۔،۔ آرمی ترمیمی ایکٹ کی منظوری۔حکو ت اور اپوزیشن ایک پیج پر۔ ( پہلو۔صابر مغل) ۔،۔


قومی اسمبلی میں بری فوج کے سربراہ سمیت تمام مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت سے متعلق قوانین میں ترمیم کے تین بلوں کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیااس ترمیمی بل کی منظوری کے بعد وزیر اعظم پاکستان کو یہ صوابدید ی ختیار حاصل ہو گیا ہے کہ کہ وہ جس بھی فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع یا نئی تقرری کرنا چاہیں کر سکتے ہیں،وزیر دفاع پرویز خٹک نے قومی اسمبلی میں پاکستان آرمی ایکٹ 1952،پاک فضائی ایکٹ1955اور پاکستان بحریہ ایکٹ 1961 میں ترامیم کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ایوان میں پیش کئے جن کی مرحلہ وار منظوری دے دی گئی،بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر کئی جماعتوں نے ترمیمی آرمی ایکٹ کی حمایت کی جبکہ مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی ا،جماعت اسلامی اور سابق فاٹا سے تعلق رکھنے والے دو آزاد اراکین قومی اسمبلی وزیر اعلی اور محسن داوڑ نے بل کی مخالف کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ ھی کیا،مسودہ قانون کے مطابق ایسی توسیع ایک مرتبہ ہی ہو گی اور مدت ملازمت مکمل ہونے پر توسیع دینا یا دوبارہ تقرر کرنا اب وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہو گا جسے کسی بھی عدالت میں کوئی بھی فریق چیلنج نہیں کر سکے گا،اجلاس کے آغاز پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیر مین سربراہ کیپٹن (ر)امجد علی خان اجلاس میں ترمیمی بلوں سے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی،بعد ازاں وزیر دفاع پرویز خٹک نے ترمیمی بل پیش کئے پرویز خٹک کی درخواست پر پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے اپنی ترمیمی تجاویز کو واپس لے لیا،اس ترمیمی ایکٹ کو آرمی ایکٹ2020کا نام دیا گیا ہے،اس قانون سازی کی وجہ سے تینوں ن مسلح افواج کے سربراہان اور چیر میں جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کی ریٹائرمنٹ کی زیادہ سے زیادہ عمرکی حد64برس ہوجائے گی،تاہم اس عہدے میں توسیع کا استحقاق وزیر اعظم ہو حاصل ہو گیا جس کی حتمی منظوری صدر مملکت دیں گے،پیش کردہ بل کے مطابق آٓرمی ایکٹ میں دفعہ 8،اے،بی،سی،ڈی،ای اور ایف شامل کئے گئے ہیں جبکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت اور عمر کے حوالے سے دفعہ 8سی کہتی ہے کہ اس ایکٹ کے قواعد و ضوابط کے مطابق کسی جنرل کی مقررہ ریٹائرمنٹ کی عمر اور مدت ملازمت کی کم از کم عمرکا اطلاق چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی کی مدت،دوبارہ تعیناتی اورتوسیع کے دوران نہیں ہو گا اور اس کی زیادہ سے زیادہ عمر64سال ہو گی اس عرصے کے دوران چیف آف آرمی سٹاف پاک فوج مٰیں جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہیں گے،دفعہ 8اے (بی)کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف کی شرائط و ضوابط کا تعین صدر مملکت وزیر اعظم کے مشورے پر کریں گے،دفعہ 8بی (2)کے مطابق ٓس ایکٹ یا کسی اور قانون میں موجود مواد،کسی حکم یا کسی عدالت کے فیصلے،تعیناتی،دوبارہ تعیناتی توسیع،جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی یا اس سلسلے میں کسی کو تعینات کرنے کی صوابدید کو کسی بھی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا،سپریم کورٹ آف پاکستان نے20نومبر کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اگلے 6 ما ہ تک فوج کی سربراہی کی اجازت اس شرط پر دی تھی کہ حکومت اس دوران پارلیمنٹ کے ذریعے آرمی چیف کی توسیع،تعیناتی پر قانون سازی کرے گی،اس اہم اور طویل سماعت کے بعد 443صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا گیا جس پر عدالت اعظمیٰ کواٹارنی جنرل انور منصور خان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ حکومت اس دوران آرمی ایکٹ کو پارلیمنٹ کے ذریعے ہی قانون سازی کے زمرے میں لائے گی سپریم کورٹ فیصلہ مطابق پارلیمان آرمی چیف و دیگر سربراہان افواج سے متعلق قانون سازی میں یہ ترامیم کرے کہ صدر مملکت کو با اختیار بنایا جا سکے کہ وہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کی مدت ملازمت یا توسیع اور حوالے سے تمام شرائط،حدو و قیودپر عمل کر سکے،پارلیمنت سے اس ترمیمی ایکٹ کی منظوری کے حوالے سے توقع کی جا رہی تھی کہ اپوزیشن کے جارحانہ رویہ کی وجہ سے ایسی ترمیم ممکن نہیں اور حکومت قانون سازی نہ کر سکی تو کوئی نیا آرمی چیف لانا پڑے گا،حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے عمل کا نہ صرف آغاز کیا بلکہ مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت،وزیر اعظم،صدر مملکت اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے نظر ثانی درخواست بھی دائر کر دی،قومی اسمبلی میں بل پیش کرنے سے قبل وزیر دفاع پرویز ختک اور وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی پر مشتمل حکومتی وفد نے بلاول بھٹو زرداری سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی جبکہ مسلم لیگ (ن) کا بھی پارلیمانی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت خواجہ آصف اور راجہ طظفر الحق نے کی اجلاس میں رانا ثنا ء اللہ،رانا تنویر احمد،مشاہد اللہ خان،سردار ایاز خان سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی تاہم سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اس اجلاس میں شریک نہ ہوئے،بلاول بھٹو زرداری نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے کہاان کی جماعت نے آرمی ایکٹ میں ترامیم قومی اسمبلی سیکرٹریٹ مین جمع کرائی تھیں جنہیں حکومتی درخواست پر واپس لیا گیاجس میں تجاویز تھیں کہ وزیر اعظم پارلیمان کمیٹی برائے قومی سلامتی کے سامنے پیش ہو کر آرمی چیف کی مدت ملازمت یا توسیع کی وجوہات ریکارڈ کرائیں آرمی ایکت کو خفیہ نہ رکھا جائے،ان قوانین کو سامنے لایا جائے جو سپریم کورٹ نے وضع کئے تھے کیونکہ حکومتی مسودہ اس مطابق نہیں تھامسلم لیگ اپنے سیاسی بیانیے سے ہٹ کر توسیع کی تائید کرنے پر کیوں مجبور ہوئی یہ سمجھ سے باہر سے مسلم لیگ (ن) نے ہمیں اس بل کی غیر مشروط حمایت کے فیصلے سے آگاہ نہیں کیاوہ ایسا کرتے تو بہتر ہوتا اب قومی اسمبلی میں ہمارے73اراکین ہیں ؔ اور اس تعداد پر ہم اس ترمیمی بل کو فل سٹاپ نہیں لگا سکتے تھے نہ ہم اس بل کو روک سکتے تھے موجودہ جمہوری ماحول میں ہم نے وہ کیا جو کر سکتے تھے ہم نے سپورٹ کے لئے واضح کیا کہ یہ بل قائمہ کمیٹی میں جائے بغیر پاس نہیں ہو گا جو گیا یہی پارلیمان کی جیت ہے،مسلم لگی کے رہنماء خواجہ آصف نے واضح کیا کہ انہیں پارٹی کی سینئر قیادت نے ہدایت کی ہے کہ وہ اس حوالے سے ہونے والی قانون سازی کی مخالفت نہیں کریں گے اور مسلم لیگ نے ہمیشہ قیادت کی ہدایت کو ہی ترجیح دی ہے،جمعہ کے روزقومی اسمبلی اور سینٹ کی قائمہ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس ہوا،اس مشترکہ اجلاس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد،جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹرطلحہ محموداورپشتونخواہ ملکی عوامی پارٹی کے نمائندون نے بل کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے کہا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کی جائے،پارلیمنٹ میں قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا اس بل کے لئے اپوزیشن کی جانب سے کوئی ترمیم پیش نہیں کی گئی ہمیں کوئی جلدی نہیں نہ ہی ہم یہ سب کسی شخصیت کی وجہ سے کر رہے ہیں ابہام کے حوالے سے کہا کہ ایسا توسوال ہی پیدا نہیں ہوتا، حکومت جمعہ کے روز ہی اسمبلی میں آرمی ترمیمی بل پیش کرنا چاہتی تھی مگر خواجہ آصف نے سپیکر قومی اسمبلی سے درخواست کی کہ زیر حراست اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں تا کہ وہ بھی ان بلوں جیسے حساس معاملے میں رائے شماری میں حصہ لے سکیں جس پر سپیکر نے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے ہوئے اجلاس ملتوی کر دیا، اس کے علاوہ حکومت نے اسی روز دونوں ایوانوں کے اجلاس طلب کر رکھے تھے مگر جب اس جلد بازی پر اپوزیشن نے احتجاج کیا تو اجلاس ملتوی کر دئیے،مسلم لیگ (ن) آرمی ترمیمی بلوں کی غیر مشروط حمایت پر اس وقت قومی سطح پر شدید تنقید کی زدمیں ہے،تجزیہ کاروں نے اسے مسلم لیگ کی اقتدار پرستی اور سیاسی چال قرار دیتے ہوئے اسے مجبوری اور مفاد پرستی سے تعبیر کیا ہے،در حقیقت مسلم لیگ (ن) میں شروع سے ہی دو بیانئے ساتھ ساتھ چل رہے تھے سکبھی ایک حاوی ہوتا تو کبھی دوسرا پہلے پر حاوی ہو جاتامگر اس میں شدت اس وقت کم ہوئی جب میاں نواز شریف لندن سدھار گئے،سیاسی جماعتیں اپنے صولوں پر کہاں چلتی ہیں یہ سب جماعتیں اقتدار پرست ہیں اور انہیں پاکستانی ماحول میں ہونا بھی ایسا ہی چاہئے،کہاں گئی وہ خلائی مخلوق،کہاں گئے وہ سلیکٹ کرنے والے،سب ٹوپی ڈرامہ تھا جو عوام کے جذبات سے محض کھیلنے کے لئے تھا،سیاسی لیڈران مفادات میں یکجا ہو جاتے ہیں اور کارکنان آپس میں با الخصوص سوشل میڈیا پر طوفان بد تمیزی برپا کئے رکھتے ہیں،ممتاز دانشور اور تجزیہ کار عارف نظامی کے مطابق مسلم لیگ کی سیاست ہمیشہ موقع پرستانہ اور مفاد پرستانہ رہی جب ان کو سوٹ کرتا ہے توجی ٹی روڈ کا روٹ لے لیتے ہیں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لے کر مخالفین پر چڑھ دوڑتے ہیں یہ در حقیقت میاں شہباز شریف کے بیانئے کی جیت ہے جنہوں نے پہلے بڑے بھائی کو بت ادیا تھا کہ ہماری اس طرح کی اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست ناکامی سے ہی دوچار ہو گی عارف نظامی کے مطابق کچھ عرصہ قبل شہباز شریف کے بیانئے کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو کچھ مرعات بھی ملیں،بہر حال بہت بہتر ہوا ایک ایٹمی قوت کے آرمی چیف کے حوالے سے دنیا بھر میں ہماری جنگ ہنسائی جاری تھی ہمارے آرمی چیف دنیا کے اس وقت بہترین کمانڈر ہیں مگر ملک کو کھوکھلا کرنے والے محسن داوڑ جیسے اسی وجہ سے کہہ رہے تھے کہ آج کا دن سیاہ دن ہے حالانکہ تمام جماعتون کی جانب سے باہمی اتحاد کے ساتھ آرمی ایکٹ میں ترمیم کسی تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں،ملکی اور قومی مفاد میں اتحاد عالمی سطع پر بھی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے