۔،۔ کامیابی کی کلید ۔طا رق حسین بٹ شانؔ ۔،۔

پاکستان ترقی کی۱ٍ بجائے تنزلی کی جانب محوِ سفر ہے اور عالمی رینکنگ میں اس کی تنزلی مزید گرتی جا رہی ہے جس کی گواہی عالمی سروے بھی دے رہے ہیں۔بے روزگاری، مہنگائی اور ڈکیٹیاں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان پچھلی کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے جس سے اس کی معاشی ترقی کو سخت زک پہنچی ہے۔پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی دونوں حکومتوں کو دہشت گردی پر اربوں ڈالر خر چ کرنے پڑے تھے کیونکہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی پی ٹی) نے جس طرح دہشت گردی کو ہوا دے رکھی تھی اس سے پاکستان کے درو دیوار لرز اٹھے تھے۔پاک فوج کی شہادتوں اور عوام کی قربانیوں نے دہشت گردی کے اس طوفان کے سامنے بند ھ باندھے تو تب کہیں جا کر پاکستان کو امن نصیب ہوا۔امن کا یہ سلسہ اپنے ثمرات دینے کیلئے حرکت میں آنے ہی والا تھا کہ ہمارے پڑوس میں ایران امریکہ تنازعہ نے ایک دفعہ پھر دہشت گردی کے امکانا ت کو تیز تر کر دیا ہے۔بلوچستان میں حالیہ دھما کے اسی کا پرتو ہیں۔ ایران امریکہ تنازعہ کیا صورت اختیار کرے گا ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے لیکن اتنا بہر حال واضح ہے کہ ایک طویل اور صبر آزما جنگ کا آغاز ہونے جا رہا ہے جس میں پاکستان کے خلاف بھی گھیرا تنگ ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہمیشہ سے امریکی نگاہوں میں کھٹکتا رہتا ہے اور وہ حیلے بہانو ں سے پاکستان کو کمزور کرنے اور عدمِ استحکام سے ہمکنار کرنے کیلئے سازشیں رچائے رکھتا ہے۔ایران امریکہ تنازعہ بھی اسی کا شاخسانہ ہے۔پوری قوم عمران خان سے اپوزیشن کو زنجیروں میں جکڑنے کی بجائے قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی امید یں سجائے ہوئے ہے تا کہ پاکستان کو محفوظ بنایا جا سکے لیکن وہ اپنی ہی انتقامی سیاست کی روش کے اسیر ہیں۔وطنِ عزیز کی حفاظت اور سلامتی سب باتوں سے زیادہ اہم ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ساری سیاسی جماعتیں باہم متحد ہو کر نئے اٹھنے والے طوفان کا سامنا کریں اور ملکی وحدت اور استحکام کو یقینی بنائیں۔،۔ قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ کی منظوری جس بات کی نشاندی کر رہی ہے وہ یہی ہے کہ پاکستان کی ساری جماعتیں اپنی فوج کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) تو عسکری قیادت کو ایکسٹینشن (توسیع) دینے کے حق میں نہیں تھی لیکن اس کے باوجود بھی اس نے اس بل کی حمائت کی تو اس کا واحد مقصد فوج سے اظہارِ یکجہتی تھا جسے صحیح تناظر میں سمجھا نہیں گیا۔اس کے کارکنوں میں اشتعال پایا جاتا ہے۔بات یہ نہیں کہ وہ اپنی فوج سے محبت نہیں کرتے بلکہ اصلی بات یہ ہے کہ وہ جمہوریت میں کسی جبر اور ملاوٹ کو پسند نہیں کرتے۔وہ جمہوریت کو بیرونی دباؤ کے بغیر پھلتا پھولتا دیکھنے کے متمنی ہیں۔ بیرونی دباؤ نے جس طرح پاکستانی سیاست کوآ لودہ کیا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ذولفقار علی بھٹو،بے نظیر بھٹو،حسین شہید سہر وردی،میاں محمد نواز شریف اور کئی دوسرے سیای زعماء اسی جبر کا نشانہ بنے ہیں جسے عوام نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔باعثِ حیرت تو یہ ہے کہ ووٹ کو عزت دو کے نعرے کے علمبردار وں کے ہونٹوں پر چپ کی مہر لگی ہوئی ہے۔وہ اپنے فیصلہ کا مناسب دفاع کرنے سے قاصر نظر آ رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام آرمی ایکٹ کی منظوری کوڈیل کا نام دے رہے ہیں۔میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز نے جمہوری سوچ کے حامل لوگوں کو اپنے پر اثر بیانیہ کی وجہ سے اپنی جانب متوجہ کیاتھا۔انھوں نے حقیقی جمہوریت کیلئے عوام کو اپنی قربانیوں سے اس بات کا یقین دلایا تھا کہ وہ عوامی مینڈیت کی حرمت کی خاطر کسی مصلحت کو اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیں گے لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا کہ وہ اپنے ہی بیانیہ سے منحرف ہو گے او ر آرمی ایکٹ کی غیر مشروط حمائت کا اعلان کر کے اپنی ساری جدو جہد پر پانی پھیر لیا۔اگر ایسا کرنا ضروری تھا تو بہتر تھا دوسری اپوزیشن جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جاتا۔ ا یکسٹینشن پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے اسمبلی کو اس کا مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ جو بل چاہے منظور کرے لیکن وہ جھنوں نے اپنے دورِ حکو مت میں کسی جنرل کو ا یکسٹینشن نہیں دی ان کا ایکسٹینشن پر بلا چون و چرا مان جانا کسی ڈیل کا تاثر پیدا کر رہا ہے۔اللہ تعالی کی حاکمیت ے علاوہ کسی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا کسی بھی پہلو سے قابلِ فخر نہیں ہوتا۔لیکن ایسا ہوا ہے جس نے عوام کے اذہان میں شکو ک و شبہات پیدا کردئے ہیں۔پی پی پی نے جمہوریت کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔اس کی تاریخ قربانیوں کی ایک ایسی دلکش داستان ہے جس پر ہر جمہوریت نواز فخر کر سکتا ہے۔پی پی پی نے اپنے دورِ حکومت میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ا یکسٹینشن دی لہذا ان کا اس قانون کی منظوری کی حامی بھرنا پھر بھی کچھ کچھ سمجھ میں آتا ہے حالانکہ اصولی لحاظ سے یہ پی پی پی کے فلسفہ اور نظریات سے تال میل نہیں رکھتا جس سے اس کے کارکنوں میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔لیکن وہ جو (مجھے کیوں نکالا) کی رٹ لگائے ہو ئے تھے اور فضاؤں میں ووٹ کو عزت دو کے نعروں سے ارتعاش پیدا کئے ہوئے تھے ان کے ہونٹ کیوں سلے ہوئے ہیں؟ان کا بیانیہ اور نعرہ کیوں بکھر کر رہگیا ہے؟ عوام میاں محمد شہباز شریف اور میاں محمد نواز شریف کے بیانیہ میں واضح فرق کو خوب محسوس کر رہے ہیں۔ اگر چہ دونوں اندر سے ایک ہیں لیکن حالات کی مطابقت سے اندر باہر ہوتے رہتے ہیں۔دونوں اپنے نظریات کے لحاظ سے ایک دوسرے کے مدِ مقابل نظر آتے ہیں حالانکہ وہ مدِ مقابل نہیں ہیں بلکہ یکمشت ہیں۔ان کے مصنوعی اختلاف کا واحد مقصد سودابا زی کی قوت کو بڑھانا مقصود ہوتاہے۔مفادات کی جنگ میں یہ ایک اچھوتا انداز ہے جو انھیں ریلیف دے رہا ہے۔ ایک اسٹیبلشمنٹ سے راہ و رسم کو کامیابی کی کلید تصور کرتا ہے جبکہ دوسرا عوامی طاقت سے تاج و تخت الٹ دینے کا بیانیہ اپنانے پر مصر ہے۔ کس وقت کس جانب لڑھک جانا ہے اس کے مطابق بیانیہ تراش لیا جاتا ہے۔کبھی بڑھکیں ماری جاتی ہیں اور کبھی خا مشی کی چادر تان لی جاتی ہے تا کہ زور آور حلقے رام ہو جائیں۔ اب چونکہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرنا مقصود تھا اس لئے میاں محمد شہباز شریف کو سامنے کر دیا گیا ہے۔ جب اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ بڑھانا مقصود ہوگا تو پھر میاں محمد نواز شریف سامنے آجائیں گے اور مریم نواز اپنی خاموشی توڑ کر ٹویٹ پر ٹویٹ کرتی جائیں گی۔ مسلم لیگ (ن) کی اس دو رخی نے عوام کو مایوس کیا ہے۔عوام کو تو اس بات کا یقین دلایا گیا تھا کہ جمہوریت ہر قسم کی ملاوٹ سے مبرا ہو گی لیکن وقت پڑنے پر سجدہ سہو ادا کر دیا گیا۔ چند دن قبل ٹی وی شو میں وفاقی وزیر فیصل واڈھا نے آرمی بوٹ دکھا کر جس طرح ہیجان پیدا کیا اس نے جمہوریت پر کئی سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔فیصل واڈھا نے جس طرح کی زبان استعمال کی وہ ایک وفاقی وزیر کے شایانِ شان نہیں تھی۔انھیں اپوزیشن پر تنقید کا پورا حق حاصل ہے، انھیں اپنی سیاسی بساط پر مہرے سجانے کا مکمل حق حاصل ہے، انھیں مخالفین پر زہر آلود شمشیریں سونتنے کا بھی حق ہے لیکن انھیں کسی ادارے کو متنازعہ بنانے کا قطعا کوئی حق حا صل نہیں ہے۔پاک فوج ہمارے وجود کا حصہ ہے اور اپنی فوج کی خاطر پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہونے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ اسی فوج کو جس طرح متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی اس پر پوری قوم میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔جنرل پرویز مشرف کے دیرینہ ساتھی کی زبان سے پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) پر بوٹوں کو چمکانے والی پھبتی کسناانتہائی بھونڈا انداز تھا لہذاالٹی پڑ گئی۔کچھ باتیں پردوں میں اچھی لگتی ہیں جھنیں برملا نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ایسا کرنے سے عزت و حرمت ملیا میٹ ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔فیصل واڈھا نے جو طریقہ اپنایا ہے اس کا کسی بھی پہلو سے دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ووٹ کو عزت دو کے بیانیہ کا اعلان اور پھر اس پر خاموشی پر تو تنقید کی جا سکتی ہے لیکن آرمی ایکٹ کے حق میں ووٹ دینے کو بوٹوں کے چومنے سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی۔،۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے