۔،۔ وزیر اعظم پاکستان کو اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھ کر ذمہ داری اُٹھانی چاہیئے۔ نذر حسین۔،۔

شان پاکستان جرمنی۔ سائنس کی ترقی سے جہاں انسان کو بے شمار فائدے پہنچے ہیں وہاں پر ایسی مہلک ایجادات بھی ہوئی ہیں جنہوں نے انسانی زندگی کا سکون چھین لیا ہے، پہلے زمانے میں صرف تیر و تفنگ کا استعمال ہوتا تھا جس کا اثر صرف میدان جنگ تک ہی محدود ہوتا تھا مگر آج تمام کرہ زمین اور خلا اس کی زد سے باہر نہیں ہیں، ماہرین کو فیصلہ کرنا ہے اور اس کے لئے اقدامات بھی جہاں جہاں انسانیت نے نظم اجتماعی قائم کیا ہے انہوں نے ہی قدم اُٹھانا ہے ہمارے ہاں مسلمان ملکوں میں بھی ایسا تو نہیں ہے کہ ہم انفرادی زندگی بسر کر رہے ہیں ہر جگہ ایک اجتماعی نظریہ قائم ہے اُس اجتماعی نظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی جان،مال اور آبرو کی حفاظت کرے ایسے موقعہ پر تمام فیصلے انہی کو کرنے چاہیئں، کب کسی چیز کو بند کر دینا ہے، کب اور کون سی احتیاط برتنی ہے ایسے موقعوں پر فیصلے کئے جاتے ہیں ان میں تمام چیزیں ملحوظ رکھی جاتی ہیں جو لوگ نظم اجتماعی کو چلا رہے ہوتے ہیں وہ احمقانہ طریقے ا ختیار نہیں کرتے، فیصلہ کرنے سے پہلے ماہرین سے مشورہ کرتے ہیں،فیصلہ کیا جاتا ہے اس موقعہ پر احتیاط کی کیا نوعیت ہونی چاہیئے،کورونا وائرس میں اگر پاکستان کے پس منظر کو دیکھیں تو یہاں حکومت کو تدریجی طریقہ سے آگے بڑھنا چاہیئے بعض لوگ آپ میں متخالف ہیں اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان کو تمام اپوزیشن لیڈروں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیئے نہ کہ اکیلے فیصلہ تھوپ دینا چاہیئے شاید پاکستان پہلا ملک ہے اور عمران خان پہلے وزیر اعظم ہیں جو صرف اکیلے فیصلہ کر کے نہ جانے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ہم یورپ میں بسنے والوں کو علم ہے کہ ایسے حالات میں تمام اپوزیشن کو میز پر بٹھا دیا جاتا ہے اور دو تین دن تک سر جوڑ کر بیٹھنے کے بعد پوری سوچ و بچار کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے اور ملک کا وزیر اعظم جرمنی میں چانسلر اعلان کرتی ہے۔ جرمنی کی چانسلر سال میں صرف ایک بار نئے سال کی تقریب پر عوام سے خطاب کرتی ہے انجیلا میرکل کی 15 سالہ چانسلر شپ میں پہلی بار ہنگامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے قوم سے2 بارخطاب کیا ہے۔وزیر اعظم پاکستان کو سب سے رائے لینی چاہیئے اور متفقہ طور پر ہونے والا فیصلہ وزیر اعظم ہی عوام کو بتائے گا۔ آج وزیر اعظم پاکستان نے جب عوام سے خطاب کیا اگر آپ کو کورونا وائرس ہوتا ہے تو گھر پر رہیں یہ صرف ایک فَلُو ہے ایک ہفتہ کے بعد ٹھیک ہو جائے گا دوسری طرف فرما رہے ہیں کہ اگر کورونا پھیل گیا تو ہم اس پر قابو نہیں پا سکیں گے پھر وہ فرماتے ہیں ہماری قوم کے پچیس فی صد افراد غربت میں مبتلا ہیں ہگر ہم لاک ڈاوُن کریں گے تو ان کا کیا ہو گا، عمران خان اور ان کی ٹیم سوچ رہی ہے ابھی تک کسی فیصلہ تک نہیں پہنچ سکے میرے خیال میں اگر ہمارے ملک میں رکھی ہوئی رقم پر جو زکواۃ بنتی ہے وہ صحیح طریقہ پر تقسیم کی جائے اور مخیر حضرات سے بھی اپیل کی جائے اس کے ساتھ ساتھ علماء کرام بھی عوام سے اپیل کریں کہ مخیر حضرات اور پاکستان کی عوام اپنی زکواۃ رمضان سے پہلے غریبوں میں تقسیم کریں تو پچیس فی صد کا حل نکالا جا سکتا ہے۔میں ایک بار پھر وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کروں گا کہ وہ اس مشکل وقت میں اپوزیشن سے رابط کریں۔ مجھے اگر یہ معلوم ہے کہ کوئی چیز میرے لئے شدید نقصان کا باعث بنتی ہیتب بھی مجھے دوسری صورت پر چلا جانا چاہیئے اور اگر یہ معلوم ہو کہ دوسروں کے لئے نقصان کا باعث بن سکتی ہے پھر تو مجھ پر واجب ہے کہ میں اس معاملہ میں احتیاط کروں اب تک جو معلومات سامنے آئی ہیں یہ معلوم ہوتا ہے مسئلہ مجھے اپنی حفاظت کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ سنگینی کی طرف رواں دواں ہے دوسروں کی حفاظت کی ذمہ دارری بھی مجھ پر آن پڑی ہے ، میں باہر تکلتا ہوں لوگوں سے میل ملاپ رکھتا ہوں اس کا مطلب ہے کہ میں دوسروں کی زندگی کو خطرے میں ڈال رہا ہوں،جہاں تک فرد کا تعلق ہے اسے فوراََ اس معاملہ میں احتیاط کرنی چاہیئے،لوگ نماز گھر میں پڑھیں عبادت کریں جمعہ اور جماعت کی تلافی ذکر کثیر سے کریں دوسرں کے لئے خطرہ بن جانا اس کو ایک لمحے کے لئے بھی گوارہ نہیں کرنا چاہیئے ،ریاست کس لئے وجود پذیر کی جاتی ہے اس لئے کہ دوسرے انسان اپنے اختیار کو غلط استعمال کرتے ہیں اس کر روکنے کے لئے آپ ریاست کا نظم قائم کرتے ہیں ریاست کے نظم کی بنیادی ذمہ داری کیا ہے لوگوں کی جان مال و آبرو کی حفاظت کریں وہ وجود میں ہی اسی مقصد کے لئے لائی گئی ہے،اگر کوئی چیز لوگوں کی جان مال اور آبرو کے لئے خطرے کا باعث بن رہی ہے تو اس کو روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے قانون سازی کی بنیاد بھی یہی ہے یہ بالکل سادہ بات ہے اور اسی بنیاد پر تمام فیصلے کرنا چاہیئے، ہر ریاست کی یہ ذمہ داری ہے وہ صد ذریعہ کے لئے بھی قانون سازی کرے گی،

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے