۔،۔قلم کاروان،اسلام آباد۔کاروائی ہفت روزہ ادبی نشست۔،۔

منگل مورخہ14جنوری2019 بعد نماز مغرب قلم کاروان کی ادبی نشست مکان نمبر1اسٹریٹ 38،G6/2اسلام آبادمیں منعقد ہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی ادبی نشست میں ”حیات عمرانیہ کی تفہیم کے عقلی و تجربی پیرائے“کے عنوان سے جناب اکرم الوری کامضمون طے تھا۔معروف صحافی،کالم نگار،دانشور اوربزم شوری پاکستان کے صدرنشین جناب سلطان محمود شاہین نے صدارت کی۔نشست کے آغازمیں جناب شہزادصدیقی نے تلاوت قرآن مجید،جناب احمدمحمودالزماں نے کلام شاعربزبان شاعرکے مصداق نعت رسول مقبول بحضور سرورکونین ﷺ اورجناب شہزادمنیراحمدنے مطالعہ حدیث نبویﷺ پیش کیا۔صدرمجلس کی اجازت سے جناب اکرم الوری نے اپنا مضمون پیش کیا،مضمون میں عمرانی معاہدات کاذکرکرتے ہوئے فاضل مضمون نگارنے کہاکہ اسلامی نظام عمرانیات میں کسی اشرافیہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے،انہوں نے کہاکہ ملوکیت میں اشرافیہ مطلق العنان بن کر عوام کااستحصال کرتی ہے اورجمہوریت میں اشرافیہ کاطبقہ اپنے دوحصے کر کے نوراکشتی میں عوام کو بطورایندھن کے استعمال کرتاہے۔فاضل مضمون نگار نے بڑی تفصیل سے انسانی تاریخ اور حالات حاضرہ سے اپنے موقف کے حق میں دلائل پیش کیے۔ڈاکٹرساجدخاکوانی،شہزادمنیراحمداورعبدالرازق عاقل نے سوالات بھی کیے جس کے جواب میں فاضل مصنف نے قرآن کی آیات پڑھ کر دلائل دیے۔تبصرہ کرتے ہوئے شیخ عبدالرازق عاقل نے کہاکہ ایڈم سمتھ اورروسوکے نظریات کے مطابق معاشرے میں اشرافیہ کاوجود ضروری اور فطری ہوتاہے۔جناب عطاالرحمن چوہان نے تبصرہ کرتے ہوئے صاحب مضمون کے موقف کی تائید کی اور کہاکہ اشرافیہ نے ہمیشہ معاشروں کوبدراہ کیاہے۔ڈاکٹرساجدخاکوانی نے کہاکہ اسلامی نظام سیاست میں قیادت اپناطبقہ تبدیل نہیں کرتی اور وسائل و اختیارات کے باوجود فقروسادگی میں گزربسرکرتی ہے جس کے باعث اشرافیہ کاطبقہ جنم ہی نہیں لے سکتا۔جناب خالد حسن نے کہا کچھ دیرپہلے برطانیہ کو فلاحی ریاست کہاگیاجب کہ اس وقت چھراگھونپنے کے بکثرت واقعات اس ملک میں رونما ہورہے ہیں،انہوں نے کہا امریکہ کے آئین کا 80%میثاق مدینہ کی ذیلی دفعات پر مشتمل ہے اور روسی قانون وراثت اسلام سے مستعارہے۔جناب ساجد حسین ملک نے کہا کہ ہرتہذیب میں اشرافیہ نے ہمیشہ انسان دشمن رویے روارکھے ہیں۔تبصروں کے بعدنشست میں موجودشعراکرام، جناب عبدالرازق عاقل،جناب شہزادمنیراور صدرمجلس جناب سلطان محمود شاہین اور حلقہ ارباب ذوق کے سابق معمد جناب سیدمظہرمسعود نے اپناپنا کلام نذرسامعین کیااوردادوصول کی۔معمول کے سلسلوں میں جناب شہزادعالم صدیقی نے مثنوی مولائے روم ؒپر اپنا حاصل مطالعہ بھی پیش کیا۔صدر مجلس جناب سلطان محمود شاہین نے اپنے صدارتی خطبے میں پیش کیے گئے مقالے کی بے حد تعریف کی اور کہاکہ اس طرح کے مضامین جامعات کی سطح پر طلبہ و طالبات کے سامنے پیش کرنے چاہیں تاکہ نوجوان نسل کی ذہنی بالیدگی ہو سکے۔انہوں نے کہا دورغلامی کے بعد اب نئے عمرانی معاہدے کی ازحدضرورت ہے اور یہ معاہدہ قرآن و سنت کی روشنی میں تیارکیاجائے تاکہ دورغلامی کی باقی ماندہ اشرافیہ کا امت مسلمہ کے معاشروں سے سدباب ہوسکے۔صدارتی خطبے کے بعدجناب خالد حسن کے بھانجے کے لیے دعائے فاتحہ پڑھی گئی اوراس کے ساتھ ہی آج کی ادبی نشست اختتام پزیرہوگئی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے