۔،۔جرمنی میں بسنے والی تمام کمیونٹی نے نظم و ضبط کا ثبوت دے دیا۔نذر حسین۔،۔

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔ جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے کامل قائدانہ مواصلات کی ایک عمدہ مثال قائم کرتے ہوئے جرمنی کے شہریوں سے نئے سال کی تقریر سے ہٹ کر کرونا وائرس پر خطاب فرمایا یہ ان کے دور حکومت میں پہلی بار ہوا ہے، ان کا فرمانا تھا کہ میرا پختہ یقین ہے کہ ہم اس عالمی وبا اور موزی مرض پر قابو پا لیں گے جس کے لئے کمیونٹی اپنی پوری ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ہماری ہدایات پر عمل کریں۔ پاکستان جرمن پریس کلب کے صدر سلیم پرویز بٹ نے شان پاکستان سے بات کرتے ہوئے فرمایا کہ عالمی وبائی امراض اللہ ربُ لکریم کی طرف سے عذاب کی ایک شکل ہوتی ہے جو نہ صرف غریبوں یا مسلمانوں پر نازل کی جاتی ہے بلکہ ہر خاص و عام خواہ وہ غریب ہو یا امیر، بادشاہ ہو یا فقیر، مسلمان، عیسائیChristianity، یہودیJudaism، ہندHinduismو، بدھ مت Buddhism تا اواسمس Taoism یہ چین میں پائے جاتے ہیں،کونفوسیازس Confucianism. یہ جاپان میں پائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ بھائی مذہب کے علاوہ تیس 30 اور بھی چھوٹے چھوٹے مذہب ہیں۔ ہمیں مسلمان ہونے کے ناطے اپنے فرائض اور واجبات کا خیال رکھنا چائیئے، تدابیر ہمارے علم کا حصّہ ہے، مذہبی شعور کا حصّہ ہیں ہمیں کہیں بھی یہ تعلیم نہیں دی گئی کہ ایک طرف لوگ علاج کر رہے ہوں اور تم بیٹھ کر منتر پڑھنا شروع کر دو،ہم اللہ تعالی کو ایسی ہستی کے طور پر مانتے ہیں جو محض فلسیوں کا محرک اول نہیں ایک قیوم ہستی ہے، زندہ اور بیدار ہستی ہے اُس کو اونگھ نہیں آتی وہ ہمارے ساتھ متعلق ہے اُس کے بارے میں سورہ یوسف میں بتایا گیا ہے آنے والی چیز کے بارے میں اس طرح تدبیر کرو،منصوبہ بندی کرو دنیا اسی اصول پر بنائی گئی ہے اس لئے دونوں چیزیں ضروری ہیں دعائیں بھی کریں اور علاج پر بھی توجہ دیں، حضرت عمر کے زمانہ میں جب قحط آیا تھا تو آپ نے قحط زدہ افراد کے لئے خیمہ بستیاں قائم کیں،روزانہ شام کو ذمہ دار افراد کو بلا کر رپورٹ لیا کرتے تھے،دوسرے علاقوں میں غلے کے لئے اور مدد کے لئے لوگوں کو بلا لیا انہوں نے زمانہ قحط میں اعلان کر دیا کہ چوروں کا ہاتھ نہ کاٹا جائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اجتماعی توبہ و استغفار کا بھی کھلے میدان میں اہتمام فرمایا خود پوری پوری رات کو سجدہ ریز ہو کر دعائیں مانگتے تھے۔جرمنی میں بسنے والی کمیونٹی نے نظم و ضبط کی مثال قائم کرتے ہوئے آج گھروں سے نہیں نکلے بہت کم افراد آپ کو باہر نظر آئے ہیں شاید صرف ایمرجنسی کے طور پر چند افراد گھر سے نکلے ہوں گے۔ کمیونٹی نے بتا دیا کہ ہم عالمی وباء pandemie کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ واضح رہے اس طریقہ سے یہ سبق بھی ہمیں دیا گیا ہے کہ ایک ملاح کی کشتی کو بھی بھنور میں تمہارا پروردگار براہ راست دیکھ رہا ہوتا ہے اس کو بچانا ہے یا نہیں اس لئے عرض ہے کہ ہمارے لئے یہ چیزیں ضروری ہیں علاج تدابیر اور دعائیں،اسی طرح بیماری کے بھی دو پہلو ہیں ایک سائنسی پہلو بیماری کن اسباب سے آئی ہے دوسرا میرا اور آپ کا کیا دخل ہے غلطی کہاں ہوئی ہے، غلطی تلاش کرو اور اس کا ازالہ کرو دوسری جانب ہمیں تعلیم دی گئی ہے جو کچھ ہوتا ہے اس مالک کی طرف سے ہوتا ہے اس لئے اُس کے سامنے بھی گڑگڑا ئیں کہ کوتاہیوں کے باوجود وہ قدرت رکھتا ہے وہ اس کائنات کا خالق ہے لیکن اس نے اپنی کتاب میں تعلیم دی ہے ایسی وبائیں میرے نُظُر ہوتے ہیں،عذاب کا دروازہ رسول اکرمﷺ کے بعد بند ہو گیا لیکن نُظُر (تنبیعات) کبھی موت کو جمع کرکے کبھی زلزلے،کبھی آندھی و طوفان اور کبھی وبائی مرض سے خُدا تنبیع کرتا ہے جو ہمارے بس میں نہیں رہتا ان دونوں کے حسین امتزاج سے ایک بندہ مومن کی شخصیت پیدا ہوتی ہے، یہ شخصیت ہے جسے ہمیں ہمہ وقت ساتھ لے کر چلنا ہے، یعنی تقدیر علم اس کا صیح شعور پھر ہم نہ تعمات میں مبتلا ہوں گے نہ اس کا شکار ہوں گے نہ ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے ایک طرف علاج کرنے والا معالج ہے تم جا کر دعا کرنا شروع کر دو، ہمیں کہا گیا ہے علاج کرو علاج کو دریافت کرو تمہیں بھی اسی طریقہ سے انسانیت کے لئے سرگرم ہونا چاہیئے جس طرح ہونے کا حق ہے لیکن دوسری طرف کامیابی کی تدبیروں کے لئے اپنے رب کے سامنے گڑگڑا کر د:عا ببھی مانگو یہ جو تنبیعات ہیں ہمیں ہر طرف سے ہمارے گناہوں کی طرف بھی متوجع کرتی ہیں، خدا سے بیگانگی کے بارے میں بیدار کرتی ہیں اس وقت بھی اگر آپ غور کریں تو اس عالمی وباء کورونا Coronaنے نہ صرف ہم مسلمانوں کو بلکہ پوری دنیا کو بھی خُدا یاد کروا دیا ہے، باقی دنیا بھی دعائیں کرنے لگ گئی ہے یہ ہی تنبیع کا پہلو ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کی طرف سے تنبیع ہے ہم بیٹھ جائیں ہم نے وہ سب کام کرنے ہیں جو اس سے بچاو کے ہیں اگر ہم نہیں کریں گے تو اللہ کے قانون کے مطابق یہ تنبیع بہت بڑی سزا بن جائے گی اس لئے کہ جو ہمیں اللہ تعالی نے علم و عقل دیا ہے اس کا استعمال نہ کرنا بھی برے نتائج کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے