-,- دریا کنارے بھی کھڑے ہوتو وضو کرنے میں پانی کا ضیاع نہ کرو، مہوش خان-

مہوش خان برلن جرمنی۔جرمنی کے شہر برلن میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان تھا”اسلام میں ماحولیات کا تحفظ”برلن میں منعقد کئے جانے والے سیمینار میں مہمان خصوصی مسٹر ماکس رنڈ فلائش تھے۔اس سیمینار میں دنیا میں بڑھتی ہوئ آلودگی اور اس دنیا و زمیں کی بقا کے لئے مذہب اسلام کے حوالے سے بات کی گئ کہ قدرت کے تحفظ اور ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے دین اسلام میں کتنی تاکید کی گئ ہے۔چونکہ دین اسلام دین فطرت ہے اسی لئے
اسلام میں نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں اور پودوں کے حقوق کا بھی تحفظ کیا گیا ہے۔اور جابجا قرآن میں ایسی آیات آئ ہیں جن میں ان قدرتی نظاروں کی طرف انسان کی توجہ دلا کر اپنے رب تک پہنچنے کا کہا گیا ہے۔اور جنگ میں بھی درختوں اور جانوروں کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا گیا ہے۔مہمان خصوصی ماکس جن کی تنظیم 2011 سے Hima کے نام سے اس حوالے سے جرمنی بھر میں کام کر رہی ہے اور لوگوں میں ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے آگاہی پیدا کر رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ قرآن میں جا بجا ایسی آیات ملتی ہیں جن میں ماحولیات کے تحفظ کی تلقین کی گئی ہے اور قدرتی وسائل کو ضائع نہ کرنے کی بھی تلقین کی گئ ہے۔اور نہ صرف قرآن میں اللہ تبارک و تعالی نے اس بارے میں آیات نازل فرمائ ہیں بلکہ نبی پاک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ سے بھی ایسے واقعات کا پتہ چلتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دین اسلام چونکہ دین فطرت ہے یہی وجہ ہے کہ اس معاملے میں بھی قرآن و سنت میں تفصیلی آیات و واقعات ملتے ہیں۔انھوں نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر دریا کے کنارے بھی ہو تب بھی وضو کرتے وقت پانی ضائع نہ کرو۔اسی طرح جانوروں کے حقوق کی بات کرتے ہوئے انھوں نے سیرت کے اس واقعہ کا ذکر کیا جس میں ایک اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے مالک کی زیادتی کی شکایت کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے انصاف دلاتے ہیں۔ماکس کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے میں آگاہی دینے کے لئے ہم مساجد کے منبر بھی استعمال کر سکتے ہیں کہ مساجد میں جمعہ کے خطبہ میں ان آیات و واقعات کو دلیل بنا کر اس بڑھتی ہوئ ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کیا جاسکے۔مقررین کا کہنا تھا کہ آج ماحولیاتی آلودگی کا مسلئہ انتہائ خطرناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے جس میں پلاسٹک کا استعمال سرفہرست ہے جو ہمارے ماحول کو حد درجہ خراب کر رہا ہے۔مگر فوری طرف حالیہ دنوں میں ہی لوگوں کی توجہ اس طرف دلانے کی بھرپور کوششیں بھی کی جارہی ہیں جن میں اس ننھی بچی کا احتجاج قابل ذکر ہے کہ جس نے اپنے طور پر کوشش کی اور آج ہر ملک اور ہر شہر میں جمعہ کو لوگ ماحولیاتی آلودگی کے خلاف اکھٹا ہوکر آگاہی پھیلاتے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے میں جہاں پلاسٹک کے استعمال کو روکنا ضروری ہے وہیں درختوں کی کٹائ،کھانے کا ضیاع بھی روکنا ہوگا۔اور ساتھ ہی ساتھ دنیا بھر میں جنگی جنون کے طور پر استعمال کیا جانے والا اسلحہ بھی اس ضمن میں آتا ہے۔اللہ نے اس دنیا کی ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے اور یوں قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال آنے والی نسلوں کو تباہ کر سکتا ہے۔اس مسلہ پر قابو پانے کے لئے شروعات ہمیں اپنے آپ سے اور اپنے گھر سے کرنی ہوں گیں۔پھر گھروں سے نکل کر گلی محلوں میں۔سیمینار کے آخر میں سولات و جوابات کا سلسلہ بھی رکھا گیا جس میں شرکاء نے نہ صرف مہمان خصوصی سے اس حوالے سے مختلف سوالات پوچھے بلکہ اس مسئلہ پر قابو پانے کے حل بھی بتائے جن میں رمضان کے مہینے میں مساجد یا ذاتی دعوتوں میں پلاسٹک برتنوں کا استعمال ترک کرنا یا پودوں سے بنے برتن ان کے متبادل کے طور پر استعمال کرنا،کچرے کو مختلف اقسام کے طور پر الگ الگ کرکے پھینکنا وغیرہ شامل تھے۔ اس کے علاوہ بچوں کی شروع ہی سے ایسی تربیت کرنا کہ وہ کھانا ضائع نہ کریں اور ان کو یہ باور کرانا کہ یوں کھانا ضائع کرنا حقیقتا کتنا بڑا نقصان ہے-

 

 

 

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے