۔،۔شہنشاہِ پاک پتن۔پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔


جب کبھی بھی کسی خاک نشین کو شہرت ملتی ہے تو سلا طین دولت مند ناراضگی کا اظہار کر تے ہیں‘ غصہ کر تے ہیں کہ شہرت تو صرف ہمارے لیے ہی ہے زمانہ اِن فرش نشینوں کو کیوں سر کا تاج بناتا ہے ہمیں کیوں نہیں بنا تا لیکن منکرین روحانیت اور حاسدین یہ بات بھو ل جاتے ہیں کہ اولیاء اللہ خود کو حقیقی الٰہی رنگ میں ڈھالنے کے بعد زندگی کی ہر سانس کو خدمت خلق اور بندگی خدا میں گزرتے ہیں دنیا کے تمام نعمتوں کو جوتے کی نو ک پر رکھ کر ہوامیں اڑا دیتے ہیں تب کہیں جا کر خدائے لازوال اپنے بندوں کو یہ مقام ادا کر تا ہے یہ مقام اِن اولیاء اللہ کو ایسے ہی حاصل نہیں ہو جاتا اِس کے پیچھے طویل ریاضت مجاہدہ عبادت فاقہ کشی اور خدمت خلق ہو تی ہے اِسی لیے تو تاریخ انسانی کے عظیم صوفی بابا فریدؒ نے کسی کے پوچھنے پر کہا تھا چالیس سال تک میں نے وہ کیا جو میرے رب نے چاہا اب میں جو چاہتا ہوں میرارب اِسی طرح کر دیتا ہے اولیاء اللہ بھی کیا خوب لوگ ہیں جو اِن کو برا کہتا ہے یہ ان کا بھلا چاہتے ہیں جو ان سے ناراض ہو تے ہیں یہ ان سے صلح کر تے ہیں خدمت خلق کی کرتے ہیں صلہ خدا سے مانگتے ہیں رہتے فرش پر ہیں خبر عرش سے لاتے ہیں دماغ سکندرانہ رکھتے ہیں طبیعت قلندرانہ ہو تی ہے اِن کی آغوش میں زمین آسمان کی وسعتیں ہو تی ہیں جہاں ہزاروں بے بس بے کس آکر سما جاتے ہیں ٹاٹ کے کپڑوں میں گھانس پھونس کی جھو نپڑی میں فقیر کی دنیا آباد ہو تی ہے اِ ن کی کھدر کی ٹوپی کے سامنے تاج شاہی کی چمک مانند پڑ جاتی ہے بزم تصوف کے عظیم صوفی بابا فرید مسعود گنج شکر ؒ بھی ایسے ہی باکمال صوفی تھے اُن کا انداز اور بے نیازی زمانے سے مختلف تھے اہل دنیا تخت دہلی سے چمٹے ہو ئے تھے یہ بے نیاز صوفی دعوت حق کے لیے وہاں سے اپنا بو ریا بستر سمیٹ رہا تھا لوگ دیوانہ وار دربار دہلی کی طرف دوڑ رہے تھے یہ فقیر اجو دھن کے اجاڑ بنجر علاقے کا سوچ رہا تھا دہلی کی رونقیں اور رنگ تو پہلے ہی جوبن پر تھے اصل مسئلہ تو بنجر اجاڑ پاک پتن کا تھا اُس ریگستان کو گلشن میں بدلنا تھا تخت دہلی کی کشش میں پو ری دنیا سے لوگ اُدھر آرہے تھے جہاں روشن اُجلے چہروں کی بہتات تھی خواجہ معین الدین اجمیری ؒ اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ شب و روز کی محنت اور روحانی تصرف کے بعد دہلی کا سارا شہر مسخر ہو چکاتھا عام انسان سے بادشاہ تک آستانہ چشت کا غلام بن چکا تھا اب دادا مرشد اور مرشد کی محنت کی کمائی کے پھل کھانے کا وقت تھا بابا فرید ؒ اکیلے روحانی وارث تھے شہر فتح ہو چکا تھا بزم دہلی کی انجمن جوبن پر تھی گلی کو چے رنگ و نور میں نہائے ہو ئے تھے مدرسے مکتب آستانے ادبی محفلیں عملی مشغلے سیاسی نشستیں گر می بازا ر نقطہ عروج پر تھا ایک جہاں آباد تھا اور بابا فرید ؒ مسند چشت کے اکیلے وارث جہاں پر آپ ؒ کی پو جا ہوتی تھی آپ ؒ کا حکم چلتا تھا دربار فریدی ؒ کا رنگ بادشاہ کے دربار سے زیادہ ہو تا تھا جبکہ دروویش باکمال دہلی کی پر رونق محفلوں کی بجائے اجودھن کے ویرانے کو دیکھ رہا تھا‘ دہلی کے شب و روز رنگ ونور میں نہائے ہو ئے تھے جبکہ اجو دھن کی ہر شام بے نشان تھی دہلی میں شاہی جلسوں کا اہتمام ہو تا پاک پتن میں درندوں کے حملے تھے دہلی کے لوگ بانکے سجیلے اجو دھن کے لوگ بد مزاج اور درندے‘ دہلی میں علم کے فوارے پھوٹتے تھے یہاں جہالت کے اندھیروں کا راج تھا دہلی میں زندگی کی تمام سہولتیں موجود تھیں اجو دھن میں فاقہ کشی غربت تنگ دستی کے ڈیرے تھے بابا فرید ؒ نے دہلی کی بادشاہت کو چھوڑ کر اجودھن کی غربت تنگ دستی کو گلے سے لگا یا‘ دہلی کے پر ہجوم بازاروں کی بجائے اجڑے دیار کو ترجیح دی‘ دہلی میں باادب با ملاحظہ ہو شیار کی صدائیں تھیں مرغ و ماہی کی لذتیں تھیں اجو دھن میں پیلو جیسے جنگلی پھلوں پر گزارا تھا دہلی میں شیخ الاسلام کا عہدہ غلام بن کے کھڑا تھا اُسے ٹھکرا دیا اور اجودھن کا مبلغ بننا پسند کیا اور یہ سچ ہے کہ صدیاں گزر گئیں بابا فریدؒ جیسا مبلغ دوسرا نہ آیا کیونکہ علما کا زور فتوی پر اور فقیر کی نظر تقویٰ پر رہتی ہے بابا فریدؒ نے جنگلی پھل کھا کر کافروں کو مسلمان بنایا آج علما ء حلوہ کھا کر مسلمانوں کو کافر بنانے میں مصروف ہیں مو لوی خطیب حلوہ خوری میں مصروف رہتے جبکہ بابا فریدؒ کافروں کو نور اسلام میں رنگتے نظر آتے ہیں۔ پروفیسر ارنلڈ اپنی کتاب میں لکھتا ہے بابا فریدؒ کے ہاتھ پر پنجاب کے سولہ اکھڑ بد مزاج قبیلے کفر چھوڑ کر مسلمان ہو ئے بابا فریدؒ کے آنے سے پہلے پاک پتن درندوں کی آما جگاہ تھی دن کے وقت درندوں کے غول انسانوں کو ادھیڑتے نظر آتے آپ کے مبارک قدموں سے اجو دھن پاک تین بن گیا مخلوق خدا کے لیے گوشہ راحت بن گیا دکھی سسکتی تڑپتی مخلوق سیلاب کی طرح امڈ آئی ہندو مسلمان ہر قوم مذہب کے لوگوں کا مسیحا صرف آ پ ہی تھے اور پھر آسمان اور اہل دنیا کے کیا خوب منظر دیکھا کہ دہلی کی رونقیں اجو دھن کے سامنے مانند پڑگئیں دربار فریدی ؒ میں اجمیر بہار دہلی جر جان خرسان افغانستان کشمیر ایران کے ہزاروں لوگ غلاموں کی طرح سر جھکائے کھڑے نظر آتے‘ شیخ نظام الدین دہلوی ؒ فرماتے ہیں دربار فریدی ؒ میں آدھی رات تک قافلے اپنا رخت ِ سفر کھو لتے دکھائی دیتے وقت کے بڑے دانشور فوجی وزراء اجل علما دولت مند رئیس تاجر دولت مند دیہاتی شہر عام و خاص ہر قسم کے لوگوں کا سیلاب آیا ہو تا ہر طرح کے انسانوں کا یہ ہجوم کیوں تھا کہ ایک مرد درویش نے دہلی کی رونقوں کو چھوڑ کر اِ س بنجر بیابان علاقے میں آکر پیار کا چراغ روشن کر دیا طرز تبلیغ ایسا کہ سنگدل سے سنگدل بھی دل ہا ر جاتا کسی مرید نے آکر قینچی پیش کی تو آپ ؒ نے فرمایا مجھے قینچی کی ضرورت نہیں سوئی دھاگے کی ہے میں نے کاٹنے کا کام نہیں کر نا میں جوڑنے کاکام کر تا ہوں‘ انسانوں سے محبت کا یہ عالم کہ کسی نے زکوۃ کے بارے میں پو چھا تو فرمایا بابا زکوۃ تین قسم کی ہو تی ہے زکوۃ شریعت‘ زکو ۃ طریقت‘ زکوۃ حقیقت‘ زکوۃ شریعت یہ کہ انسان دوسو درہم میں سے پانچ درہم دے باقی رکھ لے‘ زکوۃ طریقت یہ ہے کہ پانچ رکھ لے اور باقی مخلوق میں بانٹ دے اور زکوۃ حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ جو پاس ہے وہ دے دے اور پاس کچھ بھی نہ رہے اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس پو ری کائنات میں رب اور اُس کی مخلوق کے علاوہ کسی کو نہ چُنا آپ ؒ نے عمر بھر اُس گلی میں بستر لگایا جس کی پھیر ی لگانے والوں میں دارو سکندر سلاطین شہنشاہ شامل ہیں بے نیازی اور غیور اتنے کہ ساری عمر کسی کے سامنے دامن مراد نہیں پھیلا یا سلاطین وقت کو ضرورت پڑی تو وہ فریدی ؒ کچی کٹیا کا طواف کر گئے مگر مجال ہے جو درویش بے مثال نے کبھی قصر مر مر کی طرف ایک نظر بھی ڈالی ہو آپ کی شب و روز محنتوں فیض پھر خوب جاری ہوا برصغیرپاک و ہند میں سلسہ چشت کو جو باکمال عروج نصیب ہوا آپ ؒ ہی کے دم سے ہوا کو ٹ مٹھن کے خواجہ فریدؒ سے لے کر گو لڑہ شریف کے پیر مہر علی ؒ تک سب اِس در کے غلام ہیں قبلہ عالم سے پیڑ پٹھاں پیر سیال شاہ سلمان تو نسوری نور اللہ مہاروہ ملتان کے حافظ کمال‘ قصور کے بابا کمال چشتی سب اِسی چشمہ معرفت سے فیض یاب ہو ئے لاہور میں سلطان قطب الدین ایبک شہنشاہ جہانگیر دہلی میں ہمایوں کا مقبرہ گمنامی میں لپٹے ہیں لیکن پاک پتن کے گمنام شہر میں فقیر کے قدم کیا لگے کہ شہر کو بھاگ لگ گئے بادشاہوں کے مزار ایک چراغ کو ترستے ہیں لیکن بابا فریدؒ کے مزار پر دن رات چراغاں کا سماں رہتا ہے اِس لیے کہ علماء سو کے منہ سے نفرت کے شعلے نکلنے تھے جب کہ بابا فریدؒ کے منہ سے محبت کے پھول جھڑتے تھے شہنشاہ غلاموں کی طرح سر جھکائے کھڑے رہتے جب کہ آپ ؒ کی عاجزی کا یہ عالم تھا کہ ہر نماز کے بعد سر مبارک کو زمین پر گھنٹوں رکھ دیتے اوربار بار کہتے میں تیرے لیے زندہ ہوں اور تیرے لیے مرتا ہوں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے