۔،۔چوہدری حاجی مشتاق احمد،چوہدری مظہر اقبال کی ہمشیرہ کے ایصال ثواب کے لئے محفل کا انعقاد۔،۔

شان پاکستان جرمنی روسلز ہائیم۔انا للہ و انا الیہ راجعون،چند یوم پہلے چوہدری حاجی مشتاق احمد،چوہدری مظہر اقبال کی ہمشیرہ اور چوہدری وقار احمد،چوہدری نثار احمد کی پھو پھی جان چند یوم پہلے پاکستان میں وفات پا گئی تھیں جن کے ایصال ثواب کے لئے چوہدری وقار احمد جو کسی تعارف کے محتاج نہیں کے کاشانہ پر دسویں کے ختم کا اہتمام کیا گیا جس میں تمام سیاسی،کاروباری اور مذہبی شخصیات نے حصّہ لیا،محفل کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے شروع کیا گیا جس کی سعادت مولانا محمد ذکریا نے حاصل کی نعت خواں حضرات نے نعت رسول ﷺ پیش کر کے خوب داد حاصل کی، علامہ عبد الطیف چشتی الازہری نے اس موقع پر موت اور موت کی حقیقت پر بیان فرمایا ان کا کہنا تھا کہ موت اور موت کی حقیقت کیا ہے، موت کو ہمارے ہاں درد ناک تصور کیا جاتا ہے، موت جدائی کا نام ہے،موت بھائی کو بھائی سے باپ کو بیٹے سے ماں کو بیٹی سے اور یار کو یار سے جدا کرنے کا نام موت ہے اور یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کے بعض اوقات انسان اپنی زندگی میں دیکھتا ہے مرنے والا تو مر جاتا ہے مگر اس وقت گھر والوں کو اس کی ضرورت ہوتی ہے مگر وقت مقررہ پر جب موت آ جائے تو ایک لمحہ کے لئے بھی اسے نہیں ٹالا جا سکتا اس لئے ہمارے نزدیک موت درد ناک چیز ہے، جو بھی پیدا ہوا ہے اس کو ایک نہ ایک دن موت کا مزہ چکھنا ہو گالیکن جب ہم اہل تصوف اہل محبت سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے نزدیک موت کیا ہے وہ فرماتے ہیں موت تو ایک پل ہے جو یار کو یار کے ساتھ ملاتا ہے،ادھر انسان کی آنکھ بند ہوتی ہے،قبر میں رکھا جاتا ہے اس کو اللہ کے نبی ﷺ کا دیدار نصیب ہو جاتا ہے،خصوصی طور پر حاجی افتخار الدین ارشدہ رضوان شاہ، سید حامد شاہ، طفیل حسین بٹ،فاروق بٹ، غلام شبیر گوندل، میاں جواد،چوہدری محمد یونس، حاجی محمد عارف، چوہدری اعجاز پیارا اور نذر حسین نے شرکت کی، ختم کے بعد طعام کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

بصد شکریہ فوٹو چوہدری اعجاز حسین پیارا

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے