۔،۔ سلیم پرویز بٹ نے دوہری شہریت کا نام لے کر سوئی دنیا کو جگا دیا۔نذر حسین۔،۔

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔ سلیم پرویز بُٹ صدر پاکستان جرمن پریس کلب کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں۔ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں۔سلیم پرویز بُٹ کی قیادت میں ٹیم سابقہ سفیر پاکستان عزت ماآب عبدالباسط خان کے پاس گئی تھی۔میٹنگ میں ڈیڈ باڈی کا مفت پاکستان بھیجنا اور جرمنی میں پیدا ہونے والے بچوں کی دوہری شہریت اس کے علاوہ بھی کچھ چھوٹے چھوٹے مسائل تھے جن پر بات کی گئی تھی،جب ان کی انڈیا تقرری ہوئی تو انہوں نے فرینکفرٹ ویل فیئر پر ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ آپ کے مسائل حکام بالا تک پہنچا دیئے گئے ہیں۔ خنجر خاموشی،شمشیر جُو،نیزہ تنہائی اور ترک رجوع، تینوں فضیلتیں رکھنے والے سلیم پرویز بُٹ کو جب علم ہوا تو انہوں نے اعلان کر دیا کہ ہماری کوششیں رنگ لائی ہیں اس میں کون سی بڑی بات تھی ہمیں خوش ہونا چاہیئے تھا مگر جند افراد کو یہ باتیں ناگوار گزریں یہ وہ افراد ہیں جنہوں نے کبھی کسی مقام پر اس مسئلہ کو نہ ہی چھیڑا اور نہ ہی اُٹھایا،آناََ فاناََ چند اور افراد کی ویڈیو بھی منظر عام پر آ گئیں ہم سے بات کرو ہم بتائیں گے وغیرہ وغیرہ حالانکہ یہ مسئلہ کوئی مسئلہ نہیں۔ 19دسمبر 2014کو Regierungsprasidium Darmstadtنے ان تمام بچوں کو خطوط روانہ کر دیئے تھے جس کی عمریں 21ہونے کو تھیں کہ آپ کو اپنی شہریت ختم کروانے کی ضرورت نہیں آپ اپنی نیشنیلٹی رکھ سکتے ہیں۔آج اگر 3دسمبر 2019کو پاکستانی گورنمنٹ کی طرف سے ایک اطلاعnotification جاری ہوا ہے تو ہمیں خوشی ہونی چاہیئے۔ اتنی ہنگامہ آرائی۔ ہر کوئی رو رہا ہے کہ فیک خبر ہے،غلط اعلان ہے۔ وہی بات کہ فوٹو گرافر فوٹو کھینچتے ہوئے ہر بار ایک آنکھ کیوں میچ لیتا ہے۔خاموشی کا خنجر،بھوک کی تلوار اور تنہائی کا نیزہ ہمیں اپنا شیوہ بنا لینا چاہیئے اگر ہم ان تین چیزوں کو اپنا لیں تو بات اتنا آگے بڑھتی ہی نہیں۔ہم سب نہ تو زُہد ہیں نہ ہی رِندی ہیں نہ ہی ہم علم تصوفی رکھتے ہیں،نہ ہی ہر شے سے آگاہی ہونے کے علم کا تصور۔خیال ہمہ دانی رکھتے ہیں،نہ ہی ہم رشکِ کلیمِ ہَمَدانی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔نہ ہی ہمارے کلام میں اَثرِ فلسفہ جانی ہے۔ ہمیں ایسی باتوں سے گریز کرنا چاہیئے نہ جانے کب یہ ٭میں۔میں اور میں ٭ کی رَٹ ختم ہو گی۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ وہ بچے جن کے پاکستان اورجن کارڈ Pakistan Origin Card بن چکے ہیں اُن کی پاکستانی شہریت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔اس کام میں بھی سلیم پرویز بُٹ صدر پاکستان جرمن پریس کلب نے پہلا قدم اُٹھا لیا ہے اور لیٹر روانہ کر چکے ہیں کہ جن بچوں کے Pakistan Origin Card بن چکے ہیں اُن کی بھی شہریت بحال کی جائے۔ پاکستان جرمن پریس کلب کے منشور میں لکھا ہوا ہے کہ ہم پاکستانی کمیونٹی کے مسائل حکام بالا تک پہنچائیں گے اور ان کو حل کرانے میں پوری کوشش کریں گے۔ ہمیں خاک اُڑانی مقصود نہیں اور نہ ہی ہمیں کو ئی عار ہے۔ یہ کھلی بات ہے کوئی رمز نہیں ہمارے کام بے داغ ہیں یعنی کسی بھی الزام یا جرم سے پاک۔ پاکستان جرمن پریس کلب مجموعہِ اَضداد یعنی ایشی شخصیات جو متضاد ہیں سے نہیں الجھنا چاہتا۔ صحافت دفترِ حکمت ہے یعنی علم و فراست کی درسگاہ ہے نہ کہ خَفَقانی یعنی ایسی بیماری جس سے دل کی دھڑکن بڑھ جائے۔پاکستان جرمن پریس کلب مانندِ سَحر ہے لیکن چند افراد توبہ نعوذ باللہ انا الحق کا نعرہ لگاتے ہیں ہم ان کے لئے صرف دُعا کر سکتے ہیں۔ القصّہ مختصر ہم نَغز بیانی کے حامل ہیں، ہم بَحرِ خیالات بھی رکھتے ہیں،ہمارے پاس اَشک فِشانی کا ہنر بھی ہے۔ اور سرٍ تسلیم۔ ہمارے پاس سلام کے لئے جھکا ہوا سر بھی ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے