۔،۔قلم کاروان،اسلام آباد۔ڈاکٹرساجدخاکوانی ۔،۔

منگل مورخہ10دسمبر2019 بعد نماز مغرب قلم کاروان کی ادبی نشست مکان نمبر1اسٹریٹ 38،G6/2اسلام آبادمیں منعقد ہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی ادبی نشست میں ”غلام فرید نقشبندی؛ترجمان اقبال“کے عنوان سے جناب شاہد محمودقاسمی کامضمون طے تھا۔معروف ماہرتعلیم پروفیسر محمدعارف نے صدارت کی۔نشست کے آغازمیں جناب پروفیسرآفتاب حیات نے تلاوت قرآن مجیدوترجمہ پیش کیا،جناب میرافسرامان نے مطالعہ حدیث نبویﷺ،جناب عارف قادری نے علامہ اقبال کا نعتیہ کلام،اورجناب سیدعنایت اللہ شاہ نے سابقہ نشست کی کاروائی پڑھ کرسنائی۔آج کی نشست کے لیے ”مریداقبال فاؤنڈیشن“کا خصوصی تعاون حاصل تھا۔صدرمجلس کی اجازت سے جناب شاہد محمود قاسمی نے اپنے والد بزرگوار جناب غلام فرید نقشبندی پر اپنامضمون پڑھ کر سنایا،مضمون میں بتایا گیاتھا پچپن سال کی عمر میں بزرگ موصوف نے ایک غیبی اشارے کے بعدکلام اقبال پر کام شروع کیا اور اب تک پچاس کتب تصنیف کر چکے ہیں جن میں کلام اقبال کا اردو سے اردومیں منظوم ترجمہ اوراقبال کے فارسی کلام کا اردومیں منظوم ترجمہ بھی شامل ہے،انہوں نے کئی سال پہلے لکھی گئی بزرگ موصوف کی ایک تحریر سے اقتصابات بھی سنائے جن میں تحریر شدہ کئی پیشین گوئیاں پوری ہو چکی ہیں اور کئی ہنوز ابھی تشنہ تکمیل ہیں۔بعد ازمقالہ شرکاء کے اسرارپر شاہد محمود قاسمی نے بزرگ موصوف کا تفصیلی ذاتی تعارف مع مختصرحالات زندگی بھی پیش کیا۔تحریرپرتبصرہ کرتے ہوئے جناب ساجد حسین ملک نے ایک رباعی سنائی اور بزرگ موصوف سے ملاقات کااشتیاق بھی ظاہر کیا۔جناب پروفیسرآفتاب حیات نے کہاکہ ٍمقالے سے معلوم ہوتاہے کہ جناب غلام فرید نقشبندی ایک نابغہ روزگار ہستی ہیں جنہوں نے اقبال جیسی عظیم شخصیت پر اپنے قلم کو جنبش دی ہے۔جناب میرافسرامان نے کہاکہ اتنی قیمتی قیمتی ہستیاں کہاں کہاں چھپی بیٹھی ہیں اور کتنے بڑے بڑے کام کررہی ہیں،انہوں نے تجویز دی کہ قلم کاروان کے ایک وفدکو چاہیے کہ بزرگوں سے ملاقات کرنے کاقصد کرے۔جناب ظہیرگیلانی نے مقالے کی تعریف کی اور کہاکہ جناب مرید اقبال نقشبندی کو جیسا بیٹا میسرہے ایسا فرزندتو خودعلامہ اقبال کو بھی میسر نہ ہوا۔سیدعنایت اللہ شاہ نے کہا کہ بزرگ موصوف کے اقتباسات سے صاف محسوس ہوتاہے کہ وہ صرف کلام اقبال کے ترجمان نہیں ہیں بلکہ فکراقبال کی ترجمانی بھی ان کے کلام میں بدرجہ اتم موجود ہے۔جناب محمدوقارحسین نے بھی مقالے کے اسلوب کوسراہااوراپنی پسندیدگی کااظہارکیا۔اس دوران جناب عارف قادری نے اپنی خوبصورت آوازمیں کلام اقبال اور کلام ترجمان اقبال بھی ترنم سے سنایا۔معمول کے سلسلوں میں جناب شہزادعالم صدیقی نے مثنوی مولائے روم ؒپر اپنا حاصل مطالعہ پیش کیااورجناب عبدالرازق عاقل ایڈوکیٹ نے اپنی تازہ غزل نذرسامعین کی۔ صدر مجلس جناب پروفیسر عارف نے اپنے خطاب میں ترجمان اقبال سے اپنی دیرینہ وابستگی کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا،انہوں نے بتایا کہ زوال امت کے غم میں عظمت رفتہ کی بحالی میں اقبال اور ترجمان اقبال یکساں ہیں،انہوں نے بزرگ موصوف کی جو پیرانہ سالی و علالت کے باعث آج کی نشست میں آسکے تھے ان کی متعدد طبع شدہ و زیر طبع کتابوں کا تعارف و تذکرہ بھی کیا۔صدارتی خطبے کے ساتھ ہی آج کی ادبی نشست اختتام پزیرہوگئی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے