۔،۔نوری پیکر۔:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔


تاریخ انسانی کے ہر دور میں طالبانِ حق جو اپنی جان مال عزت شہرت سب کچھ حق تعالیٰ پر قربان کر نے کو ہر لمحہ تیار رہتے ہیں‘ فطری راۃ حق کے یہ عظیم مسافر ساری زندگی اِس کو شش میں عبادت ریاضت چلہ کشی فاقہ کشی مجاہدے کر تے ہیں کہ اپنے وجود ظاہر و باطن کی برائیاں خامیاں دور کر کے خود کو اِس قابل کرسکیں کہ بارگاہ ِ الٰہی میں پیش ہو سکیں یہ نفوس قدسیہ وہ خاص مزاج فطرت شعور رکھتے ہیں وہ مستقل مزاج جنون حسن کی وجہ سے ہر کڑی سے کڑی مشکل مصیبت کو بھی صبر سے برداشت کر جاتے ہیں حق تعالیٰ کی رضا کے متلاشی یہ خاک نشین اپنے ظاہری باطنی رزائل دور کر نے کی ساری زندگی کوششیں کر تے رہتے ہیں اِن کی زندگی کا ہر لمحہ اِس کھوج میں گزرتاہے کہ وہ کونسا طریقہ عبادت ریاضت مجاہد ہ چلہ کشی خلوت گزینی کی جائے کہ خداکے خاص پسندیدہ بندوں میں شامل ہو سکیں، دنیا میں آنے والا ہر انسان اپنی ذات کا پجاری نظر آتا ہے وہ پیدائش سے قبر تک ساری زندگی خود پرستی میں ہی گزار دیتا ہے لیکن جانور نماانسانوں کے اِس ہجوم میں کہیں کہیں یہ عظیم نفوس ِ قدسیہ بھی نظر آتے ہیں جو اپنے جسم کو کڑے مجاہدوں کے ریگستان کے حوالے کر دیتے ہیں جسم کی ہر خواہش کو ٹھکرا کر نفس کے سر کش بے لگام گھوڑے کو لگام ڈالتے ہیں جبکہ عام انسان ساری زندگی اپنے مادی جسم کی دیکھ بھال میں ہی لگے رہتے ہیں مٹی کے اِس پتلے کے آرام آسائشیں عیاشی کے لیے ہر جائز ناجائز حد سے گزرجاتے ہیں لیکن متلاشیان ِ حق ہر سانس کے ساتھ جب اپنے جسم کو تزکیہ نفس کی بھٹی سے گزارتے ہیں تو پھر یہی مادی جسم مادی پیکر سے لطیف پیکر میں ڈھل جاتا ہے پھر ایسے لوگوں کی ہر سانس کر امت کا روپ دھار لیتی ہے پھر ایسے ہی بو ریا نشینوں کے بارے میں آسمانوں کا مالک فرماتا ہے اُس دن اللہ کے دوستوں کو کوئی خوف نہ ہو گا اور نہ ہی وہ کسی غم میں مبتلا ہو نگے‘ منکر ین روحانیت خدا کے اس فرمان کو روز محشر کے لیے کہتے ہیں لیکن حق تو یہ ہے کہ مالک ارض و سما پھر اپنے پسندیدہ بندوں کو اِس عارضی فانی دنیا میں بھی اکیلا نہیں چھوڑتا بلکہ ہر سانس کو کرامتوں کا ظہور بنا دیتا ہے پھر ایسے لوگوں کے بارے میں ہی تو رب تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم بندہ مومن کی آنکھ بن جاتے ہیں اُس کے ہا تھ بن جاتے ہیں پھر ایسے بوریا نشینوں کے بارے میں شاعر مشرق نے کیا خوب کہا ہے۔
جب انگارہ خاکی میں ہو تا ہے یقین پیدا
تو کرلیتا ہے یہ بال و پر روح الامین پیدا
بلاشبہ سلطان معرفت پاک پتن بابا فرید ؒ کو بھی طویل تزکیہ نفس عبادت ریاضت اور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ کی نگاہ اکسیر سے یہ لازوال مقام پا چکے تھے کہ آپ ؒ کی ہر سانس اور زبان سے نکلا لفظ بارگاہ الٰہی میں قبولیت پاتا تھا آپ ؒ جسمانی نجاستوں سے پاک ہو کر پیکر لطافت نوری وجود میں ڈھل گئے تھے پھر حضرت نظام الدین اولیاء ؒ آپ کے خلیفہ خاص فرمایا کرتے تھے کہ ایک دن میں بارگاہ مرشد میں حاضر تھا کہ آپ ؒ کی ریش مبارک سے ایک بال گر گیا میں نے فوری طور پر عقیدت میں اٹھا بال کو اٹھا یا اپنی آنکھوں سے لگایا چوما اور عرض کی میرے شہنشاہ کیا میں آپ ؒ کے بال کو تعویز بنا کر رکھ لو تو بابا جی دلگیر لہجے میں بولے اے فرزند ہاں تم رکھ لو تو میں نے عقیدت کے طور پر اپنے مرشد کا بال مبارک کو اپنی دستار میں کاغذ میں لپیٹ کر رکھ لیا کچھ وقت کے بعد جب میں اجو دھن سے دہلی پہنچا تو جب بھی کو ئی مریض لاعلاج میرے پاس آتا جس کی بیماری کی آخری درجے تک پہنچی ہو تی تو اُس کو مرشد کریم کے بال والا تعویز دیتا اور کہتا اِس کو اپنے گلے میں پہن لو لیکن جب تم صحت یاب ہو جاؤ تو پھر یہ تعویز میرے پاس واپس لے آنا یہ سلسلہ چلتا رہا بے شمار لاعلاج لا چار مریض ہر در سے مایوس ہو کر آتے اور اِس تعویز کے طفیل صحت یاب ہو تے اِسی دوران ایک دن میرا ایک دوست شدید پریشانی میں میرے پاس آیا اور بولا شیخ میرا بیٹا شدید بیمار ہے زندگی کی امید کے چراغ بھی مدہم پڑ گئے ہیں بے شمار حکیموں سے علاج کرایا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دعا کی اب ہر طرف مایوس ہو کر آپ ؒ کے پاس آیا ہوں خدا کے لیے میری مدد اور دعا فرمائیں تو میں اُس کی پریشانی دیکھ کر اندر گیا تاکہ مرشد کے بال والا تعویز اُس کو دوں لیکن اند ر مخصوص جگہ پر وہ تعویز نہیں تھا میں نے بہت تلاش کیا لیکن وہ تعویز نہ ملا تو میں نے آکر معذرت کر لی کہ ایک تعویز دینا تھا تو آج نہیں ملا تو وہ بیچارہ مایوس ہو کر چلا گیا اور پھر چند دن بعد آکر اُس نے بتا یا کہ اُس کا پیارا بیٹا وفات پا گیا تومیں نے اُس سے افسوس کیااور صبر کی تلقین بھی چند دن گزرنے کے بعد ایک اور جاننے والا شخص آیا جو تعویز کی کرامت برکت سے واقف تھا تو میں نے اظہار افسوس کیا کہ تعویز تو گم ہو گیا لیکن اُس کی تسلی کے لیے اندر جا کر دیکھا تو حیرت ہو ئی کہ تعویز وہاں پر موجود تھا میں نے خوشی خوشی تعویز پکڑا اور لاکر ضرورت مند شخص کو دیا تو اُس کی مشکل آسان ہو گئی تو مجھے خیال آیا پہلے شخص کے بیٹے کی موت اُس کے مقدر میں لکھی جا چکی تھی اِس لیے تعویز نہ مل سکا ایک طرف تو یہ عالم کہ بابا فریدؒ کے جسم کا بال لوگوں کے لیے باعث ِ شفا تھا تو دوسری طرف یہ عالم کہ خود بیمار ہو ئے مریدوں دوستوں سے صحت کے لیے دعا کراتے یہ عجز انکساری بوریا نشینوں کے ہاں ہی ملتی ہے ایک بار بابا فریدؒ شدید بیمار ہو ئے قریبی مریدوں حضرت جمال الدین ہانسوی ؒ مولانا بد ر الدین اسحاق ؒ اور حضرت نظام الدین اولیاء ؒ کو بلایا اور کہا میری صحت یابی کی دعا کرو اب دیوانے مرید عجز انکسار سے گردنیں جھکائے شرمندہ کھڑے تھے کہ مسیحا عظیم مرشد کریم ان سیاہ کاروں سے دعا کی درخواست کر رہے ہیں جس با کمال فقیر کے ظاہر و باطن سے شفا کی نورانی کرنیں ہر وقت پھوٹتی ہوں وہ مرید سے صحت کی دعا کا کہہ رہا ہے مرید گردنیں جھکائے کھڑے تھے تو بابا فریدؒ بولے تم اِسی وقت فلاں قبرستان میں جا کر میرے حق میں دعا کرو اب دیوانے مرید اُس قبرستان میں جا کر ساری رات مرشد کریم کی صحت کی دعائیں مانگتے رہے صبح جب بارگاہِ فریدی ؒ میں حاضر ہو ئے تو بابا فریدؒ ابھی درد اور بیماری میں مبتلا نظر آئے بابا فرید ؒ در د کی وجہ سے بار بار اپنے مرشد خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ کے عصا مبارک پر ہاتھ پھیر کر اپنے چہرے اور جسم پر پھیر لیتے مریدوں کو دیکھ کر فرمایا کہا کل رات تم لوگوں نے قبرستان میں جا کر میری صحت کی دعا کی تو مرید بولے شیخ ہم تو ساری رات آپ ؒ کی صحت کی دعا کر تے رہے تو باباجی بولے لیکن میری بیماری اور درد تو ویسے کی ویسا ہے تو نظام الدین ؒ بولے یا حضرت ہم سیاہ کار ناقص گناہ گار اورنامکمل ہیں ہماری دعاؤں میں وہ اثر کہاں جو آپ ؒ کی دعاؤں میں ہے تو بابا فریدؒ بولے نظام الدین ؒ میں نے تمہارے لیے خاص دعا کی تھی کہ تم حق تعالی سے جو بھی مانگو وہ اللہ تعالی فوری قبول کریں گے تم پھر دعا کرو تو حضرت نظام الدین ؒ سر جھکا کر چلے گئے اور جا کر ساری رات بابا فریدؒ اپنے مرشد کی صحت کی دعا کر تے رہے رات کے آخری پہر جاکر سکون قلب کی کیفیت نصیب ہوئی تو دل کو قرار آیا اور سو گئے صبح ہو تے ہیں غلام نظام الدین ؒ مرشد کے حضور حاضر ہواتو بابا فریدؒ کے چہرے کو پر سکون اور روشن پا یا بابا جی ؒ بو لے نظام الدین ؒ میں نے تمہارے حق میں جو دعا کی تھی وہ قبول ہو ئی اور جب تم نے میری صحت کے لیے دعا کی تو فوری قبول ہو گئی مجھے بیماری اور درد سے نجات ملی اب تمہاری دعاؤں سے زمانہ فیض پائے گا۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے