۔،۔ بدھ مذہب کی عیدنروانا۔Nirvana Day۔ڈاکٹر ساجد خاکوانی۔،۔

نروانا کا دن سری مہاتما گوتم بدھ کا یوم وفات کے طور پر منایا جاتا ہے کیونکہ اس دن مہاتمابدھ نے جسم کے قالب سے ہمیشہ کے لیے نکل کر ہمیشہ کی کامیابی و کامرانی کے پیرائے میں ابدی حیات جاودانی حاصل کی جسے بدھ مت کی اصطلاح میں ”نروان“کہتے ہیں۔مہاتما بدھ کی زندگی میں تین دن بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں جس دن وہ پیدا ہوئے،جس دن انہیں بصیرت یا ہدایت الہام ہوئی اورجس دن وہ اس دنیاسے رخصت ہوئے۔بصیرت یا حصول ہدایت کے بعد تا دم آخریں کم و بیس پنتالیس سالوں تک انہوں نے تبلیغ وا شاعت کاکام کیا۔یہ 483قبل مسیح کی بات ہے جب اسی(80) سال کی عمر میں ایک روز مہاتما بدھ بیمار ہوئے،یہ ”بیلوا“کا قصبہ تھااور ”آنندا“جو گزشتہ پچیس سالوں سے مسلسل مہاتما بدھ کاہمراہی تھا،پاس بیٹھا تھا۔بقول”آنندا“ کے مہاتما بدھ اپنا خلیفہ مقرر کیے بغیر اس دنیاسے رخصت نہیں ہونا چاہتے تھے۔اس مقصد کے لیے مہاتما بدھ نے ”کرنڈا“کاسفر کیااورپنڈتوں کا ایک گروہ بھی ساتھ تھا۔ ایک مقام پرکھانا کھانے کے بعدمہاتما نے کچھ نصیحتیں کیں جو بدھ مت کی مقدس کتاب ”سترہ“میں تحریر ہیں۔ان نصائح پر مبنی آخری کلمات کے ساتھ ہی مہاتما بدھ قومے میں چلے گئے اور پھر اس دنیاسے گزر کر ”نروان“کی منازل کو پاگئے اور ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے،یہی دن بدھ مت کے پیروکاروں کے ہاں ”یوم نروان“کے نام سے منایا جاتاہے۔بدھ مت کے پیروکار ”یوم نروان“ اس فکرومراقبے میں مناتے ہیں کہ وہ کس طرح مہاتما بدھ کے دیے گئے اصولوں پر مبنی زندگی گزار کر تو نروان کی ابدی زندگی کو حاصل کر سکتے ہیں۔گویا یہ دن فکر آخرت کا دن ہوتا ہے جس میں اپنی موت اور اپنے پیاروں کی موت کو یاد کیاجاتاہے۔اس دن بدھ مت کے پیروکاروں کی کثیر تعداد سفید کپڑوں میں ملبوس ہوکرمذہبی عبادت گاہوں کارخ کرتی ہے،خانقاہوں اور معبدوں میں یہ دن بہت رونق اور زائرین کی کثرت کا دن ہوتاہے،کھانے پکائے جاتے ہیں جبکہ بعض افراد قسم قسم کے کھانے ساتھ بھی لے کر آتے ہیں اور خاص طور پر دوپہر کا کھانا اکٹھے تناول کرتے ہیں۔نقد رقم،گھریلو اشیااور کپڑوں سمیت متعدد دیگرسامان زینت وتحائف بھی بکثرت دیکھنے کو ملتے ہیں اور ہر شخص یا ہر خاندان اپنے ذوق کا سامان ساتھ لاتاہے۔اس موقع پر مقدس کتاب کے کچھ اجزا بھی پڑھ کر سنائے جاتے ہیں جن میں مہاتمابدھ کے اقوال درج ہیں اور ماضی قریب میں گزرے ہوئے بزرگوں کو بھی کثرت سے یاد کیاجاتاہے۔یہ دن بدھ مت میں عام طور پر اور ”مہایانا“بدھ مت کے پیروکاروں میں خاص طور پرعید کی طرح منایا جاتاہے۔”نروان“ایشیائے بعید کے دو بڑے مذاہب بدھ مت اور جین مت کی کثیرالاستعمال اصطلاح ہے۔”نروان“دراصل سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کالفظی مطلب اخراج یا خروج ہے۔اصطلاحاََاس سے مراد جسم کی آلودگیوں سے بچتے ہوئے عظیم خوشی کا حصول اورہمیشہ کی فنا پزیری ہے جس کے نتیجے میں صلح و آشتی حاصل ہو جاتی ہے اور کینہ،بغض اور دشمنی و لالچ و حرص و طمع سے نجات مل جاتی ہے۔دین اسلام کی اصطلاح میں اسے فلاح ابدی بھی کہاجا سکتاہے جو تقوی اور خشوع و خضوع سے عبارت ہے۔بدھ مذہب کے مطابق ”نروان“کایہ مقام موت کے بعد حاصل ہوتاہے جب روح جسمانی قالب سے نکل کر کائنات کی وسعتوں میں حلول کر جاتی ہے۔نروانا کامقام حاصل کرنے کے لیے سری مہاتما گوتم بدھ نے اپنے شاگردوں کو سالوں پر محیط دورانیے کی طویل مشقیں سکھائی تھیں۔ان مشقوں کی مشقت کے نتیجے میں روح کی پاکیزگی حاصل ہوجاتی ہے۔مہاتما بدھ کے مطابق ہر انسان میں جوہر شرافت و معصومیت ودانش پہلے سے موجود ہوتاہے،نروانا کی مشقیں اس جوہر کو دنیاوی آلودگیوں سے پاک کرتی ہیں اوردنیاکی مہلت کوبھلے طریقوں سے گزارنے کے نتیجے میں جب موت آتی تو نتیجۃ نروانا کی منزل حاصل ہو جاتی ہے اورروح کو ”مکشا“یعنی نجات مل جاتی ہے۔بدھ مت کے تصورات میں انسان کے کئی جنم ہیں اور ہر زندگی کے بعد اگلی زندگی میں اس کی پیدائش مکررواقع ہوتی ہے۔ہندؤں میں بھی اس سے ملتاجلتاایک عقیدہ ”سام سارا“ پایا جاتا ہے جس کا مفہوم ”کرما“کے پس منظر میں زندگی،موت اور پھر اگلی زندگی کا وجود ہے۔جبکہ بدھ مت کے مشہور فرقے”مہایانہ“کے ہاں یہ فکری بالیدگی اور ذہنی ارتقا کی منازل ہیں۔اس کے مقابلے میں بدھ مت کے دیگرفرقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ ”سام سارا“آغاز ہے جبکہ ”نروان“انجام کا دوسرانام ہے۔بدھ مت کے تصورات کے مطابق ”نروان“ کی منزل صالح ارواح کا آخری اور منطقی انجام ہوتاہے۔ہندو مت کے ”نروان“اور بدھ مت کے ”نروان“میں ایک خفیف فرق ہے کہ ہندو مت کے مطابق ”نروان“کی آخری منزل ”پری نروان“ہے جہاں روح کی پیدایش در پیدائش کے مرحلے بلآخر ختم ہو جاتے ہیں ”جونی چکر“اور ”اواگان“ کے تصورات بھی کم و بیش انہیں افکار کے حامل ہیں جبکہ بدھ مت میں ”نروان“کبھی نہ ختم ہونے والی ابدی و اخروی سچائی ہے اورمہاتما بدھ کے مطابق انسانی فکر و فہم اس کے انجام کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔بدھ مت کے اندر بھی ”نروان“کی ذیلی تشریحات میں کسی قدرمعمولی سا اختلاف واقع ہوا ہے۔بدھ مت میں تین بڑے بڑے فرقے ہیں ”مہایانا“،”ہنایانا“اور”طنطرانا“۔”مہایانا“کا مطلب بڑی گاڑی ہے اور ”ہنایانا“کامطلب چھوٹی گاڑی ہے۔”ہنایانا“میں چھوٹی ہونے کے باعث چونکہ ایک منفیت پائی جاتی ہے اس لیے اب اس نام تبدیل کر کے تو ”تھراوادہ“رکھ دیاگیاہے۔ ”مہایانا“بدھ مت،جو کہ چین،تبت،کوریااورجاپان میں پہلی صدی مسیحی سے رائج ہے،”مہایانا“بدھ مت کے مطابق ”نروان“کا حصول دوسروں کی خدمت سے اور دوسروں کو تکالیف وآذاراورپریشانیوں سے نجات دلانے میں پوشیدہ ہے،جبکہ ”تھراوادہ“(سابقہ ”ہنایان“)بدھ مت کے مطابق سکون و سکوت کے ذریعے اپنی ذات میں ہدایت و راہنمائی کوروشن کرنے سے ”نروان“حاصل ہوجاتاہے۔”مہایانا“بدھ مت کے پروہت اعتراض کرتے ہیں کہ ”تھراوادہ“بدھ مت والے اس معاملے میں خود غرض واقع ہوئے ہیں۔”تھراوادہ“بدھ مت سری لنکا،برما میانمار اور تھائی لینڈ کے علاقوں میں رائج ہے۔یہ اختلاف دراصل ”بدھ“کی حیثیت میں اختلاف کا ثمرہ ہے۔”تھراویدہ“بدھ مت کے نزدیک مہاتما بدھ محض ایک معلم اخلاق تھے جبکہ ”مہایانا“بدھ مت کے نزدیک بدھ کے پاس کل دنیاکی ہدایت و رانمائی کاایک دستور تھاگویا وہ کل دنیا کے نجات دہندہ تھے اور ان کی تعلیمات میں کل عالم انسانیت کے لیے اصول ہائے زندگانی موجود تھے۔”مہایانا“چونکہ قدامت پسند واقع ہوئے ہیں اس لیے ان کے ہاں تصور ”نروان“ بہت وسیع ہے اور اس فرقے کے پروہت اسے تین بڑے حصوں میں تقسیم کرتے ہیں،پہلا”سنیاتا“یعنی خلا یا خالی ہونا،دوسرا”دھرماکایا“یعنی بدھ کے مقاصد سے ہم آہنگی حاصل کرنا اور تیسرااورآخری ”دھرماداتو“یعنی حقیقت ابدی۔”مہایانا“اور”طنطرانا“کے تصورات معمولی فرق کے ساتھ یکساں ہیں تاہم ان کی عبادت و ریاضت کی مشقوں میں کافی فرق واقع ہواہے۔تاریخ شاہد ہے کہ مذاہب نے ہی انسان کو انسانیت کا درس دیاہے،اگر انبیاء علیھم السلام اس دنیامیں تشریف نہ لاتے توکرہ ارض پر ”انسانیت“کاوجود ہی نہ ہوتااور حضرت انسان کسی بھی جنگلی درندے سے کہیں زیادہ وحشت و بربریت کے باعث اپنی نسل ہی اپنے حلق سے نیچے اتار چکاہوتا۔بدھ مت کے پیش کردہ تصورات میں واضع طور پر الہامی ادیان کی تعلیمات کا عکس دیکھاجاسکتاہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آغاز میں یہ مذہب بھی آفاقی علوم وحیہ پر بنیاد کرتاہوا نظام فکروعمل ہوگا۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ زبان کی تبدیلی کے باعث جب مقدس نسخوں کے تراجم کا وقت آیاتو تحریف کے راستے عقائد میں بگاڑاس مذہب میں داخل ہوگیا۔پھر بھی یہ امر بخوبی مشاہدہ کیاجاسکتاہے کہ توحید جیسا عقیدہ اگر چہ کہیں نظر نہیں آتالیکن عقیدہ آخرت جہاں اپنی پوری قوت سے موجودہے وہاں بانی مذہب کے احترام کے استعارے میں نبوت کی کرنیں بھی نظر آرہی ہیں۔مذہب سے سیاست کو علیحدہ کرنی والی سیکولرفکر کے رد میں یہ بات کافی ہے کہ بدھ مت نے ایک حکمران سیاسی خاندان میں جنم لیااور تاریخ کے طویل دھاروں میں سیاست کے لبادہ اوڑھے شاہی خاندان اور بادشاہان وقت ہی اس مذہب کی آبیاری کرتے رہے۔اب اگر چہ سیاست کو بدھ مت سے الگ سمجھاجاتا ہے لیکن برما میں حالیہ فسادات میں بدھوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام نے ایک بار پھر سیکولرازم کی نفی کر دی ہے کہ صدیوں کی کاوش کے باوجود مذہب کو سیاست سے جدانہیں کیاجاسکا۔دنیامیں ”برداشت“کاسب سے بڑادعوے دار بدھ مت ہے اور اسی مذہب کے ہاتھوں برما جیسے ملک میں ہزارہا مسلمان محض مذہبی بنیادوں پر تہہ تیغ کیے گئے اور سینکڑوں مسلمان بستیاں نذرآتش کر دی گئیں تب اس مذہب کی انسان دوستی کہاں گئی؟؟؟۔پس درس انسانیت آج بھی گزشتہ تمام مذاہب کے خاصے کی صورت میں صرف اسلام کی آفاقی تعلیمات میں اور نبی آخرالزماں ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع سے ہی عیاں ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے