۔،۔ جرمنی کے شہر ہناوُ میں گیارہ افراد ہلاک،قاتل نے خود کشی کر لی۔نذر حسین۔،۔

ہناوُ کی ایک شیشہ بار (حقہ بار)میں اندھا دھند فائرنگ کے بعد سپیشل پولیس Spezialeinsatzkommando جب گھر کا دروازہ توڑ کر قاتل کے گھر گھسی تو صرف دو لاشیں برآمد ہوئیں 43 سالہ قاتل اور اس کی 72سالہ ماں کی لاش۔ نسل پرست تینتالیس سالہ جرمن کی پیدائش بھی ہناوُ ہی کی ہے-
شان پاکستان جرمنی ہناوُ۔فرینکفرٹ کے مشرق میں واقع ہناو Hanauُ کا شہر جس کی ٹوٹل آبادی تقریباََ 94000کے لگ بھگ ہے گذشتہ رات بدھ کی شام رات کو دس بجے ایک شخص گاڑی سے اُتر کر شیشہ بار (حقہ بار) میں جاتا ہے شیشہ بار کے ارد گرد کی عمارتیں گولیوں کی ترخاڑ سے گونج اُٹھتی ہیں اور اندھا دھند فائرنگ کر کے باہر آ جاتا ہے پھر گاڑی میں سوار ہوتا ہے اور ہناوُ کیسل سٹڈٹKesselstadt کا رُخ کرتا ہے جس کی ٹوٹل آبادی 12000 کے لگ بھگ ہے راستہ میں ایک گاڑی پر فائرنگ کر کے ایک اور قتل کرنے کے بعد دوسری شیشہ بار میں گھستا ہے وہاں پر بھی شیشہ بار کے ارد گرد کی چھائی خاموشی گولیوں کی گونج سے بیدار ہو جاتی ہے اور بار میں بیٹھے لوگ دوڑ کر سڑک پر آ جاتے ہیں اسی بھگ دھڑ میں فائرنگ کے بعد سکون سے گاڑی میں بیٹھ کر چلا جاتا ہے عینی شواہد کے بتانے پر پولیس قاتل کے گھر پر سپیشل پولیس کی گارڈ کے ساتھ جا پہنچتی ہے، سپیشل پولیس Spezialeinsatzkommando فیملی ہاوُس کا دروازہ توڑ کر اندر گھستی ہے تو لاشیں برآمد ہوتی ہیں قاتل نے اپنی بہتر سالہ ماں کو قتل کرنے کے بعد خود کشی کر لیتا ہے ایسے بدھ کی شام کو گیارہ لوگ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ گذشتہ رات کے واقعہ نے نہ صرف جرمنی اور یورپ بلکہ پوری دنیا کو جھنجوڑ کر رکھ دیا، آج شام کو جرمنی کے تقریبا,ََپچاس شہروں میں، فٹ بال کی گراونڈ میں اور پارلیمنٹ میں بھی مرنے والوں کے لئے خاموشی اختیار کی گئی، مسجدوں اور چرچوں میں بھی مرنے والوں کے لئے دعائیں کی گئیں، جرمنی کے صدر فرانک والٹر سٹائن مائیرFrank-Walter Steinmeier۔ Bundesprasident نے اپنے خطاب میں کہا کہ مارنے والے نے تو جارحانہ قوم پرستی اور نسل پرستی کے نام پر قتل کر دیئے مگر پوری جرمن قوم اور جرمنی میں بسنے والا ہر شہری مرنے والوں کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اسی لئے پوری جرمنی میں غم اور سوگ منایا جا رہا ہے۔ ہیسن کے منسٹر فولکر بوفیئر Volker Bouffier اور فرانک سٹائین مائیئر Frank-Walter Steinmeierنے پھولوں کے کرانس مرنے والوں کی یاد میں رکھے۔ہناوُ Hanau میں مبینہ طور پر نسل پرستانہ تحریکوں کے قتل کے لئے مختلف جماعتوں کے سیاستدان جرمنی کی سیاسی پارٹی اے۔ایف۔ڈیAlternative für Deutschland کو اس واقعہ کا ذمہ دار بھی ٹھہراتے ہیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے