۔،۔قلم کاروان،اسلام آباد۔ڈاکٹرساجدخاکوانی ۔،۔

منگل مورخہ4فروری2020 بعد نماز مغرب قلم کاروان کی ادبی نشست مکان نمبر1اسٹریٹ 38،G6/2اسلام آبادمیں منعقد ہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی ادبی نشست میں 5فروری یوم یکجہتی کشمیرکے حوالے سے پروفیسر صہیب قرنی کا مضمون”مسئلہ کشمیر۔۔۔تقسیم برصغیرکانامکمل ایجنڈا“ طے تھا۔نوجوان شاعر اور نقادجناب عالی بنگش نے صدارت کی۔نشست کے آغازمیں جناب محمدسہیل نے تلاوت قرآن مجیدکی،جناب میرافسرامان نے مطالعہ حدیث نبویﷺپیش کیا،اورڈاکٹرساجدخاکوانی نے گزشتہ نشست کی کاروائی پڑھ کرسنائی۔صدرمجلس کی اجازت سے جناب صہیب قرنی نے اپنے تفصیلی تعارف کے ساتھ اپنی تحریر پیش کی،تحریر میں مسئلہ کشمیرکا ماضی سے لے کر موجودہ حالات تک بہت جامعیت کے ساتھ احاطہ کیاگیاتھا،صاحب تحریر نے بڑی عمدگی کے ساتھ دوستوں کی نادانیوں اور دشمنوں کی دانائیوں کے نتیجے میں اپنی رسوائیاں گنوائیں اور خاص طور پر فی زمانہ صورتحال کاذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح پندرہ سالوں تک ایٹمی تیاری کے باوجود دھماکہ نہیں کیاتھااور بھارت کی طرف سے موقع فراہم ہوتے ہی قوت کااظہارکردیاگیااسی طرح لمحہ موجود کشمیرکی آزادی کے لیے میسرموقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کاوقت ہے،تحریرکے آخر میں انہوں نے کشمیرکی موجودہ صورتحال برقراررہنے پر بھارتی مفادات اورپاکستانی نقصانات کا تجزیہ پیش کیاجس میں اول واہم پاکستانی دریاؤں کے پانی کااغواتھا۔تحریرپراعجازرانا،میرافسرامان اورپروفیسرآفتاب حیات کچھ چبھتے ہوئے سوالات و اعتراضات اٹھائے جس کا صاحب مضمون نے تسلی بخش جواب دیا۔عطاالرحمن چوہان،صدر تحریک نفاذاردونے کہاکہ پاکستانی قوم صرف 14اگست کو جھنڈے اٹھاتی ہے لیکن کشمیری روزانہ جھنڈے اٹھاکر گھروں سے باہر نکلتے ہیں اوراسی جھنڈے کوکفن بناکر دفن بھی ہوتے ہیں۔جناب ساجد حسین ملک نے کہاکہ تحریربہت محنت سے لکھی گئی تھی اوراس کے مندرجات سے انہیں مکمل اتفاق ہے۔جناب حبیب الرحمن چترالی نے کہاکہ کشمیری اور فلسطینی اب ”مستضعفین“کی قرآنی اصطلاح میں آتے ہیں اوراللہ تعالی نے ان کی مدد کا وعدہ کررکھاہے۔جناب شہزادمنیراحمدنے مسئلہ کشمیر کے بعض اہم پہلؤں کواجاگر کیااور کہا کہ عالمی اداروں میں حکومتوں کی آواز سنی جاتی ہے چنانچہ حکومت کو چاہیے کہ ایک فریق کی حیثیت سے دنیاکے سامنے کشمیر کامقدمہ پیش کرے۔شیخ عبدالرازق عاقل نے کہاکہ کشمیر صرف جہادسے ہی آزادہو سکتاہے۔تبصروں کے بعد جناب سیدعنایت اللہ جان نے آج اپنی سالگرہ کے موقع پر اپنے بارے میں لکھی ہوئی ایک تحریر سنائی۔جناب میرافسرامان نے مسئلہ کشمیر کے حل پر اپنی لکھی گئی ایک تحریر سے چندسطورپڑھیں۔معمول کے سلسلوں میں جناب عبدالرازق عاقل ایڈوکیٹ نے اپنی تازہ غزل اور شہزادعالم صدیقی نے مثنوی مولائے روم سے حاصل مطالعہ پیش کیا۔ صدر مجلس جناب عالی بنگش نے اپنے خطاب کاآغازان الفاظ سے کیاکہ سری نگرکوآزادکرونہیں تو دہلی کو ہم غلام بنالیں گے،انہوں نے کہاکہ آج ایک ایسی تاریخ مقررکرلیتے ہیں کہ اس دن تاریخ کارخ موڑ دیں،انہوں نے اپنے صدارتی خطبے میں بتایا کہ اپنی تعلیمی زندگی میں انہیں ایک استادصاحب کہاکرتے تھے کہ پیٹ اندرکرواورسینہ باہر نکالو کیونکہ اسی طرح ہی کشمیر آزادکراسکوگے،انہوں نے کہاکہ اس وقت سے کشمیر کی آزادی ان کے ذہن میں پیوست ہے اور جب کبھی بھی صف بندی ہوئی تووہ سب سے آگے ہوں گے۔آخر میں حبیب الرحمن چترالی نے شہدائے کشمیر کے لیے فاتحہ خوانی کروائی اوراس کے ساتھ ہی آج کی ادبی نشست اختتام پزیرہوگئی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے