۔،۔ لاہو ہائی کورٹ نے عدالت کے فیصلے کو سزائے موت سنا دی۔نذر حسین-،۔

شان پاکستان لاہور۔ 59 سالہ جسٹس سید محمدمظاہر علی اکبر نقویSayyed Muhammad Mazahar Ali Akbar Naqvi کی سربراہی میں لاہو ہائی کورٹ کے تین رکنی فُل بینچ نے خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف پرویز مشرف کی درخواست پر سماعت کی،واضح رہے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ چھ سال سے زائد چلا اس عرصہ میں پرویز مشرف ایک دفعہ عدالت میں پیش ہوئے پھر ملک سے باہر چلے گئے اس دوران خصوصی عدالت کی متعدد دفعہ تشکیل نو کی گئی اور متواتر ججز بدلتے رہے،جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس طاہرہ صفدر سمیت سات ججز نے مقدمہ سنا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے کہا کہ آئین کے تحت ایسا کیا جا سکتا ہے، آرٹیکل 6 میں آئین معطل رکھنے کا لفظ پارلیمنٹ نے شامل کیا۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ تو پھر آئین سے انحراف کیسے ہو گیا؟، آپ نے 3 لفظ شامل کر کے پورے آئین کی حیثیت کو بدل دیا، اس کے ساتھ ساتھ اپ نے ایمرجنسی کو شامل رکھا ہوا ہے۔اشتیاق احمد خان نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، گورنر پنجاب پھر چیف جسٹس پاکستان پھر صدر مملکت منظوری کے بعد نوٹیفیکیشن جاری کیا جاتا ہے، خصوصی عدالت کی تشکیل کیلئے مذکورہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا، نئی قانون سازی کے بعد جرم کی سزا ماضی سے نہیں دی جا سکتی۔جسٹس مسعود جہانگیر نے کہا کہ پھر ہم سمجھیں کہ جو پرویز مشرف کا موقف ہے وہی آپ کا موقف ہے؟۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سر میں تو ریکارڈ کے مطابق بتا رہا ہوں۔لاہور ہائی کورٹ نے جنرل (ر) پرویز مشرف کی آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کے خلاف خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی، غیر قانونی اور کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے وقت آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور خصوصی عدالت میں شکایت درج کرتے وقت قانون کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔لاہور ہائی کورٹ نے ملزم کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنانے کو بھی غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی غیر موجودگی میں ٹرائل کرنا غیر آئینی ہے۔عدالت نے فوجداری قانون خصوصی عدالت ترمیمی ایکٹ 1976ء کی دفعہ 4 کو کالعدم قرار دیتے کہا کہ آرٹیکل 6 کےتحت ترمیم کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جاسکتا۔سابق وزیراعظم نوازشریف نے 26 جون 2013 کو انکوائری کیلیے وزارت داخلہ کو خط لکھا جس پر وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جس نے16نومبر2013 کو رپورٹ جمع کرائی، لا ڈویژن کی مشاورت کے بعد13 دسمبر 2013 کو پرویز مشرف کے خلاف شکایت درج کرائی گئی جس میں ان کے خلاف سب سے سنگین جرم متعدد مواقع پر آئین معطل کرنا بتایا گیا۔پاکستان میں آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت آئین کو توڑنا اور اس کام میں مدد کرنا ریاست سے ’سنگین بغاوت‘ کا جرم ہے جس کی سزا پھانسی ہے۔ سزائے موت ایک درد ناک سزا ہے جب جج سزائے موت سناتا ہے تو جس پین سے سزائے موت پر دستخط کئے جاتے ہیں اس کی نب کو جج توڑ دیتا ہے اس لئے کہ اس فیصلہ کو دوبارہ چیلنج نہیں کیا جا سکتا، وہ پن جو کسی کی زندگی کے خاتمہ کی وجہ بنے اب وہ پن کسی اور دوسرے کام کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہیئے اس لئے اس کا توڑنا بہتر سمجھا جاتا ہے، نب توڑنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جج ایک بار کسی کو سزا موت سنا دے تو پھر کوئی بھی اس سزا کو ختم نے کر سکے اور نہ ہی فوری طور پر منسوخ کر سکے اس لئے اس پین کی نب کو توڑ دیا جاتا ہے جبکہ وہ چاہے بھی تو نہ کر سکے،سزائے موت دینے کے بعد پین کی نب کو اس لئے بھی توڑا جاتا ہے کو جج دوبارہ اس خونی پین کو دوبارہ ہاتھ میں نہ لے اپنے دیئے گئے حکم پر کبھی نادم نہ ہو کیوں کے جو جج نے کیا وہ قانون کے مطابق تھا۔ یہ رواج انڈیا میں آج بھی قائم ہے۔

 

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے