۔،۔یوکرینی طیارے کو مار گرانے اور جھوٹ بولنے پر ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔،۔

شان پاکستان ایران تہران۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق یو کرینی طیارے کو میزائل حملے میں مار گرانے کے اعتراف کے بعد امریکا، جرمنی اور کینیڈا سمیت درجنوں ممالک میں ایران کے خلاف احتجاج اور مظاہرے شروع ہو گئے ایران میں ایک بار پھر حکومت مخالف مظاہروں کا آغاز ہو گیا جبکہ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فارسی میں ٹویٹ کرتے ہوئے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کوخراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ دنیا مظاہروں کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور ہم بہادر ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، پُرامن مظاہرین پر کریک ڈاؤن آپریشن روکا جائے، انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو مظاہرین کے خلاف کارروائی سے متعلق حقائق جاننے کے لیے رسائی دی جائے ۔مظاہروں کے دوران ہزاروں شہریوں نے سڑکوں پر آکر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور ہلاک مسافروں کی یاد میں شمعیں روش کیں۔ دارالحکومت تہران میں سڑکیں احتجاجی مظاہرین سے بھر گئیں، مظاہرین نے بینرز اُٹھا رکھے تھے جس پر صدر حسن روحانی کے استعفے اور حکومت مخالف نعرے درج تھے۔ایسی ہی ایک احتجاجی تقریب میں شرکت کرنے پر تہران میں موجود برطانیہ کے سفیر روب مکائیر کو سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لے لیا تاہم عالمی دباؤ کے پیش نظر چند گھنٹوں بعد انہیں رہا کردیا گیا۔برطانیہ سمیت عالمی قیادت نے سفیر کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ عالمی دباؤ اور مظاہرے میں شرکت سے متعلق پوچھ گچھ کے بعد سفیر کو رہا کردیا گیا۔دوسری جانب امریکی شہر لاس اینجلس میں ایرانی کمیونٹی سمیت مقامی افراد ایران میں ہونے والے مظاہروں کے حق میں اکٹھے ہوگئے، اسی طرح ٹورونٹو میں بھی عوام نے طیارے میں ہلاک ہونے والے کینیڈین شہریوں کی تصاویر کے آگے شمعیں روشن کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ جرمنی میں ایرانی عوام نے ہلاک ہونے والوں کی تصاویر کے آگے پھول رکھے اور ایرانی جھنڈے اٹھا کر احتجاج کیا۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے