۔،۔ بدحال عوام،پانچ کلو آٹا اور صحافی۔ ( پہلو۔صابر مغل ) ۔،۔

اس ریاست اسلامی میں عوام روزی،روٹی کی خاطر بلکی رہے ہیں،ترس رہے ہیں،پچھلی حکومتوں کا رونا روتے روتے ان کا تباہی و بربرادی کا مزید سامان آئے روز تیار ہوتا ہے،اس ملک،اس ریاست کی غریب عوام کی ہمیشہ سے یہی بد قسمتی رہی ہے کہ یہاں جو بھی آیا ان کا مسیحا بن کر آ یا مگر درندگی،بد عنوانی اور کرپشن میں لتھڑے چہرے ہی اسی نے قوم پر مسلط کر دئیے،ایسے بد بودار رکدار ہر حاکم وقت کے چرنوں میں بیٹھ کر عوام کی ہڈیوں سے گودا نکالنے کا فن انتہائی خوبی سے جانتے ہیں اور خوشامد تو کیا اس کا قطرہ قطرہ بھی پتھر سے پتھر دل یا حقیقی پتھر میں سوراخ کر دیتی ہے،ہمارے پیارے وزیر اعظم کی اقتدار میں آنے کے بعد بھی جیسے دنیا ہی بدل گئی وہ بات کرپشن کی کرتا ہے مگر جن پر کرپشن کا الزام ہے وہ لندن کے ہوٹلوں میں گھوم پھر رہے ہیں،نظام عدل،پراسیکیوشن نظام کو بہتر بنانے کی بجائے الٹا نیب کو ہی لگام ڈال دی گئی (نیب کے حوالے سے الگ لکھا جائے گا کہ وہاں کیا کیا ہوتا ہے)،گذشتہ دنوں گھر کے قریب بچوں کی روزی روٹی کی خاطر کھوکھا لگانے والا ملا اس نے بجلی کا بل دکھایا تو میرے حیرانگی کی انتہا نہ رہی صرف پچاس یونٹ کے بل پر 8 سو روپے فیول چاجز کی مد میں ڈالے گئے تھے،اسے بتایا کہ تم سچے ہو مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم بہت بد قسمت ہیں ملک بھر میں اعلیٰ عہدوں پر براجمان نا اہل،نکموں،عوام دشمنوں،ملک کو کھلواڑ سمجھنے والوں اور ان کے زیر سایہ ہونے والی تمام کمینگی اور بے غیرتی کے بل ہمیں ہی ادا کرنے ہیں،عمران خان ٹھیک تھا اور ہے مگر اس کو ملنے والے ٹولے کی اکثریت مفاد پرست اور اقتدار پرست ہے،ماہ نومبر میں حکومت نے عوام سے وعدہ کیا کہ انہیں اشیائے صرف میں ریلیف دیا جائے گا اسی بنا پر عمران خان نے ملک بھر میں پھیلے 5939یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے آٹا،گھی،چینی سمیت 50اشیاء پر سبسڈی دی گئی،یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن ایک بہت بڑا ادارہ ہے جسے ملک بھر میں 63ریجن اور9زونز میں تقسیم کیا گیا جبکہ اس میں ملازمین کی تعداد 15ہزار کے قریب ہے،ماضی کی حکومتوں نے بھی یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے اشیاء کی قیمتوں میں انتہائی کمی کی یہی وجہ بنی کہ ایک جانب مہنگائی کی ماری عوام سستی چیزوں کے حصول کے لئے لائنوں میں لگی نظر آتی دوسری جانب سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہونے والے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ٹاؤٹوں نے جی بھر کر عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالا یہی ٹاؤٹی کرنے والے کنگلے دیکھتے ہی دیکھتے لکھ پتی بن گئے تمام ملازمین ایسے نہ تھے کئی آج بھی اسی ڈگر پر اپنی روزی میں لگے ملازمت کر رہے ہیں اور لوٹنے والوں نے تو اس محکمہ کو ہی خیر باد کہہ دیا،عوام کو جیسے ہی خبر ملی کہ یوٹیلٹی سٹورز پر ریلیف دیا جا رہا ہے وہیں خبیث ٹولہ بھی میدان میں نکل کھڑا ہوا،صوبہ سندھ کے ضلع بدین میں ایک نجی ٹی وی کے رپورٹر نے خبر دی کہ وہ سرکاری مہر لگا گھی کا پیکٹ بازار سے خرید کر لایا ہے جیسے ہی اس رپورٹر نے مفاد پرست ٹولے کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا بات وزیر اعظم ہاؤس تک جا پہنچی،تب اس محکمہ کے ایم ڈی محمد عمر لودھی نے آڈیوپیغام کے ذریعے اپنے ماتحت زونل اور ریجنل افسران کو کہتے ہیں تم کس بات کی لاکھوں روپے تنخواہ لیتے ہو اتنا عرصہ نوکری کی تمہیں ابھی تک یہ علم نہیں ہو سکا کہ صحافیوں کو کیسے قابو یا ہینڈل کیا جاتا ہے یہ لوگ تو پانچ کلو آٹا یا چینی کی مار ہوتے ہیں اس کے علاوہ بھی ان (صحافیوں) کو کنٹرول کرنے کے 10ہزار طریقے ہیں آئندہ اگر تم نے اس بات کو کنٹرول نہ کیا تو سمجھو تمہاری چھٹی،تمہاری وجہ سے بات وزیر اعظم ہاؤس تک جا پہنچی اور مجھ سے پوچھا جا رہا ہے،ذرا تصور کریں جہاں اس نوعیت کے کالے کرتوتوں والے اور وہ بھی ایسے محکموں جن کا براہ راست تعلق عوامی مفاد سے وابستہ ہوکر خود چور بازاری کی ترغیب میں مصروف ہوں تو وہاں بہتری کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے ایسے بے ادب شخص کو کس نے حق دیا ہے کہ ملک بھر میں عوام کو پل پل کی خبریں دینے والوں کے خالف ہرزہ سرائی کی انتہا کر دیں، غلطی کسی اور کی نہیں خود عمران خان کی ہے جنہوں نے چن چن کر نگینے اپنی حکومت میں چنے ہیں جو خوبصورتی اور بہتری کے لئے نہیں بلکہ بد صورتی اورگہرائی کا موجب ہیں،عوام تڑپ رہی ہے،مر رہی ہے،بھوک،ننگ اور افلاس سے نیم مردہ ہو چکی ہے لوگوں کی آسوں امیدوں پر اوس پڑ چکی ہے اس کے باوجود وہ صبر کئے بیٹھے ہیں شاید ماضی کے بر عکس ان کی زندگی میں بھی کچھ شادمانی لوٹ آئے،ان کے چہروں پر شادابی آ جائے مہنگائی کے عذاب سے انہیں چھٹکارا حاصل ہو جائے ان کی محرومیاں فناہ ہو جائیں وہ اذیت ناک گرداب سے نکل سکیں،ان کی اسلامی ریاست سے لوٹ مار،اقربا پروری،کرپشن اور بد عنوانی کا خاتمہ ہو،پاکستان حقیقی معنوں میں ترقی کی منازل طے کر جائے مگر کیسے؟ وزیر اعظم عمران خان کسی بہتر عوامی و فلاحی پروگرام کا اعلان کرتا ہے ایسے کردار اس کا سوا ستیا ناس کر دیتے ہیں، رہتے وہ پھر بھی پر تعیش عہدوں پر ہیں،عمران خان سادگی کی مہم اپناتا ہے یہ لوٹ مار کا بازار گرم کر دیتے ہیں،نت نئی اور عوام دشمن پپالیسیاں رائج کرانے میں یہ دن رات ایک کئے ہوئے ہیں،گذشتہ دنوں موٹر ویز پر ایک دم جرمانوں کو کئی صد بڑھا دیا گیا تو ملک بھر میں ٹریفک جام ہو گئی ایک ہی دن میں جہاں عوام کو اذیت کا سامنا کرنا پڑا وہیں وہیں معیشت کو بھی کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگ گیا،الراقم کے دوست راجہ وحید محفوظ اور بھائی حاجی محمد اسلم کے ہمراہ پنڈی ایک شادی میں بیٹھے اسی موضوع پر بات ہوئی تو راجہ وحید جن کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے ہی ہے بولے جرمانوں میں یوں اضافہ کرنے والوں نے یقیناً وزیر اعظم کو بریف کیا ہو گا کہ جرمانوں کی مد میں حاصل ہونے والی رقم سے ہی غیر ملکی قرضے ادا کئے جا سکتے ہیں ان کی اس بات پر ایک قہقہ بلند ہوا،اگر حکومت کے موجودہ منظر میں دیکھا جائے تو ایسی مشاورت دینے والوں نے ہی وزیر اعظم کو چاروں اطراف سے گھیر رکھا ہے اور بری طرح گھیر رکھا ہے،لاہور میں ایک ٹریفک وارڈن نے لاہور پریس کلب کے صدرراشد انصاری کے ساتھ بد تمیزی کی توملک بھر سے مذمتی بیان جاری ہوئے،ہونے بھی چاہئیں تھے مگر یہ واقعہ اس سے بھی بڑا ہے جس نے پوری پاکستانی صحافی برادری کو 5کلو آٹے میں تول دیا، ریجنل یومین جرنلسٹس پنجاب کے مرکزی صدر سید شفْقت حسین گیلانی،صوبائی صدر ڈاکٹر محمد زکریا اور سیکرٹری جنرل عابد مغل نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے،صحافیوں کے حوالے سے اس گھٹیا حرکت اور بد زبانی پر پوری صحافی برادری کی خاموشی مناسب نہیں جہاں عزت کا معاملہ ہو وہاں مصلحتوں کا بسیرا تباہ کن اور شرمناک ہوتا ہے،وزیر اعطم پاکستان اور ان کی وہ ٹیم جو وطن عظیم کو ایک نئے ویژن کے تحت کرنا چاہتی تھی کو اپنی اس پالیسی پر از سر نو نظر ثانی کرنا ہو گی ورنہ نئے پاکستان کے دعویدار وں اور پرانے حکمرانوں میں کچھ فرق نہیں ہو گا جس کا نقصان پہلے بھی عوام کو پہنچا اب بھی عوام کو ہی پہنچے گا۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے