۔،۔ سابقہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ایک تصویر نے پاکستان کی موجودہ حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔نذر حسین۔،۔

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔ سابقہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ایک تصویرکا وائرل ہونا تھا کہ موجودہ پاکستانی حکومت، حکومت کے وزراء، سیاسی تجزیہ نگار، ٹی۔وی۔ اینکر، کھوکھے پر بیٹھنے والا دکاندار اور ریڑھی پر چنے اور سبزی بیچنے والا شخص اور مستری مزدور بغرضیکہ پورے پاکستان کی توجہ کا مرکز صرف ایک فوٹو بن گیا،حکومتی ایوان جو پاکستانیوں کے خون پسینے سے کمائی گئی دولت سے چلتے ہیں، ایوان میں بیٹھنے والے ایم۔پی۔اے۔ رکن صوبائی اسمبلی جن کا ٭TA-DA٭سفری الاوُنس اور روزانہ الاوُنس اس وقت سے شروع ہو جاتا ہے جب وہ گھر سے قدم باہر رکھتے ہیں، یہ لوگ امانت میں خیانت کر رہے ہیں پاکستانی عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ملک کی دولت کے ساتھ یہ سراسر نا انصافی ہے، ایک طرف پارلیمان میں پارلیمانی گفتگو کا کوئی ذکر نہیں وہاں قرآن پاک اُٹھائے جا رہے ہیں دوسری طرف ٹیلی ویثرن پروگرام میں وفاقی وزیر فوج کے زیر استعمال رہنے والا سیاہ بوٹ اُٹھا کر میز پر رکھ دیتا ہے کیا اس کو تبدیلی کہتے ہیں؟ کیا اس کے علاوہ ان افراد کا کوئی کام نہیں، اگر ان کو تنخواہیں ملتی ہیں، پا رلیمان میں اُن کے کھانے پینے،کیک پیسٹری کا اہتمام اس لئے نہیں کیا جاتا کہ وہ باتیں کر کے اور ایک دوسرے پر تہمتیں لگا کر آ جائیں وہ اگر پارلیمان میں جاتے ہیں جس کے چھت پر قرآنی آیتیں کند ہیں، وہاں پر پاکستانی عوام کی خوشحالی ان کی مشکلات، قوم کی تعمیر و ترقی کے پروگرام ترتیب دیئے جانے چاہیں،قوم کے دفاع پر بات کی جائے قانون میں بہتری کیسے لائی جائے، عوام کو کیسے سہولتیں پہنچائی جا سکتی ہیں،لگتا ہے کہ یہ حکومت اپنے پانچ سال چور ڈاکو، ریسٹورنٹ، قرآن کی قسمیں اور وفاقی وزراء فوجی بوٹ اُٹھائے گھونے میں ہی پورے کرنا چاہتے ہیں اگر اسی کو تبدیلی کہتے ہیں تو نہ جانے پانچ سال کے بعد پاکستان کی کیا حالت ہو جائے گی، ایسا لگے گا کہ اس کا کوئی والی وارث ہی نہ تھا۔اگر سابقہ وزیر اپنی فیملی کے ساتھ کھانا کھانے چلا گیا تھا تو کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے اُس کو ڈاکٹر نے بیڈ ریسٹ نہیں لکھ کر دیا کیا ان کم عقلوں کو اس بات کا احساس ہے یا پتہ ہے کہ جب تک ڈاکٹر آپ کو بیڈ ریسٹ نہیں لکھ کر دیتا تو آپ ریسٹورنٹ کیا دوسرے ملک سفر اور چھٹیوں پر سیر و سیاحت کے لئے بھی جا سکتے ہیں یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کا قانون ہے، اگر کوئی شخص کسی فیکٹری یا آفس میں ملازمت بھی کرتا ہے اور دوسرے ملک سیر و سیاحت کے لئے چلا جائے اور فیکٹری یا آفس کو ثبوت بھی مل جائے تو اسے نوکری تک سے نہیں نکالا جا سکتا یہ انٹرنیشل قانون ہے، نہ جانے یہ حکومت اور کتنے دن اس بحث پر ضائع کریں گے کہ وہ ریسٹورنٹ میں کیسے گیا کیوں گیاکیا کھایا کتنا بل دیا، اپنی عوام کے لئے وقت استعمال کرو، ملک کی تعمیر و ترقی پر توجہ دو اپنا کوئی لائحہ عمل بناوُ کہ مستقبل میں کیا کرنا ہے ملک و قوم کو کیسے آگے لے کر چلنا ہے۔ پارلیمان اور وزراء جو گورنمنٹ آف پاکستان سے تنخواہیں لے رہے ہیں اس کا حساب ہو گا اگر جس مطلب کے لئے تنخواہیں لی جا رہی ہیں وہ کام نہیں ہو رہا تو، کفریات سے توبہ کر کے مسلمان ہو جاو، آپ لوگ امانت میں خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں،آئندہ کے لئے اپنی حالت درست کر لو حق تعالی تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔
باز آ باز آ آنچہ کردی باز آ۔ گر کافر و گبروبت پرستی باز آ
ایں درگہ مادر گہ نو میدی نیست۔ صد بار اگر توبہ شکستی باز آ
عہد و پیمان اور معاہدات کو محض کچے دھاگے کی طرح سمجھ لینا جب چاہا کاتا جب چاہا انگلیوں کی ادنی حرکت سے بہ تکلف توڑ ڈالاسخت نا عاقبت اندیشی اور دیوانگی ہے بات کا اعتبار نہ رہے تو دنیا کا نظام مختل ہو جائے گا۔ یو ٹرن پر فخر کرنے والو یہ بھی سمجھ لو قول و قرار کی پابندی ہی سے ترازو سیدھی رہ سکتی ہے، جو قومیں قانون عدل و انصاف سے ہٹ کر محض اغراض و خواہشات کی پوجا کرنے لگتی ہیں ان کے یہاں معاہدات صرف توڑنے کے لئے رہ جاتے ہیں جہاں معاہد قوم کو اپنے سے کمزور دیکھا، سارے معاہدات ردی کی ٹوکری میں پھینک دیئے، یعنی معاہدوں اور قسموں کو فریب و دغا مکاری اور حیلہ سازی کا آلہ مت بناوُ، یہ اہل جاہلیت کی عادت تھی، جب آسمان سے بارش اترتی ہے تو ندی نالے بہہ پڑتے ہیں، ہر نالے میں اس کے ظرف اور گنجائش کی موافق جتنا خدا نے چاہا پانی جاری کر دیا،چھوٹے میں کم بڑے میں زیادہ پانی جب زمین پر رواں ہوا تو مٹی اور کوڑا کرکٹ ملنے سے گدلا ہو گیا، پھر میل کچیل اور جھاگ پھول کر اُپر آیا، جیسے تیز آگ میں چاندی، تانبا، لوہا اور دوسری معدنیات پگھلاتے ہیں تا کہ زیور، برتن اور ہتھیار وغیرہ تیار کریں اُس میں بھی اِسی طرح جھاگ اُٹھتا ہے مگر تھوڑی دیر خشک یا منتشر ہو کر جھاگ جاتا رہتا ہے جو اصلی کار آمد چیز تھی (یعنی پانی یا پگھلی ہوئی معدنیات) وہ ہی زمین پر یا زمین والوں کے ہاتھ میں باقی رہ جاتی ہے جس سے مختلف طور پر لوگ منتفع ہوتے ہیں یہ ہی مثال حق و باطل کی سمجھ لو۔ یہ اُبال عارضی اور بے بنیاد ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے