۔،۔چین بے چین۔محمد ناصر اقبال خان۔،۔

حضرت سلمان ؑ اپنے دربار میں جلوہ افروز ہیں،جہاں جنات کی ایک جماعت بھی موجود ہے۔اس دوران حضرت عزرائیل ؑ وہاں تشریف لے آئے اورحضرت سلمان ؑ کی خدمت میں ادب سے سلام پیش کیا۔حضرت سلمان ؑ نے ان کی آمدکاسبب پوچھا توحضرت عزرائیل ؑ نے دربارمیں موجود ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عرض کیا اس کی روح قبض کرنے کاوقت آپہنچا ہے جس پرحضرت سلمان ؑ نے حضرت عزرائیل ؑ کوکچھ دیربعدآنے کا حکم دیا توملک الموت وہاں سے چلے گئے۔حضرت عزرائیل ؑ کے دربارسے چلے جانے کے بعد اس شخص نے حضرت سلمان ؑ سے درخواست کی آپ ان جنات میں سے کسی کوحکم دیں جومجھے ہزاروں میل دورکسی جزیرے میں پہنچا دے۔روایات کے مطابق حضرت سلمان ؑ کے حکم پرجنات نے اس شخص کوکسی دوردراز جزیرے پرپہنچادیا جہاں حضرت عزرائیل ؑ اس شخص کے منتظرتھے۔حضرت عزرائیل ؑ نے فرمایااچھاہواتم چلے آئے کیونکہ مجھے تعجب تھا کہ تمہاری جان قبض کرنے کامقام یہ ہے اورتم حضرت سلمان ؑ کے دربارمیں موجودہوتوکس طرح انتہائی مختصر وقت میں یہاں تک پہنچو گے،اس کے بعدقادروکارسازاللہ رب العزت کے حکم سے اس شخص کی روح پروازکرگئی۔ حیات کس وقت موت کی آغوش میں چلی جائے وثوق سے کچھ نہیں کہاجاسکتاکیونکہ زندگی سے زیادہ بیوفااورموت سے بڑی کوئی حقیقت نہیں۔اگر”محلے ” والے مرتے ہیں تو”محلات ‘ ‘میں بھی موت آتی ہے۔اگرافریقا سے پسماندہ ملک میں قبرستان ہیں توامریکا اوربرطانیہ میں بھی قبور کی کمی نہیں۔آج جو لوگ چین میں بے چین ہیں انہیں کسی ملک میں چین اورموت سے استثنیٰ نہیں ملے گا۔انسانوں سمیت خلقت کی زندگی اورموت خالق حقیقی کے اختیار میں ہے،کائنات کاکوئی جاندار موت سے راہ فراراختیارنہیں کرسکتا۔بحیثیت مسلمان ہماراموت کے وقت اورمقام پرایمان ہے،موت اپنے مقررہ وقت سے ایک دن تودرکنارایک سیکنڈبھی پہلے نہیں آسکتی۔جس کی مہلت ختم ہوجائے اسے زندگی خود موت کی دہلیز پر لے جاتی ہے۔دنیاکاکوئی ملک اورمقام ملک الموت کی دسترس سے دور نہیں۔ہر سال زمینی وآسمانی آفات اورحادثات کے نتیجہ میں ہزاروں انسان دار فانی سے کوچ کر جاتے ہیں۔کوئی ڈینگی مچھر اورکوئی کوروناوائرس کانشانہ بن جاتا ہے، ڈینگی مچھر یاکوروناوائرس سے بھاگناانسان کے بس میں ہوسکتاہے مگرموت سے کوئی نہیں بھاگ سکتاکیونکہ موت کی بیسیوں وجوہات ہیں۔آ ج سے ہزاروں برس قبل نمرود کی موت کاسبب بھی ایک مچھربناتھا۔وہ انسان جس کیلئے خلاؤں اورزیرسمندر گہرائیوں میں جانامعمولی بات ہے،جس نے انسانوں اور انسانیت کی نابودی کیلئے ایٹم بم بنالیامگر وہ ایک مچھر اورایک وائرس کے مدمقابل ڈھیرہوجاتا ہے،یہ حقائق غورطلب ہیں۔کوئی ٹائی ٹینک کے ساتھ غرقاب ہوجاتا ہے،ایک برف کی معمولی چٹان نے اس قدر جدیداوربڑے بحری جہاز کوچکناچورکردیا اورمحض چندگھنٹوں میں بچوں سمیت1503 مردوزن لقمہ اجل بن گئے۔اب تک کئی ہوائی جہاز تباہ ہوئے اوران حادثات میں ہزاروں انسانوں کی موت ہوئی۔ ہارٹ اٹیک سمیت متعددبیماریاں محض موت کاایک بہانہ ہیں۔ان پاکستانیوں سمیت وہ لوگ جوچین میں مقیم ہیں اوراب کوروناوائرس کے ڈر سے وہاں سے فوری طورپر اپنے اپنے وطن واپسی کے خواہاں ہیں ان سے سوال ہے کیا ان کے آبائی ملکوں میں انہیں موت نہیں آئے گی۔چین کوچھوڑ کر انہیں جہاں جانے کی عجلت ہے کیا وہاں کوروناوائرس نہیں آ سکتا، ان کے پاس اس بات کی کیاضمانت ہے۔وہ لوگ جوخوشی خوشی تعلیم یاروزگار کیلئے چین گئے تھے ان کا اس نازک وقت میں چینی قوم کوچھوڑکرراہ فراراختیارکرنامناسب نہیں۔ قادروکارساز اللہ رب العزت کے حبیب اورطبیب سرورکونین حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا،”جب تمہیں کسی سرزمین میں طاعون (نامی وبا) کاعلم ہوتواس سرزمین میں داخل مت ہو،اورجب کسی ایسی سرزمین میں ”طاعون ”پھیل جائے جہاں تم پہلے سے موجود ہوتواس سرزمین سے باہرمت نکلو “۔ایک دوسری روایت میں سراپارحمت حضرت محمد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاارشاد مروی ہے کہ ”جوشخص طاعون پرصبر کرے اس کیلئے شہید کے برابر اجروثواب ہے اورجوطاعون سے بھاگے وہ جہاد سے بھاگنے والے کی طرح ہے”۔عہدحاضر کی جدیدطبی سائنس نے بھی 1400 صدیاں قبل سراپارحمت حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد فرمائے اس ضابطے کووباؤں کے پھیلاؤکی روک تھام کانہایت موثر طریقہ قراردیا ہے۔بیجنگ میں پاکستان کی فرض شناس اورزیرک سفیرثمینہ مہتاب چین میں مقیم پاکستانیوں کی خیروعافیت اورصحت وسلامتی کیلئے انتہائی سنجیدہ، مستعداورمتحرک ہیں۔جس دن سے کوروناوائرس نے ہمارے مخلص دوست چین کے حکام اور عوام کوبے چین کیا ہے اس روز سے وہاں پاکستان کی پروفیشنل سفیر ثمینہ مہتاب کی تمام ترتوانائیاں اپنے ہم وطنوں کی فلاح اورحفاظت کیلئے وقف ہیں۔ثمینہ مہتاب کی چین میں مقیم ہم وطنوں کیلئے فلاحی سرگرمیاں اطمینان بخش اور قابل قدرہیں،یقینا وہ آئندہ بھی اپنے فرض منصبی کی بجاآوری میں کسی قسم کی کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی۔جس طرح کوئی ماں اپنے بچوں کوکسی بیماری،مصیبت یاآفت کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑسکتی اس طرح انتھک ثمینہ مہتاب بھی انتہائی اخلاص،انتظامی صلاحیتوں اوراپنے صادق جذبوں کے ساتھ ہم وطنوں کو ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے سرگرم ہیں،ان کاطلبہ وطالبات سمیت پاکستانیوں کے ساتھ بھرپوراورموثررابطہ ہے۔دیکھاجائے تو کوروناوائرس کے باوجود ثمینہ مہتاب اوردوسرے حکام خودبھی چین میں مقیم ہیں،کیاانہیں اپنی زندگیاں عزیز نہیں۔کیاکوروناوائرس کے ڈر سے انہوں نے یاچینی عوام نے چین چھوڑدیا ہے۔چین کے شہرووہان کی ایک مارکیٹ سے پھیلے کوروناوائرس سے چین میں اب تک 1113افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ متاثرین کی تعداد 44ہزار 653 ہوگئی ہے تاہم شفایاب ہونیوالے افراد کی گنتی بھی ہزاروں میں ہے۔ دنیا کے معرض وجود میں آنے سے اب تک حضرت انسان نے کئی ” بلاؤں ” اور”وباؤں ” کاسامنا کیا ہے لیکن ابھی تک قدرت نے کسی وبا یابلاکووہ سکت نہیں دی جو انسانیت کوفناکردے۔کوروناوائرس بھی انسانیت اورحضرت ا نسان کیلئے ایک نیا امتحان ہے،اس امتحان میں پاس ہونے کیلئے ہمیں ایک دوسرے کوبائی پاس نہیں کرنا بلکہ پاس دینا ہے۔کوروناوائرس صرف چین نہیں بلکہ دنیا کی ہرریاست یعنی انسانیت کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے،مقتدرقوتوں کواس خطرے کامقابلہ کرنے اوراسے شکست دینے کیلئے متحدہوناہوگا۔چین کی منتخب قیادت اورپرعزم قوم نے کوروناوائرس کی کمرتوڑنے کیلئے قمرکس لی ہے۔ کوروناوائرس میں انسانوں کی غفلت کادخل ہونے کے باوجودیہ ایک قدرتی آفت ہے جودنیا کے کسی بھی ملک میں آسکتی تھی۔اس وقت دنیا چین کوتنہا چھوڑنے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔چین کی درخواست کاانتظار کئے بغیر پاکستان کی طرح دنیا کاہرملک اس کی مدد کیلئے اپنابھرپورکرداراداکرے۔پاکستان کادوست اورہمسایہ ملک چین قیادت اورقوم کے معاملے میں خوش نصیب اورخودکفیل ہے لہٰذاء چینی قوم اس قدرتی آفت کارونارونے کی بجائے عنقریب ”کورونا”کو”قصہ پارینہ” بنادے گی۔پاکستان کی قدآور سیاسی شخصیات بالخصوص سینیٹر مشاہدحسین سیّد،پاکستان کے ممتازماہرمعدنیات اورممتازقانون دان میاں محمدسعید کھوکھر،انڈرسٹینڈنگ چائینہ جیسی متحرک تنظیم کے روح رواں اوردانشور شعیب بن عزیز، سماجی وکاروباری شخصیت اور کالم نگارعامر علی عامر، کئی بارچین کی سیروسیاحت اوروہاں تجارت کرنیوالے سلمان پرویز اور منفرداسلوب کی کالم نگار ثناء آغاخان سمیت پاکستان کے سنجیدہ طبقات اپنے مخلص دوست” چین ”کیلئے ”بے چین”اوردفاع کیلئے میدان میں ہیں۔سینیٹرمشاہدحسین سیّدکوروناوائرس سے پیداہونیوالی صورتحال کے بعد ہرطرح کاابہام دورکرنے کیلئے اپنامثبت اورموثر کرداراداکررہے ہیں۔سینیٹرمشاہدحسین سیّد مسلسل کئی دہائیوں سے پاک چین دوستی کے فروغ کیلئے جوتعمیری ایجنڈا لے کرچل رہے ہیں اس کے ہوتے ہوئے پاکستان میں بھارت کے چند بھگت چین کیخلاف منفی پروپیگنڈا اور پاکستانیوں کو گمراہ نہیں کر سکتے۔پاک چین دوستی کیلئے سینیٹرمشاہدحسین سیّدکادم غنیمت ہے۔انڈرسٹینڈنگ چائینہ کے سربراہ شعیب بن عزیزکی نیک خواہشات بھی چینی قیادت اورقوم کے ساتھ ہیں۔شعیب بن عزیزچین بارے ہرمنفی تاثرزائل کرنے کیلئے ڈٹ کرکھڑے ہیں۔کوروناوائرس سے نبردآزماہونے اوراس کاناطقہ بندکرنے کیلئے چینی قیادت اورقوم کابھرپورساتھ دیناہوگاچینی قوم نے ماضی میں بھی کئی چیلنجز کابردباری اوربہادری سے سامنا کیاہے،وہ عنقریب کورونا وائرس کابھوت بھی بوتل میں بندکردیں گے۔ پاکستانیوں کیلئے چین ان کا گہرادوست اوردوسراگھر ہے،ہم اپنے پڑوسی اور دوست کواس نازک وقت میں تنہا یابے یارومددگار نہیں چھوڑسکتے۔پاکستان کے چندعاقبت نااندیش سیاستدانوں سمیت وہ لوگ جواس وقت چین میں مقیم پاکستانیوں اوربالخصوص طلبہ وطالبات کی فوری وطن واپسی پر”پوائنٹ سکورنگ” کررہے ہیں،ان کی خدمت میں عرض ہے کیا پاکستان میں ڈینگی مچھر سے اموات نہیں ہوتیں توکیا ڈینگی مچھر کے ڈر سے پاکستان کے لوگ کسی دوسرے ملک چلے جایاکریں۔اس وقت چین کے شہر ووہان میں مقیم پاکستانیوں کاوطن واپس آناخودغرضی ہوگی کیونکہ اپنی جان بچانے کیلئے اپنے پیاروں اورکروڑوں پاکستانیوں کی جان داؤپرلگانا انسانیت اوراخلاقیات کے منافی ہے۔اللہ تعالیٰ کے حبیب اورطبیب سرورکونین حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان ذیشان کی رو سے چین میں مقیم پاکستانیوں کو اپنے پیاروں اور اپنے ہم وطنوں کی خاطر کورونا آفت سے نجات تک صبروتحمل کامظاہرہ کرناہوگا۔طاعون کی وبا سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر سمیت ہزاروں احادیث نبویؐ بیشک ہرعہد کے انسانوں کی” اصلاح” اور”فلاح ”کیلئے مینارہ نور ہیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے