۔،۔پاکستان پیپلز پارٹی کی پاکستان میں جمہوریت کیلئے دیگئی قربانیوں اور عظیم شہادتوں کے سفر کے ۲۵سال۔قیصر ملک۔،۔


دنیا بھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں بھٹو شہید،بی بی شہیدکے چاہنے والوں کو یوم تاسیس مبارک
برلن جرمنی۔(قیصر ملک)اج پاکستان پاکستان پیپلز پارٹی کے ۲۵ سال مکمل ہو گئے اور اس عرصہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور قیادتقائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہیدنے جمہوریت اور عوامی حاکمیت کے لئے جو عظیم قربانیاں دیں وہ تاریخ کا ایک سنہری باب ہے جس کو ہر آنے والا مورخ یارکھے گا،تیس نومبر کادن پاکستان کی تاریخ کا ایسا دن جس نے پاکستان میں رہنے والے غریب مزدوروں کسانون طالبعلموں کی دنیا بدل دی، قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو نے جس دن پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھنے کا اعلان کیا تو پاکستان کی اشرافیہ اور ان کے مہروں کے گھروں میں سوگ کی کیفیت تھی لاہور میں اس کنوینشن کا احتمام ہو نا تھالاہور اور پنجاب کے تمام ڈپٹی کمشنر اور تحصیل دارمتحرک تھے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے کارکنوں کو کوئی ہوٹل کوئی حال اور کوئی گراونڈ مہیا نہ کی جائے جہا ں یہ اجتماع کرسکیں اور نہ ہی کسی جگہ سے کارکن لاہور پہنچ سکیں یہ پورے پاکستان میں تمام ڈی سی کو ہدایات پہلے سے جاری کی جا چکی تھیں، اس ساری صورت حال کو دیکھ کریہ فیصلہ ہوا کی لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کی قیام گاہ پر کیا جائے تو اسپر سرکاری غنڈوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر کو نذرآتش کرنے کا پروگرام بنایا جس کی اطلاع بھٹو صاحب کو دی گئی تولاہور کے طالبعلموں،مزدوروں نے مکان کی نگرانی شروع کردی جس پر قائد عوام نے پریس کانفرنس کی اور انتظامیہ کو خبردار کیااور کچھ معاملہ بہتر ہوا،اس کنوینشن میں پورے پاکستان سے تقریبا چھ سو کے قریب کارکن جس جذبے اورعزم کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے شامل ہوئے وہ قابل ستائش تھا،جہا ں پاکستان پیپلز پارٹی کا نام اور بھٹو شہید کو اسکا بلامقابلہ چیئر مین منتخب کیا گیا اس دن اس اجتماع میں بڑے بڑے نام شامل تھے جنہوں نے بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جدجہد میں بہت زیادہ قربانیاں دیں ان میں اج بہت سے اس دنیا میں نہیں مگر ان کو ہم بھولیں گے نہیں،اس دن کنوینشن میں قائد عوام نے جو تقریر کی وہ اتنی مدلل موثراور پرجوش تھی کہ حکومت کے مخبر بھی جذباتی ہو نعرے لگانے لگے،قائد عوام نے کہا کہ ملکی سیاست اب ایک دلچسپ دور میں داخل ہو نے ولالی ہے اور مجھے قطعی یقین ہیملک اندرونی سیاست کا جوحال بن چکا ہے اور جو بین القوامی مسائل کے بارے میں جو رویہ اختیار کیا جارہا ہے اس کے پیش نظر پیپلز پارٹی زبردست کا میابی سے ہمکنار ہوگی،مجھے اس بات کا بھی اعتراف ہے کہ بڑے کٹھن کام درپیش ہین اور پارٹی کو کئی روکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا کرنا ہو گالیکن کوئی مشکل ایسی نہیں ہوا کرتی جسے سر نہ کیا جاسکے سب جانتے ہیں کہ قائد اعظم کے راستے میں کتنی روکاوٹیں اور مخالفتیں حائل تھیں لیکن انہوں نیکسی طر اپنے فولادی عزم اور ہمتسے قم کی کشتی کوکامیابی سے ہمکنارکیا، قائد عوام کاایک ایک لفظ اج بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی یادوں میں خوں کی طرح گردش کررہا ہے، اس اجتماع میں قائد عوام نے اپنی پیپلز پارٹی کے بنیادی نعرے جن کا اعلان کیا وہ ہر زبان پر زدعام ہو گئے،،،،، اسلام ہمارا دین ہے،،،،،جمہوریت ہماری سیاست،،،،سوشلزم ہماری معیشت ہے،،اورطاقت کا سرچشمہ عوام ہیں،،،،،ان نعروں کے ساتھ روٹی کپڑا اورمکان کا نعرہ ہر گلی کوچہ میں گونجنے لگاجس پر دنیا ششد رہے گئیپاکستان پیپلز پارٹی کو پاکستان کی ۲۷سالہ تاریخ میں صرف ۴۱سال اقتدار ملا جس میں اس نے پاکستان کو مضبوط کرنے اور عوام کوزہنی طور پر جو شعور دیا وہ بھی ایک لازوال تاریخ ہے،پیپلز پارٹی کے ملک کو مظبوط کرنے کے جو کانامے سرانجام دیے ان میں سے کچھ درج زیل ہیں۔،پاکستان کو پہلی مرتبہ ایک متفقہ آئین دیا،،،پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی بنیاد رکھی،،،،،پورے ملک میں مفت اوریکساں تعلیم فراہم کی،،،،بے زمین کسانوں کو مالکانہ حقو ق پر زمین فراہم کی،،،،پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں کرائی جس میں پوری اسلامی دنیا شامل ہوئی،،،،،شملہ معاہدہ کیا،،،،،نوے ہزارجنگی قیدیوں کی واپسی کرائی،،،پاکستان سٹیل مل کا قیام،،،،پہلی بار شناختی کارڈکا اجرا کیا،،،عام ادمی کے لئے پاسپورٹ کا اجرا،،،،،ہیویمکینکل کمپلکس ٹیکسلا کا قیام،،،،۔،گوادر کو پاکستان میں شامل کیا،،،خلیجی ممالک میں پاکستانی مزدوروں کی کھپت کا معاہدہ،،،،،پورٹ قاسم اتھارٹی کا اجرا،،،،ایٹمی بجلی گھر کراچی کا قیام،،،قائد اعظم گو مل وعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا قیام،،،،،،چشمہ ۱،۲،۳،۴نیوکلرپلانٹس کی تنصیب،،،،،،لیبر پالیسی کا اجرا،،،،،مزدور ٹریڈ یونین کا قیام،،،،،غریبوں میں پانچ مرلہ کی مفت تقسیم،،،،،تعلیم بالغاں کا اجرا،،،،،ختم نبوت کو قانونی شکل دینا،،،،،میزائل ٹیکنالوجی کا حصول،،،،محکمہ لیڈ ہیلتھ ورکرز کا قیام،،،،،لیڈیز پولیس اسٹیشنز کا قیام،،،،،فرسٹ ویمن بنک کا قیام،،،،،یوتھ انوسٹمنٹ پروگرام کا قیام،،،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا قیام،،،،،وسیلہ حق پروگرام کا قیام،،،این ایف سی کا اجرا،،،،اٹھارویں ترمیم کے زریعے صوبائی خود مختاری کا حصول،،،،گورنمنٹ کارپوریشنز میں مزدوروں ۲۱،۵پرسنٹ شیئرز،،،،صدارتی اختیارات کی پارلیمنٹ کو واپسی،،،،چین سے سی پیک معاہدہ،،،،امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ،،،،ایران پاکستان گیس پائپ لائن معاہدہ،،،،،گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ،،،،پختون قوم کو ان کی شناخت وغیرہ اور بھی پہت کچھ جس کے بدلے میں پاکستان کے گریب عوام کی محبت ملی اس پارٹی کو مگر اس پارٹی کو ختم کرنے کے لئے ضیاء مردود سے شروع ہو کر اب تک عوام دشمن طاقتوں نے کارکنوں کوڑے مارے دلخراش سزائیں دیں،اس پارٹی کو لاشوں پے لاشیں دیں کبھی بھٹو کو شہید کرکے کبھی بے نظیر کو شہید کرکے اسکی لاش کبھی اسکے بھائی میر مرتضے کی لا ش کبھی شاہنواز کی لاش کبھ سانحہ کارساز کی شکل میں سینکڑوں کارکنوں کی لاشیں کبھی راولپنڈی میں بی بی شہید کے قافلے کی لاشیں دیں مگر پھر بھی پیپلز پارٹی کے کارکن آج بھی پاکستان کے غریب عوام کے ساتھ بی بی شہید کے لخت جگر جناب بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں آج بھی برسرپیکار ہیں اور پاکستان کو عوامی پاکستان بنانے کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے آج یوم تاسیس کے تجدید عہد کا برملا اعلان کرتے ہیں

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے