۔،۔ سپریم کورٹ میں جنرل قمر جاوید کی توسیع کا نوٹیفکیشن معطل۔ ( پہلو۔صابر مغل ) ۔،۔


منگل کے روز سپریم کورٹ میں چیف جسٹس جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے موجودہ حکومت کی جانب سے چیف آف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کا نوٹیفکیشن معطل کرتے اور فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت آج (بدھ ٌ)کو مقرر کر دی،بینچ میں جسٹس مظہر عالم اور جسٹس منصور علی خان شامل تھے، اس اچانک تبدیلی کا کسی کو وہم و گمان تک نہ تھا مگر جو ہونا ہوتا ہے ہو کر رہتا ہے،چیف اف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف جیورسٹس فاؤنڈیشن نے دائر کی تھی،منگل کوسماعت کے دوران درخواست گذار کے وکیل ریاض حنیف راہی نے درخواست واپس لینے کی استدعا کی جسے مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس نے درخواست کوآئین کے آرٹیکل 184کے تحت عوامی مفاد عامہ کے تحت از خود نوٹس میں تبدیل کرتے ہوئے مختصر سماعت کے بعدعبوری فیصلہ سنا دیا،سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع دی گئی لیکن اسی توسیع کے لئے خطے کی سیکیسورٹی کی صورتحال کی اصطلاح مبہم ہے،علاقائی سیکیورٹی سے نبٹنا فوجکا بطور ادارہ کام ہے نہ کہ کسی ایک افسر کی ذمہ داری بنتی ہے علاقائی سیکیورٹی کی وجہ ان بھی لیں توفوج کا ہر افسر دوبارہ تعیناتی کا تقاضا کر سکتا ہے اٹارنی جنرل آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع یا مدت یا نئی تعیناتی کا قانونی جواز فراہم نہیں کر سکے،فوجی قوانین کے مطابق صرف ریٹائرمنٹ کو عارضی طور پر معطل کیا جا سکتا ہے یوں ریٹائرمنٹ سے پہلے ریٹائر کرنا چکھڑا گاڑی کو گوڑے کے آگے کرنے والی بات ہے اٹارنی جنرل قانون کے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکے جن کے مطابقآرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور دوبارہ تعیناتی کی اجازت ہو وزیر اعظم کی جانب سے ازخود آرڈر پاس کر کے موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کو توسیع دیدی جبکہ واضح ہے کہ اس معاملے میں آرٹیکل 243کے تحت صدر مجاز اتھارٹی ہے،چیف جسٹس نے کہاوزیر اعظم کو تو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار ہی نہیں تھاجو صرف صدر مملکت کر سکتے ہیں جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت میں بتایا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع در کی منظوریاور پھر کابینہ نے بھی اس کی منظوری دی،عدالتی فیصلہ میں اس بارے کہا گیاوزیر اعظم نے19اگست کو اپنے طور پر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیااور نوٹیفکیشن کے بعد غلطی کا احساس ہونے پر دوبارہ وزیر اعظم نے سمری صدر کو بھجوائی،جسٹس منصور علی خان نے کہا کابینہ نے اس معاملے پر فیصلہ کرنے سے قبل مناسب سوچ بچار کی ہو گی،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا دستاویزات کے مطابق کابینہ کی اکثریتنے اس معاملے پر اپنی رائے نہیں دی 25ارکان میں سے11نے اس کے حق میں جبکہ14ارکان نے کوئی رائے نہیں دی،حکومت نے ایسے کابینہ ارکان کی خاموشی کو ان کی ہاں سمجھ لیا،اس پر اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کہ جن ارکان نے اس ھوالے سے رائے نہیں دی وہ ووٹنگ میں شریک ہی نہیں تھیتب آصف سعید کھوسہ نے کہاکابینہ کے14ارکان نے ابھی تک آرمی چیف کی توسیع پر مثبت جواب نہیں دیاتو کیا اب کابینہ ارکان کو بھی سوچنے کا موقع دیا جائے،اس انتہائی مختصر سماعت کے بعدعدالت نے چیف آف آرمی سٹاف،وفاقی حکومت،وزارت دفاعکو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت دوسرے دن تک ملتوی کر دی، وزیر اعظم عمران خان نے 19اگست کوجنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین برس یعنی فل ٹرم کی توسیع کر دی تھی اس وقت وزیر اعظم ہاؤس سے جاری اعلامیہ کے مطابق اس توسیع کا فیصلہ خطے کی سیکیورٹی کی صورتحال کومد نظر رکھتے ہوئے کی گئی،گوجرانوالا کے قصبہ گکھڑ کے رہائشی جنرل قمر جاوید باجوہ نینومبر2016میں فوج کی کمان سنبھالی تھی انہیں اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے فوج کی سربراہی پر تعینات کیا تھا،جنرل قمر جاوید باجوہ کو جنرل راحیل شریف نے فوج کی کمان منتقل کی،دفاعی مبصرین کے مطابق جنرل قمر جاوید باوجوہ نے اپنی دوسری مدت ملازمت کے آغاز سے دو دن پہلے بری فوج میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے نئی ٹیم اتاری،دو میجر جنرلز جنرل عامر اعوان اور جنرل محمد سعید کو بطور لیفٹیننٹ جنرلز کے عہدے پر ترقی دے کر انہیں اہم ترین عہدوں پر تعینات کیا،لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید کو صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی جبکہ جنرل علی عامر اعوان کو آئی جی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی تعینات کیا گیا،،نیشنل ڈیفنس یونورسٹی (NDU) ایک تھنک ٹینک کے علاوہ مسلح افواج کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا اہم ترین مرکز ہے یہاں افسران کی صلاحیت،استعدادکار بڑھانے کے ئلے ورکشاپس،سیمینارز،اورخاص کورسز کروائے جاتے ہیں،لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر اعوان کو ایڈجوائنٹ جنرل تعینات کیا گیا اس عہدے پر آرمی میں مین پاورکے علاوہ نظم و ضبط کی ذمہ داریاں اور تمام سزاؤں کا تعین بھی کیا جاتا ہے،لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزاکو چیف آف جنرل سٹاف مقرر کیا گیاجو ماتحت بری فوج کے تمام آپریشنل ڈائریکٹوریٹ کا سربراہ ہوتا ہے جس میں ملٹری انٹیلی جنس بھی شامل ہے،لیفٹنٹ جنرل ندیم ذکی کو دائریکٹراسٹریٹجیک پالنز ڈویژن)ڈی جی ایس پی ڈی)مقرر کیا گیا اس عہدے پر ان کے ماتحت نیو کلیر پروگرام سمیت دیگر اہم نوعیت والے معاملات کی پلاننگ کرنی ہوتی ہے،لیفٹیننٹ جنرل شاہین مظہرکور کمانڈر منگلا اور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو کور کمانڈر پشاور تعینات کیا گیا،جنرل قمر جاید باجوہ 24اکتوبر1980کو فوج میں شمولیت اختیار کی انہیں بلوچ رجمنٹ میں کمیشن ملا،نشان امتیاز ملٹری یافتہ جنرل ناجوہ کینیڈاکی افواج کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج،امریکہ کی نیول بولٹ گریجویٹ یونیورسٹی،مونٹیسری (کیلیفورنیا)،اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے فارغ التحسیل ہیں،وہ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ،این ڈی یو اسلام آباد،سکول آف انفینٹری اینڈ ٹیکٹکس مین انسٹرکٹر رہے،انفینٹری بریگیڈ کے بریگیڈئیر میجر،راولپنڈی کور کے چیف آف سٹاف،انفینٹری بریگیڈ 16بلوچ رجمنٹ،شمالی علاقہ جات کے کمانڈر،کانگو میں پاکستانی دستے کی سربراہی کی جبکہ راولپنڈی کورکی کمانڈ بھی سنبھالے رکھی،پاکستانی تاریخ میں جنرل ضیاء الحقاور جنرل پرویز مشرفنے بطور آرمی چیف اور سربراہ مملکت خود کو توسیع دی،جنرل اشفاق پرویز کیانی کی توسیع یوسف رضا گیلانی اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی عمران خان نے کی،اب تک 16فوجی سربراہوں میں سے6چیف آف آرمی سٹاف کو تعینات کرنے کا اعزاز صرف نواز شریف کو حاصل ہے جنہوں نیکسی ایک کو بھی توسیع نہیں دی تھی،جنرل وحید کاکڑ کو بے نظیر شہید نے توسیع دینے کی کوشش کی مگر انہوں نے انکار کر دیا،جنرل مرزا اسم بیگ کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ مدت ملازمت میں توسیع چاہتے تھیمگر ناکام رہے،،جنرل ضیا ء الحق جنہیں یکم مارچ1976میں ذوالفقار علی بھٹو نے بطور آرمی چیف تعینات کیا تھاوہی ان کی پھانسی کا سبب بنے اور فوج کی تاریخ میں مدت ملازمت میں توسیع کی روایت ڈالی،اب آج آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے ازخود نوٹس پر عدالت اعظمیٰ کا فیصلہ کیا آتا ہے ساری دنیا ی نظریں اس پر ہیں بہرحال عدالت نے آئین اور قانونی نکات کو مد نظر فیصلہ دینا ہے وہ جو بھی ہوا،آج جنرل قمر جاوید باوجوہ کے مزید بطور آرمی چیف رہتے ہیں کہ نہیں پتا چل جائے گا۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے