۔،۔ سید سجاد حسین نقوی نے کمیونٹی اورجہاں ٹی۔وی کی ٹیم کے لئے خوبصورت شام کا اہتمام کیا۔نذر حسین۔،۔

شان پاکستان جرمنی اشافن بَرگ۔سیاسی،سماجی،کاروباری اور مذہبی شخصیت سید سجاد حسین نقوی نے کمیونٹی اورجہاں ٹی۔وی کی ٹیم کے لئے خوبصورت شام کا اہتمام اپنے پنجاب تندوری ریسٹورنٹ اشافن بَرگ میں کیا، انہوں نے تما م دوست و احباب کو خوش آمدید کہا۔شیخ مظفر الحسن مرحوم جو ان کے دیرینہ دوست اور سیاسی ہمسفر تھے،ثریا شہاب مرحومہ جوکسی تعارف کی محتاج نہیں کے لئے دُعا مغفرت کی، تھوڑا حالات حاضرہ پر تبصرہ کیا،سلیم پرویز بُٹ صدر پاکستان جرمن پریس کلب اور جہاں ٹی۔وی کے اونر ٭مالک٭ اور کمیونٹی مشیر کے طور پر ان کا کہنا تھا کہ ہم ادارہ سے ہٹ کر آپ کا حصّہ تھے ہیں اور رہیں گے اگر کمیونٹی کو قونصلیٹ سے گلہ شکوہ ہو تو ہمیں بتائیں ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ کمیونٹی کی فلاح کے لئے ہم ہمیشہ بات کرنے کے لئے تیار ہیں پاکستان جرمن پریس کلب کسی سیاسی پارٹی کا حصّہ نہ تھی،نہ ہے اور نہ بنے گی اگر کسی دوست کو شک ہو تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات کر لیں۔ کمیونٹی کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے میں نے جہاں ٹی۔وی شروع کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم جنوری یا فروری کے درمیان میں برابر کام شروع کر دیں گے۔رانا لیاقت علی کا کہنا تھا کہ ہمیں خوشی ہوئی کہ جرمنی سے ایک ٹی وی لانچ کیا جا رہا ہے، اس چینل کی آواز دنیا میں بسنے والے پاکستانیوں کی سماعت تک پہنچے تو ان کو سمجھ جانا چاہیئے کہ واقعی یہ چینل آزاد Independent ہے،ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اپنی کوتاہیوں سے گریز کرنا چاہیئے،نشیب و فراز زندگی میں آتے رہتے ہیں جن سے ہم گزر چکے ہیں،،ہم سب کو کُول(ٹھنڈے) رہ کر بات کرنی چاہیئے خاص کر نوجوان طبقہ کو، ان کا کہنا تھا دل کو فراخ رکھ کر بات کرنی چاہیئے،ان کا کہنا تھا کہ ہم نوجوانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہیں،سلیم پرویز بَٹ کا کہنا تھا کہ تبدیلی آئی ہے،ہمارے ساتھ یوتھ youth نے مل کر کامیاب کام کیا ہے،سجاد نقوی کا کہنا تھا کہ یوتھyouth نے کمیونٹی کو لیڈ کرنا ہے ہمیں اختلافات ختم کر کے ساتھ چلنا چاہیئے، سیاسی جماعتیں ہر جگہ ہیں اگر پاکستان کی بات آئے گی تو ہم ایک ہیں،رفیق بٹ نے جہاں ٹی وی کو مبارکباد دی ان کا کہنا تھا پارٹیاں آتی جاتی رہتی ہیں ہم یہاں بسنے والے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنا ہے امید رکھتا ہوں ہر ایشو پر اکٹھے ہو کر چلیں گے۔توقیر بُٹر صابری کا کہنا تھا کہ جہاں ٹی وی کی مبارکباد دیتا ہوں،ہماری بد قسمتی ہے کہ کچھ لوگوں کی وجہ سے ہم بدنام ہو رہے ہیں اگر میں نے کبھی کسی سے بد تمیزی کی ہو تو مجھے بتائیں ہم اپنی یوتھ کو سمجھاتے ہیں کہ بڑوں سے بات تمیز کے دائرے میں رہ کر کریں ہم حکومت سے بات کر کے مسائل کو حل کرنا جانتے ہیں آپ مشورہ دیں ہم بات حکومت کے ایوان تک پہنچائیں گے۔ قاضی حبیب کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی بھی کسی سے بات کی ہے تو بڑابھائی سمجھ کر بات کی ہے، ان کا کہنا تھا کہ میں سیاسی پارٹی کے سینیئر سے بھی رابطہ میں ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ بڑے چھوٹوں کو ساتھ لے کر چلیں،ہمارے یوتھ ایکٹو ہیں انہوں نے جہاں ٹی کا شکریہ ادا کیا ان کا کہنا تھا کہ ہماری کمیونٹی کے مسائل پر بات ہونی چاہیئے، عون احمد کا کہنا تھا کہ جہاں ٹی وی کی آواز کو پوری دنیا سنے گی،ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کا نام پوری دنیا میں اجاگر کرنا چاہتے ہیں ہمیں پاکستان کا دفاع کرنا چاہیئے بعد اذاں تمام مہمانوں کی چٹ پٹے پاکستانی کھانوں سے تواضع کی گئی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے