۔،۔زبانِ فریدؒ۔پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔


بابا فریدؒ اشارہ خداوندی کے تحت کفرستان اور جہالت کے اندھیروں میں غرق علاقے اجودھن میں آکر طلسمی قوتوں کے حامل جادوگر کو شکست دے کر اپنی آمد کا اعلان کر چکے تھے‘ اہل علاقہ ایک درویش کی آمد کی خبر پاکر اب دیوانہ وار درویش کامل کے در پر حاضری دے رہے تھے جس وقت بابا فریدؒ اجودھن تشریف لاتے ہیں لوگ بت پرستی میں غرق تھے جہالت عام تھی لوگ بنیادی حقوق سے ناواقف تھے بت پرستی ظلم و جبر اہل علاقہ کی عادت تھی اگر کوئی اہل حق ادھر آبھی جاتا تو یہ ظالم لوگ اُس کا پیغام حق سننے کی بجائے اس کی زندگی اجیرن کر دیتے تاکہ وہ درویش علاقہ چھوڑ کر چلا جائے‘ بد خصلت انسانوں کا یہ علاقہ زہریلے حشرات الارض سے بھرا ہوا تھا خطرناک زہریلے سانپ بچھو اور دوسرے کیڑے مکوڑے کھلے عام ہزاروں کی تعداد میں سر عام پھرتے تھے جہاں کو ئی انسان ان کی زد میں آتا یہ اُس کو لقمہ اجل بنا دیتے بابا فریدؒ نے اِن زہریلے حشرات الارض اور جہالت میں ڈوبے بد فطرت انسانوں کو جاننے کے باوجود اِس علا قے کو تبلیغ اسلام کے لیے پسند کیا تا کہ زنگ آلود انسانوں کو جہالت بت پرستی سے نکال کر ان کی کردار سازی کر کے انہیں زیور اسلام سے آراستہ کر کے صالح معاشرے کا قیام عمل میں لایا جاسکے زہریلے کیڑے مکوڑے تو آپؒ کے قیام کے چند دن بعد ہی علاقہ چھوڑ کر چلے گئے اِس طرح بے بس مخلوق خدا کو ان زہریلے جانوروں سے نجات مل گئی پھر آپ ؒ کی غریب پروری اور مخلوق خدا سے شفقت کی روشنی تیزی سے علاقے میں پھیلنے لگی‘ آپ ؒ کے چاہنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو نے لگا جہالت وگمراہی میں غرق جب کو ئی بھی بندہ آپ ؒ کی بارگاہ میں حاضر ہو تا تو آپ ؒ کے روشن چہرے اور حسن سلوک سے متاثر ہو کر پھر آپ ؒ کا ہی ہو کر رہ جاتا‘ آپ ؒ کے کردار کی روشنی اور خوشبو سے لوگ مسخر ہو تے چلے جا رہے تھے بے بس بے کس لاچار اپنی خالی جھولیاں لے کر اِس درویش با کمال کے در پر آتے اور خالی جھولیاں خوشیوں سے بھر کر واپس جاتے‘ آپ ؒ کے فیض یافتگان کی تعداد ہر دن بڑھتی جارہی تھی جس کو ہر در سے ٹھکرا دیا جاتا وہ پھر آپ ؒ کے آستانے پر آکر جھولی پھیلا دیتا اور پھر شہنشاہ پاک پتن ؒ اُس کی خالی جھولی کو بھر دیتے‘ آپ ہی تو اُس ظلمت کدے میں محتاجوں کے خیر خواہ بیماروں کے شفا دینے والے تھے ایک دن ایک بیوہ غریب بو ڑھی عورت آپ ؒ کے آستانے پر اپنی جھولی پھیلائے حاضر ہو ئی اور فریاد کی اے غریبوں کے مسیحا عظیم میں غریب بے بس بیوہ ہوں تین جوان بیٹیاں ہیں جن کی شادی کی عمر گزر رہی ہے ان کے بالوں میں چاندی اتر آئی ہے خدا کے لیے میری مدد کریں تاکہ میری غیب سے مدد ہو جائے تاکہ میں اپنی بچیوں کی اچھے طریقے سے شادی کر سکوں عورت کی فریاد سن کر دلوں کے مسیحا نے حکم جاری کیا آج لنگر خانے میں جتنی بھی نذریں روپیہ پیسہ آیا ہے سب اِس بوڑھی ماں کو دے دو تو خادم سرجھکا کر بولا میرے شہنشاہ آج نذرنیاز نہیں آئی لہٰذا میں شرمندہ ہوں کہ اِس بوڑھی کو دینے کے لیے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے بابا فریدؒ کے چہرے پر اداسی کا رنگ لہرانے لگا تو بوڑھی بولی اے غریبوں کے مسیحا میں تو آپ ؒ کی بڑی دور سے شہرت سن کر آئی ہوں میں ہر در پر دستک دے کر ناکام ہو کر آخری امید سمجھ کر آپ ؒ تک آئی ہوں مجھے خالی ہاتھ واپس نہ کریں آپ ؒ ہی میرا آخری سہارا ہیں مجھے خالی ہاتھ واپس نہ کریں تو بابا فریدؒ اداس شفیق انداز میں بولے آخری سہارا تو اللہ کی ذات ہے یہ فقیر بھی اُس کے در کا بھکاری ہے میرا اور سب کا سہارا وہی ذات ہے جو ستر ماؤں سے زیادہ شفیق ہے لیکن بوڑھی ماں ضد اور اصرار کر تی جارہی تھی کہ میر ی مدد کی جائے میں کدھر جاؤں اگر آپ ؒ بھی میری مدد نہیں کریں گے تو دلوں کے مسیحا بابا فریدؒ بولے جاؤ جا کر مٹی کا ڈھیلا اٹھا لاؤ تو عورت حیران نظروں سے اٹھ کر باہر سے جاکر مٹی کا ڈھیلا اٹھا لائی اور لاکر بابا جی کے سامنے رکھ دیا تو بابا جی نے بآواز تین بار سورہ اخلاص پڑھ کر مٹی کے ڈھیلے پر دم کر دیا اہل مجلس نے حیران کن منظر دیکھا کہ کن فیکون کے مقام پر سیف زبان بابا فریدؒ کی توجہ سے مٹی کا ڈھیلا سونے کا بن گیا پھر سونے کے ڈھیلے کو اٹھا کر غریب عورت کو دیا اور کہا جاؤ جا کر اپنی ضرورت اور بیٹیوں کی شادی کرو عورت تحسین آمیز نظروں سے بابا جی ؒ کو دیکھتے ہو ئے چلی گئی‘ گھر جا کر عجیب خیال کے تحت غسل کیا وضو کیا خوشبو لگا کر صاف لباس پہن کر جائے نماز پر بیٹھ کر سورہ اخلاص کو پڑھ پڑھ کر مٹی کے ڈھیلوں پر دم کر نے لگی کہ میرے پاس کیمیا گری کا خاص نسخہ وظیفہ آگیا ہے جس کی تاثیر سے مٹی سونے میں ڈھل جاتی ہے جب مٹی کے ڈھیلے سونے میں نہ بدلے تو تین سو بار پڑھ کر دم کیا لیکن مٹی سونے میں نہ ڈھلی پھر اگلے دن بھی یہی عمل کیا کئی دن عورت مٹی کے ٹکڑے لا کر سامنے رکھ کر پھر سورہ اخلاص پڑھ پڑھ کر ان پر دم کر تی رہی لیکن جب بار بار پڑھنے اور دم کر نے پر بھی مٹی کے ٹکڑے سونے میں نہ بدلے تو آخر کار تنگ آکر بابا جی ؒ کے حضور حاضر ہو ئی اور بولی اے میرے مسیحا ؒ آپ ؒ نے تین بار سورہ اخلاص پڑھ کر مٹی کو سونے میں بد ل ڈالا جبکہ میں نے غسل کر کے خود کو خوشبوؤں میں مہکا کر پورے گھر کو صاف اور مہکا کر سینکڑوں پر سورہ اخلاص پڑھ کر مٹی کے ڈھیلوں پر دم کیا لیکن مٹی کے ڈھیلے مٹی کے ہی رہے آخر میں پڑھائی عبادت کام کیوں نہیں کر رہی جو آپ ؒ نے صرف تین بار پڑھ کر ڈالا بابا فریدؒ نے عورت کو ٹالنے کے بہت کو شش کی لیکن عورت بضد تھی کہ مجھے وجہ بتا ئی جائے میری پڑھائی سے مٹی سونا کیوں نہیں بنی تو تنگ آخر بابا جی ؒ بولے دیکھوتمہاری پڑھائی عبادت سب اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن آسمان کے بادشاہ خالقِ کائنات نے جو تاثیر اپنے غلام بابا فرید ؒ کی زبان میں پیدا کر دی وہ تمہاری زبان میں نہیں ہے تمہارے منہ میں فریدالدین مسعود ؒ کی زبان نہیں تھی تذکرہ نگار ایک اور واقعہ بیان کر تے ہیں ملتان کا ایک زمیندار بابا جی ؒ سے بہت عقیدت پیار کر تا تھا ایک دفعہ اُس کی مسجد کا امام مسجد اجو دھن کی طرف جانے لگا تو اُس زمیندار نے عارف نامی امام مسجد کو باباجی ؒ کے لیے چاندی کے دوسو سکے دئیے کہ جاکر بابا جی ؒ کو پیش کر دینا اور دعاؤں کی درخواست بھی کر دینا عارف امام مسجد جب بابا جی کے پاس پہنچا تو نفس کے لالچ پر ابھار دیا کہ بابا جی ؒ کو کونسا پتہ چل جانا ہے اِس لیے سو سکے اپنے پاس رکھ کر ایک سو سکے بابا جی کے حضور پیش کر دئیے اور کہاملتان میں فلاں زمیندار نے آپ ؒ کے حضور پیش کئے ہیں تو بابا جی بولے اُس کے لیے بہت ساری دعائیں اور آپ ؒ کا بھی شکریہ کہ آپ ؒ کو یہاں آنے کی زحمت اٹھا نا پڑی تو امام مسجد بو لا نہیں میں تو ادھر آرہا تھا کوئی زحمت نہیں ہو ئی تو بابا فریدؒ بولے آ پ کو مشکل تو پیش نہیں آئی جو آپ کو رقم آدھی آدھی کر نی پڑی‘ امام مسجد شرمندگی کے دریا میں غرق بیٹھا تھا پھر اپنی جیب سے باقی سو سکے بھی نکال کر با با جی کو پیش کئے اور بو لا جناب ہم مو لوی آپ ؒ اہل حق کا مقابلہ نہیں کرسکتے مجھے معاف کر دیں تو دلوں کے راجہ نے اپنے سکے بھی شامل کر کے امام مسجد سے کہا یہ ساری رقم آپ کی ہے امام مسجد باباجی کے حسن سلوک اور قوت مکاشفہ سے زاروقطار رونے لگے سارا مال غریبوں میں بانٹ دیا بابا جیؒ کے قدموں میں گر کر کہاکہ اے شہنشاہ ِ معرفت مجھے غلا می کا اعزاز بخشیں پھر اہل دنیا نے نگاہ کیمیا کی تاثیر دیکھی سکے چوری کر نے والا معرفت کے نور میں نہا کر خلافت کا حق دار ٹہرا پھر تربیت کے بعد ہستیان جا کر نور حق کو شاندار طریقے سے پھیلا یا۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے