۔،۔مشہوراشعارازگمنام شعرا۔محمدپرویزبونیری۔،۔

شعرادب کاحسن ہے۔کچھ اشعاراس قدرمشہورہوجاتے ہیں کہ موقع محل کی مناسبت سے بے ساختہ زبان پرآجاتے ہیں۔ایسے اشعار ادب کی زبان میں ضرب المثل اشعارکہلاتے ہیں۔کچھ عرصہ قبل میرے انتہائی قابل احترام دوست ادریس قریشی صاحب جوکہ ایک مزاحیہ شاعرکے حوالے سے کافی مقبول ہیں،نے یہ شعرکہا۔
ہمارادل تمہاری ہی محبت کے لئے ہے
مگریہ پیشکش محدودمدت کے لئے ہے
اسکے بعدایک دن ایم کیوایم کراچی کے راہنمافاروق ستارکی زبان سے ایک پریس کانفرس دوران بے ساختہ یہ شعراداہوا۔اب موصوف کیاجانیں کہ یہ شعرکس کاہے اورکس موقع پر کہاگیاہے، مگرادریش قریشی صاحب کایہ شعربھی ضرب المثل کی حیثیت اختیارکرچکاہے، جوخاص خاص موقعوں پر بے ساختہ زبان پرآجاتاہے اورسامعین کے ہونٹوں پر تبسم بکھیردیتاہے۔راقم چونکہ اردوادب کاطالب علم رہاہے اور ان شاء اللہ تادم مرگ رہے گاکیونکہ علم ایک ایسابے کراں سمندرہے، جس کاکوئی کناراہے نہ اسکی گہرائی کاکچھ پتاہے۔ اللہ تعالیٰ کے بے شماراحسانات جوہمیں ودیعت کئے گئے ہیں،میں ایک ادب دوستی ہے اوراس پر مستزاداردوادب کااستادہونے کاشرف بھی ہے۔ اسی وجہ سے اردوادب سے متعلق بہت سے سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کے لئے تحقیق کی روش کبھی ترک نہیں کرتے۔آ ج میں کچھ ایسے اشعار کاکھوج لگانے کی کوشش کرتے ہیں جوزبان زردخاص وعام ہیں اورلوگ دوران گفتگو اسکابے دھڑک استعمال کرتے ہیں، مگربہت کم لوگوں کواسکاماخذمعلوم ہوتاہے اوراکثراوقات اردوادب کے طلبا اوراساتذہ ایسے اشعارکے بارے میں نہیں جانتے اورغلط حوالے دیتے ہیں۔آئیں کچھ ایسے اشعارکاسراغ لگالیتے ہیں۔
غافل تجھے کرتاہے یہ گھڑیال منادی
گردوں نے گھڑی عمرکی اک اورگھٹادی
سکول اورکالجوں میں خطابت کے دوران اکثراس شعرکوعلامہ محمداقبال کے ساتھ منسوب کیاجاتاہے اوراسکاپہلامصرع اس طر ح پڑھتے ہیں، جوکہ غلط ہے۔ ” غافل تجھے گھڑیال یہ دیتاہے منادی”۔یہ شعرمحمدقدرت اللہ شوق کاہے، جن کاتعلق رامپور(اترپردیش) سے ہے اورانکاسب سے بڑاکارنامہ تذکرہ شعراالمعرو ف بہ طبقات الشعراء ہے۔مذکورہ بالا شعروقت کی قدروقیمت کے حوالے سے ہے، اس لئے اسکااستعمال بہت زیادہ ہے۔
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہواکرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خداکرے
یہ شعرشہیرمچھلی شہری کاہے، جس کے متعلق بہت کم لوگوں کوعلم ہوگاکیونکہ شہیرمچھلی شہری کانام کچھ زیادہ معرو ف نہ ہے جبکہ انکا مذکورہ شعرکافی مشہورہواہے۔ بعض لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے یہ لوگ یہ شعربھی مفت میں اقبال کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں۔شہیرمچھلی شہری کااصل نام سیدمحمدنوح ہے،جوکہ 1852ء میں اترپردیش کے مچھلی شہرمیں پیداہوئے تھے۔
چل ساتھ کہ حسرت دل مرحوم سے نکلے
عاشق کاجنازہ ہے ذرادھوم سے نکلے
مذکورہ شعربھی ضرب المثل کی حیثیت اختیارکرچکاہے۔خاص طورپر اس شعرکادوسرامصرع توکافی مشہورہواہے، مگراسکے شاعر کانام شاید کسی کو معلوم ہوابلکہ اکثراوقات ادب کے اساتذہ اورطلباء بھی انکے نام سے مانوس نہیں ہوتے۔یہ شعرفدوی عظیم آبادی کاہے۔
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کافیصلہ
جس دئے میں جان ہوگی وہ دیارہ جائے گا
محشربدایونی کامذکورہ شعراکثراوقات خطابت اوررنگین بیانی کے لئے استعمال ہوتاہے۔ بیان میں زورپیداکرنے اورحوصلہ، ہمت اورجذبہ بڑھانے کے لئے یہ شعراکثرتقاریرکے دوران بولاجاتاہے، مگراسکے شاعربھی گوشہ گمنامی میں پڑاہواہے۔محشربدایونی کااصل نام فاروق احمدتھا،جوکہ 1922ء کو بدایون میں پیداہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعدہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے اور1994ء کو کراچی میں وفات ہوئے۔
کسی کے آتے ہی ساقی کے یہ حواس گئے
شراب سیخ پہ ڈالی کباب شیشے میں
یہ شعر ایک دوست نے بڑے جرات کے ساتھ غالب کے ساتھ منسوب کیا اورساتھ ایک فرضی کہانی بھی سنائی کہ ایک محفل میں ایک نئے شاعرنے شعرکادوسرامصرع پڑھا۔محفل میں اسکی خوب جگ ہنسائی ہوئی، کہ اس دوران غالب نے اٹھ کر کہاکہ یہ شعرکادوسرامصرع ہے اورشعرکاپہلامصرع پڑھا،جس سے اہل محفل نے خوب داددی۔ مگرحقیقت یہ ہے کہ نہ تویہ واقعہ مستند ہے اورنہ کبھی غالب نے ایساکوئی شعریامصرع کہاہے۔اصل میں یہ شعر وزیرلکھنوی کاہے۔مذکورہ شعرکاپہلامصرع اکثردوست اس طرح پڑھتے ہیں۔ ” کسی کے آتے ہی ساقی کے ایسے ہوش اڑے “۔ جبکہ درست مصرع یہ ہے۔” کسی کے آتے ہی ساقی کے یہ حواس گئے”۔ ریختہ کی ویب سائٹ پر یہ مصرع ” کسی کے آتے ہی ساقی کے ایسے ہوش اڑے ” کے ساتھ یہ شعر میرناظرحسین ناظم کے ساتھ بھی منسوب کیاگیاہے، مگراصل شعر یہی ہے۔(بحوالہ انتخاب سخن صفحہ نمبر221)

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے