۔،۔ رجب طیب اردگان۔ڈاکٹر ساجد خاکوانی۔،۔

رجب طیب اردگان جمہوریہ ترکی کے بارہویں منخب صدرہیں۔اس سے قبل وہ بلدیہ استنبول کے ناظم(مئیر)(1994-1998)اورترکی کے منتخب وزیراعظم(2003-2014) بھی رہ چکے ہیں۔ترکی کی ایک اسلام پسندسیاسی جماعت ”جماعت عدل و ارتقاء ترکی(Justice & Development Party,Turkey)“کے سربراہ ہیں۔عام انتخابات میں اپنی سیاسی جماعت کی کامیابی اورپارلیمان میں واضع اکثریت کے بعد 28اگست2014ء سے اپنے ملک کے صدر ہیں۔اس سے قبل وہ اکتوبر2009ء میں بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دورہ پر تشریف لائے تھے اور انہیں سب سے بڑے شہری اعزاز”نشان پاکستان“سے نوازاگیاتھا۔ان کی بین الاقوامی پزیرائی کااندازہ اس بات سے بھی کیاجاسکتاہے کہ فروری2004ء میں جب وہ جنوبی کوریاکے دورہ پر گئے تھے اورفروری2009ء میں جب ایران کے دورے پر تہران گئے تھے تودونوں ملکوں نے انہیں اپنی اعزازی شہریت پیش کردی تھی۔جب کہ مقامی طورپر وہ ترک عوام کے دلوں میں بستے ہیں اورخلافت کے بعد ہردل عزیزترین شخصیت کے طورپر ترکی کے قائد بن کر ابھرے ہیں۔ترکی کے عوام نے اپنی اس محبت کا ثبوت اس وقت دیا جب 15جولائی 2016ء کی شب تاریک میں ترک فوج کے کچھ سیکولر جرنیلوں نے ایوان اقتدارمیں نقب لگانے کی کوشش کی اور ملک میں مارشل لاء نافذکردیا،لیکن فرزندان توحیدترک شہریوں کے غول کے غول اورجھنڈ کے جھنڈفوج درفوج گھروں سے نکلے اور فوجی ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے اور یوں بددیانت،بدکرداراور ریاست کے غدارجرنیلوں کی یہ مکروہ سازش ناکام ہوگئی۔رجب طیب اردگان 26فروری1954کو پیداہوئے۔یہ ترکی کے مشہور اورتاریخی شہر استنبول کے ایک ضلع ”بے اوغلو“ کاایک محلہ ہے جس کانام”محلہ قاسم پاشاہے“ہے۔ان کے والد محترم کا نام جناب احمد اردگان(1905-1988) اور آپ کی والدہ محترمہ آنسہ تنزیلہ اردگان(1924-2011)تھیں۔یہ ایک غریب خاندان تھا جسے فکر معاش میں اپنی مقامی ضلع سے ایک اورشمال مشرق میں واقع ”ریزہ“نامی ضلع میں منتقل ہوناپڑا۔نئے مقام پر والد محترم نے ترکی کے ساحلی محافظ تنظیم میں کپتان کی حیثیت سے ملازمت اختیارکرلی اور رجب طیب اردگان کابچپن اور ابتدائی زندگی یہیں پر بسرہوئی تاہم گرمیوں کی چھٹیوں میں وہ اپنے آبائی علاقے ضرور جاتے تھے۔رجب طیب اردگان 13سال کے تھے جب ان کے خاندان نے استنبول میں مستقل رہائش اختیارکرلی۔عملی زندگی کے دوران بھی رجب طیب اردگان کاقلبی تعلق اپنے آبائی علاقے سے رہااوروہ کثرت سے یہاں آتے جاتے رہے۔یہاں تک کہ 2015ء میں آپ نے اپنے آبائی گاؤں کی قریبی پہاڑی چوٹی پر بہت بڑی مسجد تعمیرکی۔لڑکپن کے زمانے میں نوجوان رجب طیب اردگان کو ڈھائی لیراکے حساب سے جیب خرچ ملتاتھاجو ایک امریکی ڈالر سے بھی کم کی رقم تھی۔نوجوان رجب طیب اردگان اس رقم سے پوسٹ کارڈزخریدتااور ان کو گلیوں میں معمولی منافع پر فروخت کرتا،یا گرمیوں کے دنوں میں چوک پر رکی ہوئی گاڑیوں والوں کو ٹھنڈے پانی کی بوتلیں فروخت کرتایاکبھی کبھی سفیدکوٹ پہنے ڈبل روٹی سے بنی کھانے کی چیزیں بیچتانظر آتااوراپنا خرچہ نکال لیتااور والدین پر بوجھ نہ بنتابلکہ ان کے ساتھ خانگی اخراجات میں معاشی و مالی تعاون بھی کرتا۔آغازشباب میں رجب طیب اردگان فٹ بال کے بہت اچھے کھلاڑی تھے اور مقامی سطح پر بہت معروف بھی تھے۔وہ مقامی سے قومی سطح پر اس کھیل میں آگے جانا چاہتے تھے لیکن بوجوہ والد محترم نے منع کر دیااور نوجوان نے باپ کے حکم پر سرتسلیم خم کیاجس کے نتیجے میں آج شہرت کی بلندیاں ان کے قدموں پر نچھاورہیں۔مذہب کے ساتھ وابستگی بھی آپ کی شخصیت کا خاصہ رہی ہے،چنانچہ آپ بہاؤالدین نقشبندی بخاری کے سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت تھے اور اس تصوفانہ تنظیم کے بیٹھکوں میں اصلاح باطن کے لیے باقائدگی سے شریک ہوتے تھے۔رجب طیب اردگان نے 1965ء میں گریجوئشن کی سند حاصل کرلی تھی۔اس کے بعد انہوں نے ”مدرسہ امام حاطب“ میں داخلہ لیاجہاں انہوں نے قرآن مجید،سیرت النبیﷺاورعربی زبان و ادب پر عبورحاصل کیا۔ہم جماعتوں میں سب سے آگے ہونے کے باعث ہم جولی انہیں مولوی صاحب کہاکرتے تھے۔انہوں نے ترکی کی ایک اسلامی مذہبی گروہ میں بھی شمولیت اختیارکی جس کامقصدنوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مغربی تہذیب کاسدباب تھا۔اس گروہ میں ان کاخطاب بے مثال ہوتاتھااور ان کے خطاب کے دوران محفل میں مکمل سکوت طاری رہتاتھا۔انہیں ایک مرتبہ خطابت کے دوران پراثراشعارکی ادائگی پر انعام بھی ملا۔مزیدتعلیم کے لیے وہ ”مکتب ملی“میں داخلہ لیناچاہتے تھے جوترکی کا مایہ نازادارہ ہے جہاں سے فارغ التحصیل متعدد نوجوان ملک کی اعلی ترین قیادت کاحصہ بنے،لیکن ادارے کے کچھ قوانین حائل تھے جس کے باعث رجب طیب اردگان نے اسی سطح کے ایک اورادارے ”مدرسہ ادارہ ایوپ“سے سندفراغت حاصل کی۔تعلیم کے آخری مراحل میں انہوں نے ایک مقامی جامعہ ”تنظیمیات مالیہ(Buisiness Administration)“کادرجہ کمال حاصل کیا۔”امینہ اردگان(پیدائش:16فروری1956)“شریکہ حیات بن کر زندگی میں داخل ہوگئیں،یہ 4فروری1978ء کی یادگارتاریخ تھی۔یہ خاتون نسلاََ عرب خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اپنے والدین کی پانچ بچوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔اس خوش بخت جوڑے کے چاربچے ہیں،احمداوربلال دو بیٹے اوراسرااورسمیہ دو بیٹیاں۔رجب طیب اردگان نے 1976ء میں ”قومی ترکی طلبہ اتحاد“میں شمولیت اختیارکی جو دراصل اس وقت اشتراکی فکرکے خلاف ایک تحریک تھی۔اسی سال انہوں نے قومی سیاسی جماعت (MSP)کی رکنیت بھی حاصل کرلی اور بعد میں اس جماعت کے شعبہ نوجوانان کے نگران بھی مقررہوگئے۔1980ء تک وہ اسی عہدے پررہے،ملکی مارشل لاء کے باعث انہوں نے اگلے تین سال سیاست کی بجائے فلاحی امور میں اپنی خدمات پیش کیے رکھیں۔1983میں وہ ترکی کی اسلامی جماعت میں باقائدہ داخل ہوگئے۔اپنے دینی مزاج کے باعث انہوں نے اس اسلامی جماعت میں بہت جلد بہت بڑامقام حاصل کرلیااور جماعت کے مرکزی قائدین میں ان کاشمار ہونے لگا۔1991کے عام انتخابات میں وہ رکن پارلیمان منتخب توہوئے لیکن بوجوہ وہ اپنی نشست حاصل نہ کرسکے۔27مارچ1994کے بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے اس حدتک کامیابی حاصل کی کہ تقدیرخداوندی نے انہیں استنبول جیسے شہر کا ناظم(مئیر)بنادیا۔ان سے قبل یہ بین الاقوامی وتاریخی شہر گندگی کاڈھیر،آلودگی کی آماجگاہ اور ٹریفک جام کاعالمی مظہر تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اب تک سیکولرقیادت نے ترکی کے اسلام پسند عوام پر اپنے پنجے گاڑھ رکھے تھے۔دینی قیادت کے آتے ہی شہر کی قسمت ہی بدل گئی۔رجب طیب اردگان کے دورنظامت میں اس شہر نے دنیائے عالم میں اپنا جائزمقام حاصل کرلیااور دنوں ہی دنوں میں یہ شہر طہارت و نظافت اور ٹریفک میں تنظیم و ترتیب کا مرقع نظر آنے لگا۔ٹریفک کے لیے انہوں نے پچاس سے زیادہ پل اور بیسیوں میل لمبی اورچوڑی چوڑی شاہرات تعمیر کیں،پانی کی قلت ختم کرنے کے لیے سینکڑوں کلومیٹرطویل پائپ لائنیں بچھائیں،فضائی آلودگی کاتدارک کیااورسب سے بڑی بات یہ کہ ہرسال اربوں کی رقوم کاخسارہ دینے والی بلدیہ ایک دینداراورمذہبی قیادت کے باعث منافع بخش ادارہ بن گئی۔رجب طیب اردگان کی اس بہترین اور قابل تقلید کارکردگی کے باعث انہیں آنے والے دنوں میں ملک کا پہلے وزیراعظم اور پھر صدر چن لیاگیا جس مقام پر وہ اس وقت فائز ہیں۔انہوں نے ملکی قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے کام کا متبرک آغازبھی کردیاہے جس کے باعث ایک زمانے میں خواتین کے سکارف لینے پر پابندی تھی جب کہ اس وقت ملک کی خاتون اول بھی باشرع سکارف میں نظرآتی ہیں۔دورغلامی کے بعد سے اسلامی ملکوں پربڑی چابکدستی سے مغربی جمہوری نظام یاملوکیت کے ذریعے سیکولرقیادت مسلط کردی گئی تھی۔ترکی اس سازش کابری طرح شکارہوااور کمال اتاترک نے جہاں خلافت عثمانیہ کااختتام کر کے امت کو سیاسی دینی قیادت سے محروم کیاوہاں مملکت سے اسلامی شعائرکابھی قلع قمع کرکے سیکولرازم کوتھوپنے کی بھونڈی کوشش کی۔ترکی کے اسلام پسند عوام نے بڑی بیدارمغزی کے ساتھ سیکولر قیادت کو مسترد کر کے اسلام پسند قیادت کو پسندکیاہے۔ترکی کانمونہ باقی اسلامی ملکوں کے عوام کے لیے مثال کی حیثیت رکھتاہے۔کم و بیش تمام مسلمان مماک میں سیکولرقیادت نے بدعنوانی اور دہشت گردی کی اندھیرمچارکھی ہے،طاغوت کے یہ نمائندے امت مسلمہ کے وسائل سے اپنے مغربی آقاؤں کادوزخ بھرتے ہیں،ان آقاؤں کی آشیربادکے لیے مسلمانوں کی نسلوں کو انگریزی نظام تعلیم سے آلودہ کررہے ہیں اورانہیں غلامی کی تربیت دے کر مسلمانوں کے بہترین اذہان کو برآمدکردیتے ہیں تاکہ دشمن ممالک ترقی کریں اور باقی ماندہ عوام ان سیکولرحکمرانوں کے زیرنگین رہیں۔ترکی کی موجودہ اسلام پسندقیادت سے امت کی بجاتوقع ہے کہ صدسالہ معاہدے کی مدت ختم ہوتے ہی خلافت اسلامیہ کی تجدیدعمل میں لائی جائے گی تاکہ امت مسلمہ کو اورکل عالم انسانیت کواس ظالمانہ سیکولرواستحصالی سرمایادارانہ نظام سے نجات دلاکر خطبہ حجۃ الوداع کی چھاؤں تلے آسودہ راحت کردیاجائے،ان شااللہ تعالی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے