۔،۔ ناکام ترین نیب انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن۔ ( پہلو۔صابر مغل ) ۔،۔

پاکستان میں اس وقت بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف تین معتبر ادارے کام کر رے ہیں جن میں سر فہرست قومی احتساب بیورو،ایف آئی اے اور صوبائی سطع پر اینٹی کرپشن،کاکردگی کے لحاظ سے ہٹ کران تینوں محکموں میں تفتیش کے حوالے سے جو مماثلت ہے وہ یہ کہ پہلے الزام الیہ کی مکمل انکوائری کے بعد ان کے خلاف کیس دائر کیا جاتا ہے،محکمہ انٹی کرپشن کا تو شروع دن سے ہی کام نرالا اور ناوکھا رہا جسے انٹی کرپشن کی بجائے ادارہ فروغ کرپشن بھی کہا جاتا رہا اس وقت کی مجموعی طور اس کی کاکردگی کچھ خاص نہیں،ایف آئی اے کے پاس نہ صرف بدعنوانی کے مقدمات بلکہ اس پر اور بہت بوجھ یا کام ہے،وفاقی سطع کی ہر انکوائری نہ صرف اس پر لازم ہے بلکہ وہ ائیر پورٹس،بارڈرز انٹری پوائنٹس،انسانی اسمگلنگ کے خلاف کاروائی سمیت اس کے کئی سیل ہیں،1997میں میاں نواز شریف نے احتساب کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ایک ادارہ قائم کیا اوراپنے چہیتے ممبر سینٹ سیف الرحمان کو اس کا پہلا چیرمین بنا ڈالا،نواز شریف کی حکومت کے خاتمہ کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف نے 16نومبر1996کو ایک صدارتی فرمان کے مطابق پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 270AAکے تحت قومی احتساب بیورو کو ایک مکمل اور کود مختیار ادارہ کی صورت میں قائم کر دیا،موجودہ چیرمین جسٹس ریٹائڈ جاوید اقبال سے قبل سیف الرحمان،ایڈمرل (ر)ذکا اللہ،لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول،لیفٹیننٹ جنرل (ر)محمد امجد،لیفٹیننٹ جنرل (ر)شاہد عزیز،نود احسن،جسٹس (ر) دیدار حسن،ان کا چیرمین شپ سب سے کم عرصہ پر محیط ہے،ایڈمرل (ر)فصیح بخاری،سابق بیوروکریٹ چوہدری قمر الزمان اس عہدے پر برجمان رہ چکے ہیں،11اکتوبر 2017کو میاں نواز شریف اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی مشاورت سے ان کی تقرری عمل میں آئی،نیب کا آئینی طور بنیادی ماٹو بدعنوانی کو ختم کرنے کا کام بذریعہ بچاؤ،آ گاہی اور جری ہے،نیب کا ہیڈ کوراٹر جمہوریت روڈ اسلام آبادپر قائم ہے جبکہ وفاقی،چاروں صوبوں کے صدر مقام کے علواہ چند ریجنل آفس جیسے ملتان اور سکھر بھی قائم ہیں،اس کے مستقل ملازمین کی تعداد 1500 کے قریب ہے،جبکہ کنتریکٹ پر بھرتی ہونے والے اور مختلف محکمہ جات سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے سفارشی تفتیشی افسران کی تعداد الگ ہے،پرویز مشرف دور مین نیب کو پلی بارگین کے اختیارات آرٹیکل 25کے دو حصوں پر مشتمل شقوں کے ذرعیے تفویض ہوئے،پلی بارگین کی منظوری کے بعدلوٹ مار کی گئی رقم سے حاصل ہونے والی رقم کا25فیصد حصہ متعلقہ تفتیشی افسران میں مشترکہ طور پر تقسیم کیا جاتا ہے، تاریخی اعتبار سے دیکھ اجائے تو بظاہر بہت کاکردگی مگر نیب میاں نواز شریف کے خلاف2،اسحاق ڈاراور میاں منشا کے خلاف1۔1کیس بنانے کے بعد عملاً کمزوز سے کمزور ہوتا نظر آیا،پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی صرب المثل صادقی آتی یہاں بر سر اقتدار آنے والے ہمارے رہبر و رہنماء،ملکی قومی دولت کے محافظ ہی وہ وہ نہ ہرے جو انہیں ہونا چاہئے تھا،پاکستان کے آئین کی شق نمبر63N(1)کے تحت کوئی بھی ایسا شخص یا فردجو20لاکھ سے زائد کا قرضہ معاف کرائے کسی صورت رکن اسمبلی یا سینٹ نہیں بن سکتا اس کے باوجود پاکستان کی تاریخ ایسے عناصر سے بھری پڑی ہے جو ایوان و اقتدار میں ہی ہرد ور میں نظر آئیں گے یہ الگ بات ہے کہ کبھی وہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں کبھی حکومت میں قوم پر یہ بھی واضح رہے کہ یہاں اپوزیشن میں یا حکومت میں ہونا بہت تفریق ظاہر کرتا ہے مگر ایسا ویسا کچھ نہیں سب ڈرامہ گیری اور دادا گیری ہے،ملکی خزانے کو چاٹنے والوں کے انتخابات کے وقت کاغذات نامزدگی پر نہ تو متعلقہ ریٹرننگ افسران کو اعتراض ہوتا ہے نہ ہی الیکشن ٹریبونل کی آنکھ کھلتی ہے،1971سے1999تک 2.3ارب روپے،1999سے2009تک84.6ارب روپے،2009سے2015تک تو کمال ہی ہو گئی اس عرصہ میں 345.4ارب روپے قرض معاف کئے گئے کیونکہ جن کو معاف کیا گیا وہ غریب تھے،وہ یتیم تھے،روٹی سے تنگ تھے،مفلوس زدگی کے عالم سے زندگی سے عاجز تھے،قارئی کرام یہ ایسے یتیم،غریب،مفلس اور عاجز تھے،لولے اور لنگڑے تھے کہ آج بھی اقتدار کے ایوانوں تک ان کی رسائی ہے،ان با اثر افارد کو حکومت کی ملی بھگت سے بینکوں کے بڑے بڑے قرض آنکھ کے اشارے سے معاف ہو جاتے تھے،غریب عوام کا پیسہ ان رئیس زادوں اور سیاست دانوں کومنقل کرنے کا یہ انتہائی اوچھا،کمینہ اور بھونڈا طریقہ ہے،پاکستانی تاریخ مین سب سے زیادہ قرض280ارب روپے میاں برادران نے معاف کیا،اس گنگا میں شہیدبے نظیر، آصف علی زرداری پرویز مشرف نے بھی خوب ہاتھ دھوئے،سینٹ میں قرضمعاف کرنے والی فہرست 1990سے2015کے مطابق اس دوران988سے زائد کمپنیوں اور اعلیٰ شخصیات نے4کھرب،30ارب6کروڑ روپے معاف کرائے ان میں درجنوں ایسی کمپنیاں اور افراد بھی شامل ہیں جن کا قرض ایک ارب روپے سے زائد تھا، شرمناک بات تو یہ بھی کہ اس فہرست مین سابق چیرمین نیب سیف الرحمان ور جنرل (ر) امجد بھی شامل ہیں،باقی شخصیات میں گندھارا نسان کمپن کے مالک جنرل (ر)علی قلی خان،میجر جنرل (ر) عبدالقیوم خان،بریگیڈئیر(ر)حفیظ،سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری کے فرزند ارجمند ارسلان افتخار،ہاروں اختر ان کے کزن اور موجودہ حکومت کے کرتا دھرتا جہانگیر ترین،شیریں مزاری،جعفر لگاری،عبدالقادر بلوچ،عبدالستار بچائی،پرویز ملک،شائشہ ملک،دیوان عاشق بخاری،عاصمہ عالمگیر،علی چوہان،جام کمال وغیرہ شامل ہیں،آئین پاکستان موجود ہونے کے باوجود ریاست پاکستان میں قانون کا نفاذ سب کے لئے برابر ہے،بظاہر ایسا ہے مگر حقیقت میں کچھ ایسا نہیں قومی دولت ہڑپ کر جانے والے بڑے بڑے مگر مچھ نہ جانے کیسے قانونی جسے آہنی شکنجہ بھی کہا جاتا ہے سے کیسے با عزت باہر نکل جاتے ہیں،نیب نے جس پر بھی ہاتھ ڈالا ایک بار زمین آسمان ایک کر دیا اثر نہ رکھنے والے مر گئے اور بااثر کے خلاف عدالتوں میں ناقص ترین انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن کا پول کھل گیا اور وہ دودھ سے بال کی طرح صاف باہر نکل گئے،عدالتیں ثبوت مانگتی ہیں کئی ماہ تک انکوائری کرنے والے آفیسرز کی کاکردگی واضح اور عدالتوں میں کیس کا دفاع کرنے والوں کی زبان گونگی ہو جاتی ہے،اس میں تفتیشی آفیسرز کا کمال ہے یا پراسیکیوشن کی ہاتھ صٖفائی عوام کو آج تک اس بات کا علم نہیں ہو سکا،یونس حبیب،ڈاکٹر عاصم،شرجیل میمن،آصف زرداری،میاں نواز شریف،شہباز شریف،یوسف رضا گیلانی،راجہ پرویز اشرف،چوہدری شجاعت حسین،ایاز خان نیازی،نہ جانے اور کون کون،سپریم کورٹ نے پلی بارگین بارے از کود نوٹس کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھاقومی احتساب بیورو ملک میں بد عنوان عناصر کی معاونت کر رہا ہے اور یہ ان کا سہولت کار بنا ہوا ہے جس وجہ سے بد عنوانی کو جڑ سے اکھاڑنا نا ممکن دکھائی دیتا ہے، نیب پلی بارگین سمیت دیگر فیصلوں کو چیلنج کیوں نہیں کرتا؟ اسی سے اس کی کاکردگی اور مقاصد کا تعین کیا جا سکتا ہے نیب کی تاریخ ایسی باتوں سے بھری پڑی ہے،اوپر سے بر سر اقتدار حکومت نے نیب آرڈیننس میں تبدیلی کر دی جس پر ب راضی تھے سب یکجا تھے،آج تک ان کسی ایسی بات پر تو ایوان میں یکسوئی یا بحث نظر نہیں آئی جس کا تعلق براہ راست غریب عوام سے ہو،آج کل دنیا بھر میں کرونا وائرس نے تباہی مچا رکھی ہے پاکستان میں بھی اس حوالے سے انتہائی اقدامات اٹھائے گئے اور اٹھائے جا رہے ہیں مگر اپوزیشن کو اس کی فکر نہیں فکر ہے تو ایک میڈیا گروپ کے مالک کی،ان کی ساری توانائیاں اسی پر صرف نظر آتی ہیں،چیرمین نیب اور اس کی ٹیم میں کئی قابل تحسین افراد شامل ہیں جنہوں نے اپنی نہ کبھی دھمکیوں کی پرواہ کی نہ جان کی اور ان ہی گھر والوں کی وہ قومی مفادات میں ڈٹے رہے اور ڈتے ہوئے ہیں مگر ایک جانب حکومت نے انہیں باندھ دیا تو دوسری طرف محکمہ میں شامل کالی بھیڑوں نے ناقص ترین تفتیش کے ذریعے اور نا اہل پرایکیوشن نے عدالت میں گنگ زبانی کے ساتھ احتسابی عمل کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے،عجب تماشہ ہے کئی ماہ تک انکوائری،کئی ماہ تک حوالات،کئی ماہ تک جیل،پھر نہ ضمانت میں کوئی مسئلہ نہ بریت میں کوئی ٹینشن،ایسے میں چیرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال جو اکثر میڈیا پر لٹیروں کو للکارتے نظر آتے تھیحکومتی آرڈننس اور نا اہل پراسیکیوشن کی کاکردگی کے بعد خاموش نظر آتے ہیں،پاکستان میں جب تک معاشی دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں ہوتا تب تک غریب عوام کی نہ تو حالت بدلنے کا خواب پورا ہو سکتا ہے اور نہ ہی قومی سمیت کسی بہتر دھارے کی جانب گامزن ہو سکتی ہے،لٹیروں تم بہت طاقتور ہو ہم مان لیتے ہیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے