۔،۔ بنگالی ٹائیگرز اور پاکستانی شاہین آمنے سامنے۔ ( پہلو ۔صابر مغل ) ۔،۔

کبھی ہاں کبھی ناں کے بعد بالآخر بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم آج پاکستان پہنچ رہی ہے جو کل سے لاہور کے تاریخی قذافی سٹیڈیم میں تین T20میچ کھیلے گی تینوں میچ موسم کی وجہ سے دن 2شروع ہوا کریں گے ان میں سے کوئی بھی میچ ڈے اینڈنائٹ نہیں،بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان دو مرحلوں پر مشتمل ہے جس میں پہلے تین T20اور راولپنڈی میں ایک ٹیسٹ میچ جس کے بعد دنیا میں انتہائی شہرت یافتہ پاکستان پی ایس ایل کے بعد بنگالی ٹائیگرز دوبارہ پاکستان آئیں تب نیشنل سٹیڈیم کراچی میں دو ون ڈے اور ایک ٹیسٹ میچ ہو گا شیڈول کے مطابق 24،25اور27کو لاہور میں 3ٹی ٹونٹی دونوں ٹیموں کے مابین پہلا ٹیسٹ میچ 7سے 11فروری تک راولپنڈی میں کھیلے گی،20فروری کو پی ایس ایل5کا آغاز ہو گا جس کے اختتام پر بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم اپریل میں پاکستان پہنچے گی ور نیشنل سٹیڈیم کراچی میں ایک ون ڈے اور ایک ہی ٹیسٹ میچ 5تا 9کھیلا جائے گامہمان ٹیم کی فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات مکمل،سٹیڈیم میں نئی پچوں کی تیاری اور تزئین و آرائش کا کام مکمل،اضافی گھاس کاٹ دی گئی،چیر میں باکس،پیٹرنز انکلوژرز،میڈیا سنٹر سب صفائی ستھرائی مکمل کی جا چکی ہے،بنگلہ دیش ٹیم آج پاکستان آنے کے بعد ہی سٹیڈیم پہنچ کر پریکٹس کرے گی دونوں ٹیموں کے کپتان میڈیا ٹاک بھی کریں گے،بنگلہ دیشی ٹیم کے دورہ پاکستان انتہائی مذبذب کا شکار رہا تاہم بے یقینی کے یہ بادل اس وقت چھٹے جب14جنوری کو دونوں ممالک کے درمیان سیریز کے انعقاد کا باقاعدہ معاہدہ طے ہوا یہ سیریز فیوچر ٹور پروگرام کا حصہ و گی،پی سی بی کے چیرمین احسان مانی اور چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ساتھ بات چیت کے بعد راضی کیا جس میں ICCکے چیرمین شنانک منوہر نے دونوں بورڈز کے اعلیٰ عہدیداران سے ملاقات کے دوران بنگلہ دیش پر دورہ پاکستان کے لئے دباؤ استعمال کیاتب رضامندی کے بعد از سر نو شیڈول مرتب کیا گیا،اس سے قبل سیریز کے انعقاد سے متعلق کئی مرتبہ رابطے ہوئے مگر سبھی لا حاصل،مگر ان ملاقاتوں میں پاکستان نے واضح کر دیا تھاکہ پاکستان اپنے تمام میچز اپنے ہی گراؤنڈز میں کرے گاکوئی بھی نیوٹرل مقام قابل قبول نہیں،سیریز کے انعقاد کو اس وقت ناممکن سمجھا جانے لگا جب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ اعظم الحسن نے بیان دیا کہ حکومت نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی صورتحال کے سبب ٹیم کو دورہ پاکستان کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا ہے، بنگلہ دیش کرکٹ سلیکشن کمیٹی نے Tٹونٹی سیریز کے لئے محمد محمود اللہ کی سربراہی میں اسکواڈ تشکیل دیا ہے جس میں باقی کھلاڑی تمیم اقبال،سومیا سرکار،محمد نعیم،نجم الحسن شانتو،لسن داس،محمد متھن،عفیف حسین،مہدی حسن،امین الا السلام،شفیع الا اسلام،الامین حسین اور حسن محمود شامل ہیں ان کے مد مقابل پاکستانی اسکواڈمیں بابر اعظم کپتان،احسن علی،عماد بٹ،حارث رؤف،افتخار احمد،عماد وسیم،خوشدل شاہ،شعیب ملک،محمد حفیظ،محمد حسنین،محمد رضوان،موسیٰ خان،شاداب خان،شاہین شاہ آفریدی اور عثمان قادر شامل ہیں،بنگلہ دیش نے بھارت کے خلاف گذشتہ سال 1۔2سے سییریز ہارنے والی ٹیم میں متعدد تبدیلیاں کرتے ہوئے حیدر،عرفات سنی جونئیر،مصدق حسین اور تسبیح الاسلام ڈراپ،ایک سال سے ٹیم سے آؤٹ تمیم اقبال ٹیم کا حصہ بن گئے، آف سپنر مہدی حسن اور بلے بازنجم الحسن کو اسکواڈ میں شامل کیا گیابنگلہ دیش کے تجربہ کار وکٹ کیپر بلے باز مستفیض الرحمان سمیت ٹیم کے کئی آفیشلز نے پاکستان آنے سے انکار کر دیاانہوں نے کہا وہ T20،ون ڈے اور ٹیسٹ میچ کسی میں بھی پاکستان نہیں جا رہے بنگلہ دیش کے لئے نہ کھیلنے سے بڑا کوئی گناہ نہیں مگرمیں نے پی ایس ایل کی خبریں کر بھی لیگ کی ہر قسم کی پیشکش کو مسترد کیا تھا کیونکہ میرے اہلخانہ راضی نہ ہو سکے،مستفیض کے انکار سے ٹائیگرز کو جھٹکا لگا ہے کیونکہ ٹیم کو پابندی کے شکار شکیب الحسن کی خدمات بھی حاصل نہیں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے چیر مین کرکٹ آپریشنز اکرم خان کے مطابق بیٹنگ کوچ نیل میکنری،فیلڈنگ کوچ ربان کک،سپین باؤلنگ کوچ ڈینئیل ویٹوری،بھارتی کمپیوٹر اینالسٹ نواسن چندرا سیکران نے بھی پاکستان آنے سے انکار کیا ہے تاہم ٹیم کے ہیڈ کوچ رسل ڈومینکو ٹیم کے ساتھ آئے ہیں،پاکستان نے اپنے اسکواڈ میں گذشتہ سال دورہ آسٹریلیا میں جانے والے اور خراب کاکردگی رکھنے والے 7 اہم کھلاڑیوں کو ڈراپ کیا ہے، محمد عامر،فخر زمان،امام الحق،وہاب ریاض،محمد عرفان،کو آؤٹ کیا ہے ڈومیسٹک کرکٹ میں مستقل عمدہ کھیل پیش کرنے والے احسن علی اور عماد بٹ کو پہلی مرتبہ ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے،آسٹریلین لیگ بگ پیش میں چھا جانے والے حارث رؤف قومی ٹیم کا حصہ بن گئے ہیں حارث رؤف نے بگ بیش میں ہیٹ ٹرک کرنے والے پہلے پاکستانی باؤلر بن گئے ہیں اب تک وہ7میچوں میں 17وکٹ حاصل کر چکے ہیں بی بیش میں ڈبل اسنین کی انجری پر انہیں ملبرن اسٹارز کا حصہ بنایا گیاحارث نے لاہور قلندر میں شمولیت سے شہرت پائی حاصل کی تھی آسٹریلیا میں اپنے آخری اوور میں سڈنی تھینڈرز کے میتھیو کلکس،کلم فرگیوسن،ڈینئیل سیمز کو پویلین بھیج کر ہیٹ ٹرک کی،حارث رؤٖ ف کی یہ ہیٹ ٹرک بگ بیش کی چوتھی ہیٹ ٹرک ہے،پی سی بی نے سنٹرل کرکٹ کے حامل کھلاڑیوں جن میں سرفراز احمد بھی شامل تھے کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور طلب کر رکھا تھااور قوی توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ اس بار وہ ٹیم کا حصہ بن جائیں گے مگر ایسا نہیں ہوا،ٹیم کے اعلان کرتے وقت کپتان بابر اعظم بھی ہیڈ کوچ مصباالحق کے ہمراہ تھے مصباح الحق نے کہاکہ پاکستان کو فتح کی ڈگر پر گامزن کرنا ہے ہم نے بہت سوچ سمجھ کر ٹیم کا انتخاب کیا ہے،چیرمین بورڈ احسان مانی نے کہا ہے کہ مجھے خوشی ہے کہ دونوں کرکٹ بورڈ جوکھیل اور کرکٹ کھیلنے والی با فخر قوموں کے مفاد میں ایک معاہدے پر متفق ہو گئے،پاکستان ایک محفوظ ترین ملک ہے یہاں پر ہر آنے والے مہمان کھلاڑی کو ان کی توقعات سے بڑھ کر سیکیورٹی اور پروٹوکول دیا جاتا ہے،ویست انڈیز کے سٹار کرس گیل کے مطابق پاکستان دنیا کے محفوظ ترین ملکوں میں سے ایک ہے پاکستانی ٹیم کے لئے پچھلا پورا سال بھاری رہا شکستوں کی لائن لگ گئی اسی وجہ سے متعدد تبدیلیاں سامنے آئیں شعیب ملک اور محمد حفیظ جیسے سینئیرز کو بھی ٹیم کا حصہ بنایا گیا دونوں کھلاڑی ہی ماضی میں ٹیم کی قیادت بھی کر چکے ہیں البتہ T20رینکنگ میں عالمی نمبر ون ٹیم پاکستان کا کپتان بابر اعظم بیٹسمینوں کی عالمی رینکنگ میں نمبر ون ہے بابر اعظم اپنی بہترین بیٹنگ کی بدولت اب قومی ٹیم کی قیادت تک پہنچ چکے ہیں،دوسری جانب بنگلہ دیش ٹیم کے محمد محمود اللہ پہلی مرتبہ ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں،سابقہ ریکارڈ کو دیکھا جائے تو تینوں فارمییٹ میں پاکستان کا پلڑا بھاری ہے ٹی ٹونٹی میں پاکستان کا بنگلہ دیش کے خلاف بڑا ٹوٹل 203جبکہ بنگلہ دیش کا بڑا ٹوٹل 146ہے،کم ٹوٹل میں پاکستان کا 124اور بنگلہ دیش کا 85ہے،تیسٹ میچوں میں پاکستان کا بڑا ٹوٹل 628جبکہ مخالف ٹیم کا بڑا مجموعہ 555ہے،پاکستان گذشتہ ایک سال میں 10میچ کھیلے صرف ایک میں کامیابی حاصل کی تاہم بنگلہ دیش کے خلاف تینوں فارمیٹ میں پاکستان کا پلڑا کافی بھاری ہے،بنگلہ دیش کے خلاف دس T20میچوں میں 8میں،37ون ڈے میچوں میں 32میں اور9ٹیسٹ میچوں میں سے 8میں جیت حاصل کی،شاہینوں اور ٹائیگرز کے درمیان T20کا پہلا ٹاکرااپریل2008میں نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلا گیا جسے پاکستان نے102رنز سے جیتا یہ میچ پاکستانی سر زمین پر ہونے والا پہلا ٹی ٹونٹی میچ تھا،احمد شہزاد بنگلہ دیش کے خلاف کسی بھی ٹی ٹونٹی میچ میں سینچری بنانے والے واحد بلے باز ہیں،زیادہ 13چھکوں کا ریکارڈ شاہد آفریدی کے نام ہے،پہلا ون ڈے 31مارچ 1986جبکہ آخری ون ڈے 5جولائی 2019کو کھیلا گیا،حالیہ سیریز میں انتہائی تجربہ کار کھلاڑی محمد حفیظ نے T20ورلڈ کپ کے بعد ریٹائرمنٹ کا علان کیا ہے ان کے مطابق ٹیم میں دوبارہ شمولیت بہت خوش آئند ہے 17سال پہلے سرف بلے باز کی حیثیت سے ٹیم میں شامل ہوا تاہم باؤلنگ اضافی حیثیت رہی،محمد حفیظ نے 2012کے ورلد کپ میں ٹیم کی قیادت کی تھی،وہ اپنی آخری T20سیرز میں مین آف دی سیریز اور آخری میچ میں مین آف دی میچ کا اعزاز حاصل کیا،محمد حفیظ اب تک 55ٹیسٹ،218ون ڈے اور89ٹی ٹونٹی میچ کھیل چکے ہیں،بنگلہ دیش کے ساتھ پہلے مرحلے میں ٹی ٹونٹی میچوں اور ایک ٹسٹ میچ میں ٹکٹوں کے نرخ کم رکھے گئے ہیں قذافی سٹیڈیم میں ہونے والے تینوں میچوں میں انضمام الحق،نذر محمد،قائد،امتیاز احمد،ظہیر عباس،حنیف محمد،ماجد خان،عبدالقادر،سعید احمد،اور سرفراز نواز انکلوژرز کا ٹکٹ 500روپے،عبدالحفیظ کاردار،راجہ رمیذ،جاوید میانداد اور سعید انور انکلوژرز کا ریٹ 1000روپے،جبکہ عمران خان،فضل محمود انکلوژرز کا ٹکٹ 2ہزار میں فروخت کیا گیاسب سے زیادہ مہنگے ٹکٹ وسیم اکرم اور وقار یونس انکلوژزرز کے 4ہزار روپے تھے،سری لنکا سیریز میں یہ نرخ زیادہ تھے،راولپنڈی کھیلے جانے والی ٹیسٹ میچ کے لئے 50اور100روپے رکھا گیا ہے،لاہور کے قذافی سٹیڈیم کی رونقیں تو بحال ہی رہیں گی کیونکہ ان میچوں کے بعد پی ایس ایل5کے14میچ اسی سٹیڈیم ہی میں کھیلے جانے ہیں،کامران اکمل کا کہنا ہے کہ تین سال تک ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین پرفارم کر ہوں ڈرپ کرنا سمجھ سے باہر ہے،دوسری جانب پہلی بار ٹیم کا حصہ بننے والے احسان علی اور عماد ب ٹ شاندار کارکردگی کا عزم رکھتے ہیں،

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے