۔،۔ انجمن غلامان مصطفی کے زیر اہتمام محفل میلاڈﷺ کا ہارہائیم میں خوبصورت اہتمام۔نذر حسین۔،۔

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ ہارہائیم۔ انجمن غلامان مصطفی کے زیر اہتمام امسال بھی محفل میلاد ﷺ کا ہارہائیمHarheim شادی ہال میں خوبصورت اہتمام کیا گیا جس کا سہرا مسز نادرہ سلیم خان اور محمد بابر چشتی کے سر پر سجایا جاتا ہے۔ یہ ان کی محبت اور کاوش کا نتیجہ تھا کہ بسوں کی ہڑتال کے باوجود نہ صرف فرینکفرٹ بلکہ دور دراز علاقوں سے کثیر تعداد میں عاشقان رسولﷺ محفل کی رونق کو دوبالا کرنے کے لئے تشریف لائے تھے۔ سٹیج کی زینت، حضرت علامہ عبد الطیف چشتی الازہری۔ عرفان حسین مدنی۔ نظام الدین چشتی۔ طحہ چیمہ۔محمد صدیق مصطفی۔الحاج محمد ارشد۔ علامہ ذکریہ اور مولانا اسامہ تھے۔ نقابت کے فرائض بابر چشتی نے ادا کئے۔ تلاوت قرآن پاک سے محفل کا آغاز کیاجس کا شرف حکیمی محمود شاہ کو حاصل ہوا،ملک عبد القدوس جو لودوگ ہافنLudwigshafen سے تشریف لائے تھے نے بارگاہ رسالت ما آب ﷺ کی خدمت میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے۔ علامہ ذکریا جو کوبلنز سے تشریف لائے تھے سیرت مصطفی پر بات کی بعد ازاں نماز مغرب ادا کی گئی نماز کے بعد مولانہ ذکریہ کے بیٹے نے تلاوت سنائی،اسامہ نے جرمن زبان میں خطاب کیا،اس کا کہنا تھا کہ صرف ایک نیک عمل نہیں بہت سارے اچھے کام کئے جا سکتے ہیں، طحہ چیمہ کا کہنا تھا مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے نت نئے طریقے ایجاد کئے تا کہ مسلمان اکٹھے ہو کر نہ چل سکیں سب سے پہلا پوائنٹ کہ وہ مسلمان جو عالم نہیں ہے لیکن بنیاد پرست fundamentalist ہے، وہ مسلمان کو اپنی زندگی کا معمول سمجھتے ہیں قانون سمجھتے ہیں ان کو ختم کر دیا جائے،دوسرے نمبر پر ہمارے عالم دین جن کے پاس لوگ آتے ہی آتے ہیں اور بروز جمعہ تو آنا ہی ہوتا ہے،جو عالم دین بتاتا ہے عوام ان کی باتوں کو ساتھ لے کر جاتے ہیں۔اب جیسا کہ برلن میں مسجد بنائی جاتی ہے کہا جاتا ہے کہ یہ لبرلliberal اسلام ہے،لبرل اسلام یہ اسلام کی کون سی قِسم ہے۔سید نظام الدین چشتی نے جرمن زبان میں خطاب کیا ان کا کہنا تھا کہ میلاد کی محفل ہے،حضور کا فرمان ہے کہ ایک وقت آئے گا جس میں ایک فتنے کا ظہور ہو گا اور جو شخص اس فتنہ کے قریب جائے گا یہ فتنہ اس کو دیکھے گا اور قریب آتا جائے گا اس فتنہ میں زبان درازی تلوار کے گھاوُ سے گہری ہو گی،لیکن فتنہ۔ گُنگا۔ بہرہ اور اندھا ہو گا، وہ بذات خود کوئی ایسا عمل نہیں کرے گا لیکن اس کو استعمال کرنے والے اپنے ہی بھائیوں کو نقصان پہنچائیں گے،ہو سکتا ہے نبی اکرمﷺ کا اشارہ کسی اور فتنہ کی طرف ہو مگر آج ہمارے ساتھ یہ فتنہ موجود ہے اور ہر کسی کے گھر اور جیب میں پڑا ہوتا ہے اور میرے ہاتھ میں بھی ہے یہ نہ بولتا ہے نہ دیکھتا ہے نہ سنتا ہے،ہماری سوشل میڈیا میں آپ روز مرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں کتنی زبان درازی گا لم گلوچ سب کچھ اسی موبائل پر ہو رہا ہے۔ علامہ محمد صدیق مصفطفی نے پنجابی نعت سنا کر محفل کا دل موہ لیا۔ویسبادن سے تشریف لائے اسامہ کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو اسلام علیکم کہیں تو دل سے کہیں صرف اسلام علیکم کیوں کہ ایسا سیکھا ہے تو آپ خوارج کہلائیں گے۔خصوصی خطاب حضرت مولانہ عبد الطیف چشتی الازہری کا تھا انہوں نے اسلام پر بات کرتے ہوئے ایک صحابی رسول ابو دجانہ کا ذکر فرمایا کہ وہ نماز صبح کے بعد فوراََ چلے جاتے تھے ایک بار حضور ﷺنے انہیں روک کر پوچھا کہ کیا وجہ ہے ابو دجانہ کہنے لگے میرے پڑوس میں یہودی کا گھر ہے اس کے گھر لگی کھجور کی کھجوریں رات کو میرے صحن میں گر جاتی ہیں میں بچوں کے بیدار ہونے سے پہلے جا کر ان کھجوروں کو اکٹھا کرتا ہوں اور یہودی کو دے آتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے بچے بغیر اجازت کے اس کی ایک کھجور کھا لیں ایک بار تو ایسا ہوا کہ میں گھر پہنچا تو میرا چھوٹا بچہ کھجور چبا رہا تھا میں نے انگلی ڈال کر منہ میں سے کھجور نکال لی بچہ رونے لگا،عبد اللطیف چشتی کی اتنی بات کرنی تھی کہ کئی آنکھیں اشکبار ہو گئیں، اتنا سننا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ یہودی کے پاس پہنچ گئے یہودی سے کھجور کا درخت خرید کر نبیﷺ کی خدمت میں پیش ہوئے اور فرمایا میرے پیارے نبی میرے ماں باپ آپ پر قربان میں یہ کھجور کا درخت ابو دجانہ کو پیش کرنا چاہتا ہوں، ان کا فرمانا تھا کہ لکھا ہے اس یہودی نے اپنے پورے خاندان کو اکٹھا کیا اور کہا آپ نے سنا وہ دین جو اس بات کی اجازت بھی نہیں دیتا کہ کسی کی کھجور بغیر پوچھے کھا لی جائے اس دین کا عالم کیا ہو گا وہ حضور ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کر لیا۔ حضرت مولانہ عبد الطیف چشتی الازہری نے مجمع کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہم میلاد کے مہینہ میں ہزاروں یورو خرچ کرتے ہیں محفلوں میں حاضریاں دیتے ہیں۔روتے ہیں آنسو بہاتے ہیں گریہ و زاری کرتے ہیں اثر کیوں نہیں نظر آتا۔ میں نے اپنی ان آنکھوں سے دیکھا ہے۔مساجد کے عہدہ دار مساجد کے امام۔ شراب خانوں کے مالکوں سے بھاری رقم میلاد کے نام پر وصول کرتے ہیں۔ جُوا خانوں کے مالکان کو جائے نماز پر بٹھاتے ہیں، ان لوگوں کو سٹیج کی زینت بناتے ہیں وہ مسجد میں داخل ہوتے ہیں تو کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا جاتا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ جب ہم حرام کھائیں گے اور محفل میں تشریف لانے والوں کو ان کا علم بھی نہیں ہوتا کہ کھانا حرام کی کمائی کا ہے، جوا خانوں یا شراب خانوں کی کمائی کا تو یہ ہی ہو گا۔آئیں آج وعدہ کریں کہ ایسے لوگوں سے رقمیں وصول کر کے نمازیوں اور محفلوں میں تشریف لانے والے حضرات کو نہیں کھلائیں گے تو دیکھیئے اس کا اثر ہوتا ہے کہ نہیں،محفل کے اختتام پر نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں درود و سلام کا نظرانہ پیش کیا گیا،پوری اُمت مسلمہ اورپاکستان کی خوشحالی تعمیر و ترقی اور مرنے والوں کے لئے دُعا کی گئی۔(سید حامد شاہ نے خصوصی طور پر آنے والی محفلوں کی تاریخ کااعلان کیا)بابر چشتی نے مہمانوں،میڈیا اور خصوصی طور پر عبد القدوس اور ان کے بیٹے عاطف کا دلی طور شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے میلاد پاک کے لئے ہال مہیا کیا۔مہمانوں کی تواضع پاکستانی لذیذ کھانوں سے کی گئی(مصطفی لنگر)۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے