۔،۔قلم کاروان،اسلام آباد۔ڈاکٹرساجدخاکوانی ۔،۔

منگل مورخہ21جنوری2020 بعد نماز مغرب قلم کاروان کی ادبی نشست مکان نمبر1اسٹریٹ 38،G6/2اسلام آبادمیں منعقد ہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی ادبی نشست میں ”نفاذاردواور لسانی سامراجیت“کے عنوان سے سکوارڈن لیڈر(ر)جناب خالدحسن کامضمون طے تھا۔معروف دانشورجناب اسلم الوری صدرنشین تحریک نفاذاردوپاکستان نے صدارت کی۔نشست کے آغازمیں جناب شوکت علی کیانی نے تلاوت قرآن مجید،جناب احمدمحمودالزماں نے کلام شاعربزبان شاعرکے مصداق نعت رسول مقبول بحضور سرورکونین ﷺ،جناب عطاالرحمان چوہان نے مطالعہ حدیث نبویﷺ اورسیدمظہر مسعودنے گزشتہ نشست کی کاروائی پیش کی۔صدرمجلس کی اجازت سے جناب خالد حسن نے اپنا مضمون پیش کیا،مضمون میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نفاذاردوکے حوالے سے تفصیلی مواد شامل تھا،فاضل مضمون نگارنے قائداعظم ؒ کی تقریروں اوردساتیرمملکت سے اردوزبان کی اہمیت اجاگرکی اوراس کے نفاذ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کابھی ذکر کیا،آخرمیں بہت عمدہ اور قابل عمل تجاویزکے ساتھ مضمون کااختتام کیاگیاتھا۔مضمون پیش ہوچکنے کے بعد جناب عالی بنگش اوروسیم بلوچ نے سوالات کیے جن کا سیرحاصل جواب دیاگیا۔مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے جناب عطاالرحمن چوہان نے کہاکہ مضمون کے مندرجات سے اندازہ ہوتاہے کہ پاکستان میں نفاذاردوبہت مشکل اوربہت دورہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ عوام الناس نے انگریزی کے ٹی وی چینلزاور انگریزی کے اخبارات و رسائل کو بری طرح مسترد کردیاہے،انہوں نے مزیدکہاکہ اردوکے نفاذکافیصلہ قیام پاکستان سے قبل کردیاگیاتھاکیونکہ گزشتہ صدی کے آغازمیں سب سے پہلے”مجلس تحفط اردو“بنی تھی جسے بعد میں آل انڈیامسلم لیگ کانام دے دیاگیاتھا۔جناب ساجد حسین ملک نے کہا وہ اپنی وزارت میں اس کمیٹی کے سربراہ تھے جس نے جملہ اصطلاحات کوانگریزی سے اردوزبان میں ترجمہ کردیاتھا۔جناب سیدظہیراحمدگیلانی نے پیش کیے گئے مقالے کی تعریف کی اورکہاکہ اردوپاکستان میں واحد رابطے کی زبان ہے،گوادرسے چترال تک ہرمردوعورت اردوزبان میں اپنا مدعاپیش کرنے پر قادر ہیں۔نئی طرزکے شاعر جناب احمدمحمودالزماں نے تحریک نفاذاردوکے لیے اپنالکھاہواایک ترانہ بھی پیش کیا۔ڈاکٹرساجد خاکوانی صدرنشین قلم کاروان نے تحریک نفاذاردوکو پیشکش کی وہ ہر ماہ میں ایک منگل نفاذاردوکے لیے یہاں مشترکہ نشست کیاکریں۔ بعدازاں نشست میں موجودشعراکرام، جناب شیخ عبدالرازق عاقل ایڈوکیٹ، حلقہ ارباب ذوق کے سابق معتمد جناب سیدمظہرمسعود اور نوجوان شاعرجناب علی بنگش نے اپنااپنا کلام نذرسامعین کیااوردادوصول کی۔معمول کے سلسلوں میں جناب شہزادعالم صدیقی نے مثنوی مولائے روم ؒپر اپنا حاصل مطالعہ بھی پیش کیا۔ صدر مجلس جناب اسلم الوری نے مقالے کے مندرجات کو بے حدپسند کیااورایک عمدہ تحریرپر انہیں مبارک بادپیش کی اورکہاکہ فاضل مضمون نگار کی اس کاوش سے آج کی نشست ایک کامیاب نشست رہی، انہوں اعلی تعلیمی اداروں اور تحقیقی مجلوں کے ذمہ داران سے مطالبہ کیاکہ اپنے ہاں اردومیں لکھے گئے مقالات کو شائع کر کے ان کا جائز مقام دیں،انہوں نے کہا کہ کمرہ جماعت میں سائنس کا تمام تدریسی عمل اردوزبان میں ہوتاہے لیکن کتابیں انگریزی زبان میں ہیں،اساتذہ کرام اپنی گفتگوکواگر لکھ لیں توتھوڑی محنت سے کتابیں بھی اردومیں تیارہو سکتی ہیں۔صدارتی خطبے کے ساتھ ہی آج کی ادبی نشست اختتام پزیرہوگئی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے