-,-ندائے فکر-ثنائ  احمد۔

نہ سمجھو گے تو مٹ جاو گے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

آج مجھے برصغیرکی تاریخ کے وہ اوراق شدت سے یاد آرہے ہیں کہ جب قائداعظم نے پاکستان کا مطالبہ کیا اور ایک تحریک شروع ہو ئی۔۔لے کے رہیں گے پاکستان۔۔۔۔کے نعروں سے مسلم اکثریت آبادی کے علاقے گونج رہے تھے۔ قریہ قریہ مسلمانوں کے لئے ایک آزاد مملکت کے حصول کے نعرے لگ رہے تھے ۔مقصد یہ تھا کہ مسلمان ایک آزاد اسلامی اور فلاحی ریاست میں اپنے عقائد کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کر سکیں گے۔پھر چشم فلک نے وہ نظارہ بھی دیکھا کہ دنیا کے نقشے پر پاکستان نمودار ہوا۔اگرچہ بہت جانی و مالی نقصان ہوا تاہم وقت نے ثابت کر دیا کہ قائداعظم اور دیگرمسلم رہنماوں کی سیاسی بصیرت اور دور بینی درست تھی۔ وہ ہندو ذہنیت سے آگاہ تھے اُنہیں علم تھا کہ مسلمانوں کا مستقبل متحدہ ہندوستان میں نہیں۔اس کے ساتھ ساتھ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کے یہ“حکم ربی بھی تھا”پاکستان کو معرض وجود میں آنا ہی تھا۔تحریک پاکستان کی مخالفت کرنے والے ایک طرف تو ہندو تھے۔جو ہندوستان کی تقسیم کو کبھی بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن افسوس کہ دوسری جانب مسلمانوں کی کئی مذہبی جماعتیں اور کئی مسلما ن سیاسی رہنما پاکستان بننے کے حق میں نہ تھے۔ اُن میں سے بہت سے اس دُنیا میں نہیں ہوں گے۔ لیکن ان کے نظرئیے آج بھی تاریخ بر صغیر اور تحریک پاکستان کی جدو جہد میں سیاہ حروف سے نظر آتے ہیں۔مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد جو یا تو پاکستان نہ آسکی یا یہ سوچ کر کہ ہندوستان ان کا ملک ہے۔ وہ یہ ملک کیوں چھوڑیں۔ ترک وطن کو پسند نہ کیا اور ہندوستان میں ہی قیام کرنے کو ترجیح دی۔ یہ تو عوامی رجحان اور عوامی ترجیحات تھیں۔ لیکن آج میرے مخاطب وہ مسلمان دانشور اور رہنما ہیں۔جو فلسفہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کو نہ سمجھ سکے۔ ان کی اس تحریک کو دیوانے کا خواب کہا اور تنقید ہی نہیں بلکہ بعض اوقات نظریہ پاکستان کی تضحیک میں بھی کوئی کثر نہ چھوڑی۔ قائد اعظم کی شصیتک پر ناپاک حملے کرنے والیاور پاکستان کو کافرستان کہنے والے اور ان کے جانشینوں کے لئے آج ستر سال بعد وقت نے فیصلہ کر دیا کہ پاکستان کی تحریک اور پاکستان کا وجود ناگزیر تھا اور اس تحریک کے سیاسی رہنما جس بات کو اپنی سیاسی بصیرت سے سمجھ گئے تھے اس بات کو مولانا ابوالکلام آزاد نہ سمجھ سکے۔ اگرچہ دو قومی نظریہ تواسی وقت وجود میں آگیا تھا۔ جب ہندوستان میں پہلے مسلمان نے قدم رکھا۔ اور مسلمانوں کی آبادی بڑھتی چلی گئی تاہم اس کے بانی سر سید احمد خان تھے۔ جو ہمیشہ متحدہ ہندوستان کے قائل رہے۔لیکن ایک ایسا موڑ ایا کہ کہ انہوں نے فیصلہ کن نظریہ پیش کیا۔ اور وہ تھا۔۔۔دو قومی نظریہ۔۔۔”میرا دیس ہندوستان“ کا نعرہ لگانے والے مسلمان نظریہ پاکستان کے مخالف آج انڈیا میں شہریت بل کا خمیازہ بھُگت رہے ہیں سارے بھارت میں ہی نہیں اس سے متعلقہ کئی ریاستوں میں بھی فسادات پُھوٹ پڑے ہیں۔نریندر مودی کے اس بل کی مخالفت پوری ریاست میں جاری ہے مغربی بنگال ہو یا دہلی ہر جگہ ہنگامے پھُوٹ چُکے ہیں۔ہندؤکی پستہ اور تنگ سوچ کا نمائندہ نرندر مودی تمام اخلاقی حدود وقیود پار کر چکا ہے۔ اور اپنے ہی ملک کو مذہبی انتہا پرستی کے ذریعے تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ لیکن ہمیں تو ان معصوم مسلمانوں کی تکلیف کا غم ہے جو ہندوستان کو اپنا ملک اور دیس سمجھنے کی غلطی کا ایک لمبا عرصہ شکار رہے۔ہندوستان جو ایک جمہوری اور سیکولر ریاست کے طور پر دنیا کی نظروں میں عزت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ مودی کی ان مذموم حرکات کی وجہ سے اپنا وقار کھو بیٹھا ہے۔ اور ہندوستا ن کو ایک حربی خطہ تصور کیا جا رہا ہے جس کے اثرات نہ صرف معیشت پر ہوں گے بلکہ خانہ جنگی سے ہندوستان مزید کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ شاید ہندووں کی اسی تنگ نظری اور پستہ سوچ اور اسلام دشمنی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اقبال نے کہا تھا
نہ سمجھو گے تو مٹ جاو گے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
ہندوستان جیسی سیکولر سٹیت میں مذہبی انتہاء پسندی عروج پر ہے اور اس کا آغاز مودی نے کشمیر سے کیا۔کشمیری قیادت کو نظر بند کر دیا گیا اور عوام کو گھروں تک محصور کر دیا گیا۔کرفیو نافذہے ظلم وستم کا بازار گرم ہے کشمیری جس بے بسی کے عالم میں ہیں تصور کر کے دل خون کے آنسو روتا ہے۔بیماریوں اور خوراک کی قلت کے عذاب میں گرفتار ان لوگوں کے مسائل بھرے پیٹ والے کیسے سمجھ سکیں گے؟ انڈین حکومت کا رویہ صرف غیر انسانی ہی نہیں یہ غیر فطری بھی ہے۔ لوگوں کو گھروں میں گُھس کے ماراپیٹاجارہا ہے۔ اوراحتجاج کی صورت میں مزید ظلم کئے جاتے ہیں کشمیری مسلمانوں پر مظالم صر ف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ یہ امت مسلمہ کا اجتماعی مسئلہ ہے۔ تما م مسلم ممالک کو متحد ہو کر جدو جہد کرنے کی ضرورت ہے۔ ملائشیا کے مہاتیر محمد نے انڈیا کو دھمکی دی ہے کہ وہ بصورت دیگر ملائشیا میں مقیم ہندوستانیوں کو نکال دے گا اور ان کی شہریت بھی منسوخ کر دے گا۔ جو کہ خوش آئیندبھی ہے۔اور دوسرے مسلمان ممالک کے سربراہان کے لئے ایک تجویز بھی ہے۔ کشمیر یوں پر مظالم ڈھا نے سے ہی مودی کا مکروہ چہرہ دنیا پر واضح ہو گیا تھا۔تاہم اب شہریت بل کے نفاذ کے بعد اس کا باولا پن بھی سامنے آ گیا ہے۔اب مسلم ممالک کے سربراہان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ کہ انڈیا میں مقیم مسلمانوں کو اس صورتحال سے نکالیں۔دعووں اور نعروں سے نہیں بلکہ عملی طور پر رد عمل ظاہر کریں۔ ایک اچھی بات جو سامنے آئی ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ سے انڈین کرسچن اور سکھ کمیونٹی کا بھی احتجاج جاری ہے! Jasveen kaur کہتی ہیں“مسلم،نان مسلم،کرسچن انڈین عوام اس کو پسند نہیں کر رہے یہ قانون PJP نے بنایا ہے۔ ”
علی گڑھ یونیورسٹی میں فسادات اور پکڑ دھکڑتکلیف دہ ہے۔ اب تو بھارت میں جگہ جگہ پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج رہے ہیں اور اس کا اعتراف پولیس بھی کر چُکی ہے اسی طرح آسام اور اُترپردیش کے حالات بھی خراب ہیں وہاں مسلمانوں کو چلے جانے کے لیے کہا جاتا ہے انکار کی صورت میں جیل میں ڈالا جا رہا ہے احتجاج ریلیاں جاری ہیں فیس بک پہ اس ظلم کے خلاف لکھنے پہ ایک سو بیس افراد گرفتار ہو چکے ہیں“مودی سرکار کی گوبر بھری زہنیت”گاۓ کی پوجا نے ذہنی توازن بگاڑ دیا ہے اب زرا RSS میشن کے چند نکات بھی دیکھ لیں۔۔۔۔
بھارت کو ہندو ریاست تسلیم کیا جاۓ
برہمنوں کو کبھی سزا نہیں ہو گی کیونکہ وہ خدا کا روپ ہیں
بھارت پر صرف ہندووں کا حق ہے
پولیس میں صرف اونچی ذات کے لوگ ہوں گے
اور سب سے خطرناک بات۔۔۔۔۔مسلم خواتین کا ریپ اور اُن کے قتل پہ کوئ سزا نہیں ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ار ایس ایس کے تحت مسلمانوں کی انڈیا میں کوئ جگہ نہیں۔۔۔۔۔
سپین کی طرح مسجدوں اور مدرسوں کو مندروں میں تبدیل کیا جائے۔
سکھوں اور دیگر لوگوں کو ہندو دھرم قبول کرنے پر مجبور کیا جائے
انکار کرنے پر کڑی سے کڑی سزا دی جائے
کدھر ہیں نظریہ پاکستان کے مخالف؟

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے