان دار اسے دو ہزار روپے ماہانہ دیتا تھا اور یہ دو ہزار روپوں کے لیے بارہ گھنٹے کام کرتا تھا‘ یہ ذوالفقار علی بھٹو کا دور تھا‘ اس وقت دو ہزار روپے مناسب رقم ہوتی تھی اور اس رقم سے درمیانے درجے کے گھرانوں کا ٹھیک ٹھاک گزارہ ہو جاتا تھا لیکن پھر ملک میں منہگائی کا ریلا آ گیا۔ضروریات کی تمام چیزوں کے ریٹس بڑھ گئے‘ اس کے گھر تین بچے بھی پیدا ہو گئے‘ ان بچوں کی ضروریات بھی بڑھ گئیں‘ والد اور والدہ بھی بیمار رہنے لگے اور مالک مکان نے بھی کرایہ بڑھا دیا‘ سائیکل پرانی ہو گئی اور اس کے خرچے بھی نکلنے لگے‘ بجلی کے ریٹس میں بھی اضافہ ہو گیا‘ ملک میں ٹی وی‘ واشنگ مشین اور فریجوں کا رواج بھی ہو گیا اور بیوی نے ان سہولتوں کے لیے ضد بھی شروع کر دی‘ مہمانوں کی آمد میں بھی اضافہ ہو گیا اور عزیز رشتے داروں کے بچے بھی شادیوں کی عمر میں پہنچ گئے چنانچہ دو ہزار روپے قلیل ہو گئے اور مسائل کثیر۔اس نے مالک سے تنخواہ بڑھانے کی درخواست کی لیکن مالک نے صاف انکار کر دیا یوں خاندان مسائل کے دبائو میں آگیا‘ اس وقت اس کی بیوی نے ایک نیا راستہ نکالا‘ اس نے گھر میں ردی کاغذوں اور اخبارات کے لفافے بنانا شروع کر دیے‘ وہ اپنے بچوں کے ساتھ سارا دن لفافے بناتی‘ اس کا شوہر کام پر جاتے ہوئے یہ لفافے ساتھ لے جاتا اور بازار میں مختلف دکانوں پر بیچ دیتا‘ یہ کام چل نکلا‘ نتیجے میں خاندان میں خوش حالی آ گئی‘ فریج بھی آ گیا‘ واشنگ مشین بھی اور بارہ انچ کا بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن بھی۔ یہ سہولتیں آئیں تو ان سہولتوں کا خرچ بھی آیا چناںچہ خاندان کو اب ماہانہ آٹھ‘ دس ہزار روپے چاہیے تھے‘ اس نے اس کا حل بھی دریافت کر لیا۔یہ لوگ منوں کے حساب سے ردی کاغذ اور اخبارات خرید کر محلے کے مختلف گھروں میں تقسیم کر دیتے‘ محلے کی عورتیں اور بچے اپنے اپنے گھروں میں لفافے بناتے‘ یہ شخص لفافے جمع کرتا اور یہ لفافے مارکیٹ میں بیچ دیتا‘ اپنی کمیشن اور ردی کاغذ کی قیمت جیب میں ڈالتا اور محلے کی عورتوں کو لفافے بنانے کا معاوضہ دے دیتا‘ اس سے یہ لوگ بھی خوش حال ہو گئے اور محلے کی عورتوں کی معاشی حالت میں بھی تبدیلی آگئی‘ اس شخص نے چند ماہ بعد نوکری چھوڑ دی اور فل ٹائم لفافہ انڈسٹری کے ساتھ وابستہ ہو گیا‘ یہ کام چل نکلا تو اس نے دوستوں‘ عزیزوں اور رشتے داروں سے قرض لیا اور گھر میں پلاسٹک کے شاپنگ بیگز بنانے کا چھوٹا سا یونٹ لگا لیا۔یہ کام بھی چل نکلا اوروہ کاغذ کے لفافوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے شاپنگ بیگز کا سپلائر بن گیا‘ خوش حالی آئی تو یہ اپنے ساتھ اخراجات بھی لائی‘ یہ لوگ چھوٹے گھر سے بڑے گھر میں منتقل ہو گئے‘ یہ موٹر سائیکل سے گاڑی پر آ گئے‘ انہوں نے بچوں کو منہگے اسکولوں میں داخل کرا دیا اور ان کے فریج‘ ٹیلی ویژن اور واشنگ مشین کا سائز بھی بڑا ہوگیا‘ بڑے خرچے چلانے کے لیے زیادہ رقم چاہیے تھی چنانچہ شاپنگ بیگز کا یونٹ چھوٹی سی فیکٹری بن گیا‘ فیکٹری میں ملازم رکھے گئے تو ملازموں کی تنخواہوں کا ایشو بھی آیا چنانچہ تنخواہیں پوری کرنے کے لیے مارکیٹنگ کی ٹیم رکھی گئی۔مارکیٹنگ کی ٹیم نے نئے گاہک تلاش کئے‘ نئے گاہکوں نے نئی مصنوعات کا تقاضا کیا‘ نئی مصنوعات کے لیے نئی ٹیکنالوجی خریدی گئی‘ نئی ٹیکنالوجی مسابقت (کمپی ٹیشن) لے کر آئی‘ کمپی ٹیشن نے ایڈور ٹائزنگ کا دروازہ کھولا‘ ایڈورٹائزنگ معاشرے میں کلچرل چینج کا باعث بنی اور یوں غفورا‘ عبدالغفور‘ محمد عبدالغفور‘ شیخ محمد عبدالغفور‘ سیٹھ محمد عبدالغفور اور جی ایم برادرز بنتا چلا گیا۔ یہ اب پاکستان کے چند بڑے ارب پتی بزنس مینوں میں شمار ہوتا ہے‘‘۔انھوں نے لمبی سانس لی اور بولے ’’ تم ایک لمحے کے لیے سوچو اگر 1974 میں اس کا دوہزار روپے میں گزارا ہوتا رہتا‘ منہگائی کا ریلا نہ آتا‘ مالک مکان کرایہ نہ بڑھاتا یا پھر اس کا مالک اس کی تنخواہ میں پانچ سو یا ہزار روپے کا اضافہ کر دیتا تو یہ آج کہاں ہوتا؟ کیایہ ابھی تک اسی دکان پر جھاڑو نہ مار رہا ہوتا اور اس کے بچے شہر میں ریڑھیاں نہ لگا رہے ہوتے لہٰذا تم دل پر ہاتھ رکھ کر بتائو کیا منہگائی اس کے لیے نعمت ثابت نہیں ہوئی‘‘ وہ خاموش ہو کر میری طرف دیکھنے لگے۔میں نے واقعی منہگائی کو کبھی اس زاویے سے نہیں دیکھا تھا‘ میں اسے ہمیشہ برا بھلا کہتا رہا لیکن منہگائی نعمت بھی ہوتی ہے مجھے اس سے پہلے اس کا اندازہ نہیں تھا۔ وہ بولے ’’منہگائی بنیادی طور پر فائر الارم ہوتی ہے‘ یہ آپ کو بتاتی ہے آپ کی آمدنی کے ذرائع کم ہیں اور آپ اگر ایک مطمئن‘ پر سکون‘ شاندار اور خوشحال زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی آمدنی کے وسائل بڑھانا ہوں گے‘ آپ اپنا فالتو وقت پیسے کمانے میں صرف کریں‘ بزنس کے نئے آئیڈیاز سوچیں اور ان آئیڈیاز کو عملی شکل دیں‘ خاندان کا مالی بوجھ اگر ایک شخص پر ہے تو دوسرے افراد بھی میدان میں آئیں‘ بیوی گھر میں کوئی یونٹ لگا لے اور آپ اگر ملازمت کے ساتھ ساتھ بزنس شروع کر دیں تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔آج کل سوشل میڈیا پر لاکھوں قسم کے بزنس ہو رہے ہیں‘ آپ ای مارکیٹ میں چلے جائیں‘ ٹیوشنز بھی آج کل بزنس کی شکل اختیار کر چکی ہیں‘ آپ کے بچے فالتو وقت میں ہوم ٹیوٹر بن سکتے ہیں‘ آپ دس‘ بیس‘ پچاس لوگوں کا گروپ بنا کر کوئی چھوٹا موٹا بزنس بھی شروع کرسکتے ہیں‘ کوئی ہوم انڈسٹری قائم کر سکتے ہیں اور کچھ نہ ہو تو آپ ٹیلی فون یا موبائل پر مختلف کمپنیوں کی مارکیٹنگ کر سکتے ہیں‘آپ کے پاس سیکڑوں‘ ہزاروں آپشنز موجود ہیں بس آپ نے منہگائی کو نعمت یا فائر الارم سمجھنا ہے اور اس الارم کے ذریعے اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے‘‘۔انھوں نے لمبا سانس لیا اور بولے ’’دنیا میں آج تک منہگائی کم نہیں ہوئی‘ یہ بوتل کا ایسا جن ہے جو ایک بار باہر آ جائے تو یہ واپس بوتل میں نہیں جاتا چناںچہ ہمیں اسے بوتل میں بند کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ‘ ہمیں اس کا مقابلہ کرنا چاہیے‘ اگر ہماری تعلیم کم ہے تو ہمیں اپنی تعلیمی استعداد بڑھانی چاہیے تا کہ ہمیں چار پانچ ہزار کی بجائے پچاس ساٹھ ہزار کی نوکری مل سکے‘ ہم اکیلے کام کر رہے ہیں تو ہمیں گھر کے دوسرے افراد کو بھی کام پر رضا مند کرنا چاہیے‘ ہم اگر نوکری کے دوران سستی‘ کام چوری‘ چغل بازی اور نمک حرامی کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو ہمیں اسے فوراً ترک کر دینا چاہیے اور آج سے اپنی جاب پر اتنی توجہ دینی چاہیے کہ ہمارے مالکان ہمیں ترقی دینے پر مجبور ہوجائیں اور اگر مالکان ہماری کارکردگی کی قدر نہیں کرتے تو دوسرے ادارے ہمیں منہ مانگے معاوضے پر ملازمت دے دیں۔ہماری دکان‘ ہماری کمپنی اور ہماری فیکٹری میں گاہک نہیں آتے تو ہم آج سے گاہکوں کو متوجہ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیں‘ ان کی عزت کریں‘ انہیں دہلیز پر خوش آمدید کہیں اور گلی میں واپس چھوڑ کر آئیں‘ منافع کم کر کے سیل بڑھائیں اور گاہکوں کے حقوق کو پرافٹ پر فوقیت دیں‘ نئی ورائٹی لے کر آئیں اور ملازمین کو اپنے بچے سمجھنا شروع کر دیں تو ہماری آمدنی میں واضح تبدیلی ہو سکتی ہے ‘‘۔ ان کا کہنا تھا ’’دنیا میں کوئی چیز منہگی یا سستی نہیں ہوتی‘ معاملہ صرف افورڈبیلٹی یا قوت خرید کا ہوتا ہے‘ میں اگر افورڈ نہیں کرسکتا تو چینی دس روپے کلو ہو جائے تو بھی یہ میرے لیے منہگی ہو گی اور اگر میں افورڈ کر سکتا ہوں تو میرے لیے چھ انجن کا جیٹ جہاز بھی بہت سستا ہے۔بھوک سے نڈھال بچے جس ریستوران کے کچرے سے روٹی کے ٹکڑے چنتے ہیں اسی ریستوران پر لوگ دس ‘دس ہزار روپے بل دے رہے ہوتے ہیں‘ یہ کیا ہے‘ یہ صرف اور صرف افورڈیبلٹی کا فرق ہے۔ یہ بے حسی‘ طبقاتی تقسیم یا منہگائی کا ایشو نہیں یہ زیادہ کام کرنے‘ بہتر کام کرنے اور اپنی آمدنی کے وسائل بڑھانے کا ایشو ہے۔ کچھ لوگوں نے اپنی غربت کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے‘ یہ لوگ اچھی زندگی کے لیے منہگائی کی کمی کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف کے لوگوں نے منہگائی کا مقابلہ کیا‘ انھوں نے اپنی آمدنی کے ذرائع بڑھائے اور آج خوش حالی ان کی دہلیز پر بیٹھ کر جگالی کر رہی ہے‘‘۔وہ درست فرما رہے تھے مجھے اچھی طرح یاد ہے آج سے دس سال پہلے پورے امریکا میں یہ مہم چل رہی تھی کہ حکومت کو مزدوروں کی تنخواہ سات ڈالر فی گھنٹہ سے بڑھا کر آٹھ ڈالر کر دینی چاہیے اور اسی سال امریکا کا ایک شخص 60 ملین ڈالر سالانہ تنخواہ لے رہا تھا‘ آج بھی امریکا میں عام شہری اوسطاً 75 ڈالر فی دن کماتا ہے جب کہ گوگل کا گلوبل سی ای او سندر پچائی روزانہ ساڑھے تین کروڑ روپے تنخواہ لے رہا ہے‘ اس میںاور ان لوگوں میں کیا فرق ہے؟ ان دونوں میں صرف اپروچ کا فرق ہے‘ سندر پچائی نے منہگائی کو نعمت سمجھا اور یہ آمدنی کے وسائل بڑھانے میں جت گیا جب کہ باقی آٹھ کروڑ لوگ منہگائی میں کمی کا انتظار کرنے لگے چنانچہ یہ ترقی کی بلندی پر پہنچ گیا اور باقی لوگ ہائے ہائے کے نعرے لگاتے رہے‘ ہمیں بھی منہگائی کو عذاب کی بجائے نعمت سمجھنا چاہیے اور اسے چیلنج بنا کر اپنے لیے ترقی کے راستے کھول لینے چاہئیں۔

نوٹ: آپ نیا بزنس اسٹارٹ کرنے کے لیے یوٹیوب پر میری ویڈیو ’’یہ 112 بزنس آئیڈیاز آپ کو ایک سال میں کروڑ پتی بنا دیں گے‘‘ دیکھیں‘ آئیڈیا پسند کریں اور کام شروع کر دیں‘ آپ کو  مہنگائی ‘                         مہنگائی                                  محسوس نہیں ہو گی‘ ویڈیو کا لنک یہ ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے